بدحال ہندوستانی معیشت کو 21 روزہ لاک ڈاؤن سے ہو سکتا ہے 120 ارب ڈالر کا خسارہ

معاشی ماہرین نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن والے 21 دن ہندوستانی عوام کے لیے ہی مشکل نہیں گزریں گے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی اس کا بہت گہرا اثر پڑنے والا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پی ایم مودی نے جب 24 مارچ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ پورا ملک 21 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، تو ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اس کا ملک کی معیشت پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔ ایسی صورت میں جب کہ ہندوستان کی معیشت پہلے سے ہی خستہ حالی کی شکار ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے اٹھائے جا رہے اقدامات کا اثر بھی بہت زیادہ اس معیشت پر پڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ماہرین نے ایک اندازہ لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ ان 21 دنوں کے اندر ملک کی معیشت کو 120 ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

معیشت پر گہری نظر رکھنے والے کچھ ماہرین نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن والے 21 دن ہندوستانی عوام کے لیے ہی مشکل نہیں گزریں گے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی اس کا بہت گہرا اثر پڑنے والا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے دوران 120 ارب ڈالر یعنی تقریباً 9.12 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہندوستانی معیشت کو ہو سکتا ہے۔ ملک کے ایک مشہور بزنس چینل پر بھی معاشی معاملوں کے ماہرین نے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

کچھ نیوز پورٹلس پر شائع خبروں کے مطابق 120 ارب ڈالر کے خسارے کو اگر جی ڈی پی سے جوڑ کر دیکھا جائے تو مانا جا سکتا ہے کہ جی ڈی پی 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ دراصل لاک ڈاؤن کے سبب ملک میں صنعتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں، ٹرانسپورٹیشن خدمات پر بھی پابندی لگ گئی ہے اور پونجی حاصل کرنے کا حکومتوں کا ذریعہ بھی رک سا گیا ہے۔ اس وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک کی معاشی رفتار بے حد دھیمی ہو جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی کئی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے ہندوستان کی جی ڈی پی میں تیز گراوٹ کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اب تو آئی ایم ایف نے بھی صاف کر دیا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب عالمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ 2009 کے عالمی معاشی بحران سے بھی گہرا ہوگا۔