تنوجہ: بے باک اداکاری سے دلوں پر راج کرنے والی اداکارہ
تنوجہ نے اپنی بے باک اداکاری، بے ساختہ انداز اور زندہ دل شخصیت سے ہندی اور علاقائی سنیما میں منفرد مقام بنایا۔ 23 ستمبر کو ان کی سالگرہ پر ان کے شاندار فلمی سفر کو یاد کیا جا رہا ہے

تنوجہ بالی ووڈ کی ان خوبصورت، باصلاحیت اور بے باک اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اپنی بے ساختہ اداکاری، دلکش انداز اور زندہ دل شخصیت سے کئی دہائیوں تک فلمی شائقین کے دلوں پر راج کیا۔ ان کی شخصیت میں معصومیت، شوخی، بے تکلفی اور سنجیدگی کا ایسا امتزاج تھا جس نے انہیں اپنے عہد کی دوسری اداکاراؤں سے منفرد بنا دیا۔ 23 ستمبر کو ان کی سالگرہ کے موقع پر ان کے شاندار فلمی سفر کو یاد کیا جا رہا ہے۔
تنوجہ نے ہندوستانی سنیما کے بلیک اینڈ وائٹ دور سے لے کر رنگین فلموں کے عہد تک کا سفر دیکھا اور اپنی اداکاری کے ذریعے ہر دور میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ وہ ان اداکاراؤں میں شامل تھیں جنہوں نے پردۂ سیمیں پر خواتین کے روایتی کرداروں سے ہٹ کر اپنی شخصیت اور اداکاری میں بے باکی کا مظاہرہ کیا۔ یہی انداز آگے چل کر ان کی شناخت بن گیا۔
23 ستمبر 1943 کو ممبئی میں پیدا ہونے والی تنوجہ کا تعلق ایک معروف فلمی خاندان سے تھا۔ ان کے والد کمارسین سمرتھ شاعر اور فلم ساز تھے، جبکہ ان کی والدہ شوبھنا سمرتھ اپنے زمانے کی معروف اداکارہ تھیں۔ ان کی بڑی بہن نوتن بھی ہندوستانی سنیما کی ممتاز اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔
تنوجہ نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ 1950 میں اپنی والدہ کے ہوم پروڈکشن کی فلم ’ہماری بیٹی‘ سے کیا۔ اسی فلم سے ان کی بڑی بہن نوتن نے بھی اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ بعد میں تنوجہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ گئیں، جہاں انہوں نے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانیں بھی سیکھیں۔
ان کی والدہ نے تنوجہ کو بطور اداکارہ فلموں میں متعارف کرانے کے لیے 1958 میں ’چھبیلی‘ بنائی، جو تنوجہ کی پہلی فلم تھی جس میں انہوں نے مرکزی اداکارہ کے طور پر کام کیا۔ 1961 میں ریلیز ہونے والی ’ہماری یاد آئے گی‘ ان کے کریئر میں اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ان کی اداکاری کو شائقین نے پسند کیا اور انہیں فلمی دنیا میں ایک سنجیدہ اور باصلاحیت اداکارہ کے طور پر شناخت ملنے لگی۔
تنوجہ کی اداکاری کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا بے تکلف اور بے ساختہ انداز تھا۔ وہ پردے پر اپنے کردار کو محض ادا نہیں کرتیں بلکہ اسے اپنی شخصیت کی توانائی سے زندہ کر دیتی تھیں۔ ان کی بے باکی کا انداز فلموں تک محدود نہیں تھا۔ وہ اپنی نجی زندگی میں بھی کھلے مزاج اور بے تکلف طبیعت کے لیے جانی جاتی تھیں۔ فلمی دنیا میں ان کے کئی دلچسپ واقعات بھی مشہور رہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہیما مالنی نے اپنی اداکاری سے ناظرین کو ہمیشہ مسحور کیا
ہندی فلموں کے علاوہ تنوجہ نے بنگالی سنیما میں بھی اپنی الگ شناخت قائم کی۔ بنگالی فلموں میں ان کی جوڑی اتم کمار اور سومتر چٹرجی کے ساتھ پسند کی گئی۔ انہوں نے گجراتی، مراٹھی، ملیالم اور پنجابی زبانوں کی فلموں میں بھی کام کیا اور یوں ان کا فلمی سفر صرف ہندی سنیما تک محدود نہیں رہا۔
تنوجہ کے فلمی کریئر میں راجیش کھنہ کے ساتھ ان کی جوڑی بھی خاصی مقبول رہی۔ 1967 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پیسہ یا پیار‘ کے لیے انہیں بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ ان کی دیگر قابل ذکر ہندی فلموں میں ’نئی عمر کی نئی فصل‘، ’بھوت بنگلہ‘، ’بہاریں پھر بھی آئیں گی‘، ’جویل تھیف‘، ’دو دونی چار‘، ’جینے کی راہ‘، ’گستاخی معاف‘، ’پوتر پاپی‘، ’بچپن‘، ’ہاتھی میرے ساتھی‘، ’دور کا راہی‘، ’میرے جیون ساتھی‘، ’دو چور‘، ’ایک بار مسکرا دو‘، ’انوبھو‘، ’امیر غریب‘، ’امتحان‘، ’پریم روگ‘، ’بے خودی‘، ’ساتھیا‘ اور ’خاکی‘ شامل ہیں۔
1973 میں تنوجہ نے فلم ساز شومو مکھرجی سے شادی کی۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں، کاجول اور تنیشا مکھرجی۔ کاجول نے بعد میں ہندی فلم انڈسٹری میں اپنی الگ اور کامیاب شناخت قائم کی، جبکہ تنیشا مکھرجی نے بھی اداکاری کے میدان میں قسمت آزمائی۔
تنوجہ کی خوبصورتی، بے ساختہ اداکاری اور زندہ دل شخصیت آج بھی ان کے مداحوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ انہوں نے جس دور میں فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنائی، وہ ہندوستانی سنیما کی تاریخ کا ایک اہم زمانہ تھا۔ ان کی اداکاری کے انداز، منفرد شخصیت اور یادگار کرداروں نے انہیں فلمی تاریخ میں ایک نمایاں مقام دیا۔ تنوجہ کا نام ان اداکاراؤں میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا جنہوں نے اپنی صلاحیت، بے باکی اور قدرتی اداکاری سے پردۂ سیمیں پر ایک ناقابل فراموش نقش چھوڑا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
