سنسر بورڈ کی نئی کمیٹی میں سنیل شیٹی، پنکج ترپاٹھی اور پریتی زنٹا سمیت 18 اراکین شامل
پنکج ترپاٹھی نے حالیہ برسوں میں کئی ایسے کردار ادا کیے ہیں جن میں ان کی اداکاری کی تعریف ہوئی ہے۔ انہوں نے 2024 میں آئی فلم ’میں اٹل ہوں‘ میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا کردار ادا کیا تھا۔

مرکزی حکومت نے مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ یعنی سنسر بورڈ کی ازسرنو تشکیل کی ہے۔ اس بورڈ میں فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات، کچھ فلمی صحافی اور کچھ مصنفین و ادب سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ نئے بورڈ میں مجموعی طور پر 18 اراکین ہیں۔ ان میں اداکار پنکج ترپاٹھی، سنیل شیٹی، منوج جوشی، پروسنجیت چٹرجی، اداکارہ پریتی زنٹا، روپالی گانگولی اور پلّوی جوشی وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اس میں ونود انوپم، ابھیشیک جین، رکی کیج، پریہ درشن، ہنس راج ہنس، سپریا یارلگڈا، یتیندر مشرا، نیل مادھو پانڈا، نشی گندھا واڈ، وامن کیندر اور رمیش پتنگے کے نام بھی ہیں۔
اگر بورڈ میں شامل اراکین کی بات کی جائے تو پنکج ترپاٹھی ایک منجھے ہوئے اداکار ہیں اور حالیہ برسوں میں انہوں نے کئی ایسے کردار ادا کیے ہیں جن میں ان کی اداکاری کی تعریف ہوئی ہے۔ پنکج ترپاٹھی نے 2024 میں ریلیز ہوئی فلم ’میں اٹل ہوں‘ میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری سے متعلق فلم ’تاشقند فائلز‘ میں بھی پنکج ترپاٹھی نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ سنسر بورڈ میں شامل بالی ووڈ اداکار سنیل شیٹی کی 90 کی دہائی کی کئی فلمیں کافی مقبول ہوئی تھیں حالیہ دنوں میں وہ فلم ’ویلکم ٹو جنگل‘ میں نظر آئے تھے۔ پریتی زنٹا بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ہیں، انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1998 میں فلم ’دل سے‘ سے کیا تھا۔ وہ انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم پنجاب کنگز کی شریک مالک بھی ہیں۔
بورڈ کے ایک اور رکن یتیندر مشرا ہیں جو ایودھیا کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد وملیندر موہن پرتاپ مشرا ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ کے رکن تھے۔ یتیندر مشرا فلم اور موسیقی کی دنیا کے بارے میں لکھتے رہے ہیں۔ لتا منگیشکر پر لکھی ان کی کتاب کے لیے انہیں نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا تھا۔ اس کے علاوہ وہ نیشنل فلم ایوارڈ کمیٹی کی مختلف جیوری میں بھی رہے ہیں۔ سنسر بورڈ کی کمیٹی میں اداکارہ روپالی گانگولی بھی ہیں جو اس وقت مغربی بنگال میں بی جے پی کی رکن اسمبلی ہیں۔ وہیں ایک اور رکن ہنس راج ہنس گلوکار اور بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ایک اور رکن فلم اور ٹی وی اداکار منوج جوشی ہیں جو بی جے پی کے حامی ہیں اور بی جے پی کے لیے انتخابی مہم بھی چلا چکے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر گجرات سے تعلق رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ بورڈ کی کمیٹی میں شامل افراد سنیما، موسیقی، ادب اور فنون کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ سنسر بورڈ کا کام فلموں کو سرٹیفکیٹ دینے سے متعلق ہے اور اس کے فیصلوں کا فلموں کی ریلیز پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ نئے بورڈ کی تشکیل کے ساتھ اب ان 18 ارکان کا کردار فلم سرٹیفکیشن سے متعلق معاملات میں اہم ہوگا۔ سنسر بورڈ کے قواعد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور فی الحال یہ سنیماٹوگراف ایکٹ اور 2024 کے فلم سرٹیفکیشن قواعد کے تحت کام کرتا ہے۔ نئے اراکین کی مدت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہوگی۔
سنسر بورڈ کے چیئرمین ششی شیکھر ویمپتی ہیں، جن کی تقرری رواں سال مئی میں ہوئی تھی۔ ان سے پہلے نغمہ نگار پرسون جوشی سنسر بورڈ کے چیئرمین تھے، لیکن پرساد بھارتی کو چیئرمین مقرر کیے جانے کے بعد انہوں نے سنسر بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد ششی شیکھر ویمپتی کو مقرر کیا گیا تھا۔ ششی شیکھر ویمپتی فلموں سے وابستہ نہیں ہیں۔ وہ ایک ٹیکنوکریٹ ہیں اور پرساد بھارتی کے سی ای او کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہیں جنوری 2026 میں پدم شری سے نوازا گیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
