راجندر کمار کو ’میرے محبوب‘ میں اداکاری کے بعد مسلمان کیوں سمجھا جانے لگا تھا؟...برسی کے موقع پر خصوصی پیشکش

افواہ یہ اڑی کہ جس طرح سے دلیپ کمار نے اپنا نام محمد یوسف سے دلیپ کمار رکھ لیا تھا اسی طرح راجندر کمار نے بھی اپنا نام تبدیل کیا ہے اور ان کا اصل نام انور ہے

راجندر کمار / ویڈو گریب
راجندر کمار / ویڈو گریب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: بالی وڈ میں جوبلی کمار کے نام سے مشہور راجندر کماور نے کئی سپر ہٹ فلموں میں اپنی بہترین ادکاری سے ناظرین کو اپنا دیوانہ بنایا۔ راجندر کمار کو اپنے کیریئر کے آغاز میں کافی جد و جہد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ راجندر کمار کی پیدائش 20 جولائی 1929 کو پنجاب کے سیالکوٹ شہر میں ایک متوسط گھرانے میں ہوئی تھی۔ راجندر بچپن سے ہی اداکار بننے کا خواب دیکھا کرتے تھے۔

راجندر کمار جب اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے بمبئی پہنچے تو ان کی جیب میں صرف 50 روپے تھے۔ یہ پیسے بھی انہوں نے اپنے والد کی دی ہوئی گھڑی کو فروخت کرکے حاصل کئے تھے۔ان کی گھڑی 63 روپے میں فروخت ہوئی تھی ۔ ان پیسوں میں سے راجندر نے 13 روپے کا فرنٹیئر میل کا ٹکٹ خریدا تھا۔ بمبئی پہنچنے پر راجندر کمار کو نغمہ نگار راجندر کرشن کی مدد سے فلمساز و ہدایت کار ایچ ایس رویل کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے طور پر150 روپے ماہانہ پر کام کرنے کا موقع ملا۔


سال 1950 میں راجندر کمار کو پہلی بار دلیپ کے ساتھ فلم جوگن میں کام کرنے کا موقع ملا۔ سال 1950 سے 1957 تک وہ بالی وڈ میں مقام حاصل کرنے کے لئے جد وجہد کرتے رہے۔ جوگن فلم کے بعد انہیں جو بھی فلم ملی وہ اسے قبول کرتے چلے گئے۔ اس دوران انہوں نے طوفان اور دیا نیز آواز، ایک جھلک جیسی کئی فلموں میں اداکاری کی لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہوسکی۔

سال 1957 میں راجندر کمار کو محبوب خان کی مشہور فلم مدر انڈیا میں ایک ہزار روپے مہینہ کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم پوری طرح اداکارہ نرگس پر مبنی ہونے کے باوجود راجندر کمار نے اپنے چھوٹے سے کردار کے ذریعہ ناظرین کے دل جیت لئے۔ اس کے بعد ان کی گونج اٹھی شہنائی، قانون، سسرال، گھرانہ، آس کا پنچھی اور دل ایک مندر جیسی فلمیں منظر عام پر آئیں۔ ان فلموں نے راجندر کو اس مقام تک پہنچا دیا کہ وہ اپنی پسند کی فلموں کو انتخاب کرسکتے تھے۔


سال 1959 میں وجے بھٹ کی ریلیز ہونے والی بہترین موسیقی سے آراستہ فلم گونج اٹھی شہنا ئی ریلیز ہوئی جو راجندر کے فلمی کیریئر کی سب سے بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔ وہیں سال 1963 میں ریلیز ہونے والی فلم میرے محبوب کی زبردست کارمیابی کے بعد راجندر کمار شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

راجندر کمار کے ’میرے محبوب‘ میں اپنا کردار اس طرح سے نبھایا تھا کہ لوگ انہیں مسلمان ہی سمجھنے لگے تھے۔ راجندر کمار نے اس فلم میں انور حسین کا کردار ادا کیا تھا، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوتا ہے۔ افواہ یہ اڑی کہ جس طرح سے دلیپ کمار نے اپنا نام محمد یوسف سے دلیپ کمار رکھ لیا تھا اسی طرح راجندر کمار نے بھی اپنا نام تبدیل کیا ہے اور ان کا اصل نام انور ہے۔ راجندر کمار نے ایک انٹرویو میں خود اس کا اعتراف کیا تھا۔

راجندر کبھی کسی خاص امیج میں نہیں بندھے۔ اس لئے ان فلموں کی کامیابی کے بعد بھی انہوں نے سال 1964 میں ریلیز ہوئی فلم سنگم میں راج کپور کے ساتھ معاون ہیرو کا کردار قبول کرلیا جو ان کی فلمی شخصیت سے میل نہیں کھاتا تھا۔ اس کے باوجودیہاں بھی راجندر ، ناظرین کے دل جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ سال 1963 سے 1966 کے درمیان راجندر انے اپنی کامیابی کے سنہرے دور میں لگاتار چھ ہٹ فلمیں دیں۔ ان میں میرے محبوب ، زندگی، سنگم اور آئی ملن کی بیلا، آرزو اور سورج سبھی نے سنیما گھروں میں سلور جوبلی یا گولڈن جوبلی منائی۔ ان فلموں کے بعد راجندر کمار کے فلمی سفر کا ایسا سنہری دور بھی آیا جب بمبئی کے سبھی دس سنیما گھروں میں ان کی ہی فلمیں لگی اور سبھی فلموں نے سلور جوبلی منائی۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا۔ ان کی فلموں کی کامیابی کے پیش نظر ناظرین نے ان کا نام جوبلی کمار رکھ دیا تھا۔


راجیش کھنہ کی فلموں میں آمد کے بعد راجندر کمار کے پرستاروں کی ان کے لئے محبت کچھ کم ہونے لگی۔ اس دوران راجندر کمار نے فلموں سے کچھ وقت کے لئے بریک لیا اور سال 1978 کی فلم ساجن بنا سہاگن سے فلموں میں کریکٹر رول ادا کرنے کی شروعات کردی۔ راجندر کے فلمی سفر میں ان کی جوڑی سائرہ بانو، سادھنا اور وجنتی مالا کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ سال 1981 راجندر کمار کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ راجندر نے اپنے بیٹے کمار گورو کو فلموں میں متعارف کرانے کے لئے لو اسٹوری نامی فلم بنائی۔ جس کی فلمسازی اور ہدایت کاری کے فرائض راجندر ہی نے انجام دیئے۔یہ فلم باکس آف پر زبردست ہٹ ثابت ہوئی۔

اس کے بعد کمار گورو کے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لئے انہوں نے سنجے دت اور کمار گورو کے ساتھ فلم نام بنائی لیکن نام کی کامیابی کا سہرا سنجے دت کے سر بندھا اور فلم پھول بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے کمار گورو کا کریئر آگے نہیں بڑھ سکا۔راجندر کمار کے فلموں میں تعاون کے پیش نظر انہیں سال 1969 میں پدم شری سے نوازا گیا۔ 90 کی دہائی میں انہوں نے فلموں میں کام کرنا کافی کم کردیا۔ اپنی بہترین اداکاری سے ناظرین کے دلوں پر حکومت کرنے والے راجندر کمار نے چار دہائیوں پر محیط اپنے فلمی سفر میں تقریباً 85 فلموں میں کام کیا۔ ان کی دیگر فلموں میں طلاق، سنتان، دھول کا پھول، پتنگ، دھرم پتر، ہمراہی، آئی ملن کی بیلا، بن پھیرے ہم تیرے شامل ہیں۔

زندگی کے آخری دنوں میں وہ کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا ہوگئے اور 12 جولائی 1999 کو ہندوستانی فلموں کا یہ ستارہ سب کو الوداع کہہ گیا۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔