ویشنو دیوی مندر میں 550 کروڑ روپے کی ہیر پھیر کا معاملہ، عدالت نے تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا

جموں کی سی جے ایم عدالت نے ویشنو دیوی مندر میں تقریباً 20 ٹن چاندی میں مبینہ گڑبڑی اور 550 کروڑ روپے کی بے ضابطگی کے الزام پر پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے شواہد فوری محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

جموں: ایسے وقت میں جب ایودھیا کے رام مندر میں چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں، اب شری ماتا ویشنو دیوی شرائن سے بھی ایک سنگین مالی بے ضابطگی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، جموں کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) عدالت نے مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے چڑھائی گئی تقریباً 20 ٹن چاندی میں مبینہ گڑبڑی اور تقریباً 550 کروڑ روپے کی مبینہ ہیر پھیر کے معاملے میں پولیس کو تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے اور تمام شواہد فوری طور پر محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

سی جے ایم منیش کمار منہاس نے 29 جولائی کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ تحقیقات سے متعلق تمام ضروری شواہد کو محفوظ رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی تبدیلی، تلفی یا چھیڑ چھاڑ نہ ہو سکے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کی ہے۔

یہ معاملہ وکیل دیپک شرما کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد عدالت تک پہنچا۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ عقیدت مندوں کی طرف سے شرائن میں چڑھائی گئی تقریباً 20 ٹن چاندی میں ملاوٹ، رد و بدل اور غبن کیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 550 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔


عدالت میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق، دیپک شرما نے سب سے پہلے 9 مئی کو جموں کرائم برانچ اور اقتصادی جرائم ونگ کو شکایت دی تھی۔ شکایت مختلف پولیس دفاتر سے ہوتی ہوئی آخرکار ریاسی پولیس کے ذریعے کٹرا کے ڈی ایس پی کو تحقیقات کے لیے سونپی گئی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اب تک اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے اور تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

29 جولائی کی سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ مندر میں موجود باقی چاندی، اس کے نمونے، والٹ کا ریکارڈ، وزن کے رجسٹر، لیبارٹری اور دیگر رپورٹس، سرکاری ٹکسال سے متعلق دستاویزات اور چاندی کی منتقلی سے وابستہ تمام ریکارڈ فوری طور پر محفوظ کیے جائیں۔

اس کے علاوہ درخواست میں سی سی ٹی وی فوٹیج، الیکٹرانک انوینٹری، سرکاری ای میلز، سرور لاگز، آڈٹ ٹریل، اکاؤنٹنگ ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کو بھی محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ کسی بھی قسم کا ڈیٹا حذف یا تبدیل نہ کیا جا سکے۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ اگر چاندی کو پگھلا دیا گیا، ریفائن کر دیا گیا یا کمپیوٹر ڈیٹا حذف ہو گیا تو شواہد کی جانچ، وزن اور خالصیت کی تصدیق ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی ہے۔ عدالت نے ان دلائل کو قابل غور مانتے ہوئے ڈی ایس پی، بھون کٹرا کو فوری طور پر شواہد محفوظ رکھنے اور جاری تحقیقات کی تفصیلی رپورٹ اگلی سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت دی۔


وکیل دیپک شرما نے عدالتی حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ معاملہ براہ راست عدالت کی نگرانی میں آ گیا ہے۔ ان کے مطابق ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ کوئی بھی مادی، دستاویزی یا ڈیجیٹل ثبوت ضائع، تبدیل یا حذف نہ ہونے پائے، کیونکہ یہ معاملہ کروڑوں عقیدت مندوں کے اعتماد اور مذہبی جذبات سے جڑا ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔