ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ایل پی جی چارج کی وصولی پر پابندی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ
مرکزی حکومت نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کی جانب سے بل میں ایل پی جی یا ایندھن چارج لینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس عمل کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے
.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں صارفین سے اضافی "ایل پی جی چارج" یا اس سے ملتے جلتے دیگر ناموں سے رقم وصول کرنے کے رجحان پر سخت قدم اٹھاتے ہوئے اس پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے چارجز نہ صرف غیر شفاف ہیں بلکہ صارفین کے حقوق کے بھی خلاف ہیں، اس لیے ان پر سختی سے روک لگائی جا رہی ہے۔
صارف امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی صارف تحفظ اتھارٹی نے ان معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے، جہاں ہوٹل اور ریستوران اپنے بلوں میں "ایل پی جی فیس"، "گیس سرچارج" یا "ایندھن لاگت" جیسے اضافی چارج شامل کر رہے تھے۔ اتھارٹی نے اس عمل کو صارف تحفظ قانون 2019 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی رویہ قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق، بعض ادارے سروس چارج سے متعلق موجودہ رہنما اصولوں سے بچنے کے لیے اس طرح کے نئے ناموں سے رقم وصول کر رہے تھے، جس سے صارفین کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔ نئی ایڈوائزری میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ کوئی بھی اضافی چارج خودکار یا لازمی طور پر صارفین سے وصول نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ قومی صارف ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی شکایات اور میڈیا رپورٹوں کے جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ کئی ہوٹل اور ریستوران مینو میں درج قیمت کے علاوہ بل میں الگ سے ایسے چارجز شامل کر رہے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔
مرکزی صارف تحفظ اتھارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایل پی جی، بجلی اور دیگر ایندھن یا آپریشنل اخراجات کسی بھی کاروبار کی بنیادی لاگت کا حصہ ہوتے ہیں اور انہیں اشیا کی قیمت میں ہی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہیں الگ سے بطور لازمی فیس وصول کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اتھارٹی نے مزید واضح کیا کہ اب کوئی بھی ہوٹل یا ریستوران بل میں اس طرح کے چارجز شامل نہیں کرے گا اور مینو میں درج قیمت ہی حتمی تصور کی جائے گی، جس میں صرف قابل اطلاق ٹیکس الگ سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانہ اور دیگر قانونی اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔