سبھاش گھئی کا پیغام: نوجوان اے آئی کو دشمن نہیں، معاون اوزار سمجھیں
معروف فلم ساز سبھاش گھئی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اے آئی کو دشمن نہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیت بڑھانے والا معاون اوزار سمجھیں اور کام کے ذریعے اپنی پہچان قائم کریں

ممبئی: ہندی سنیما کے معروف ہدایت کار سبھاش گھئی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک معاون اوزار کے طور پر اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں کسی بھی فرد کی اصل پہچان اس کی باتوں سے نہیں بلکہ اس کے کام سے ہوگی۔
سبھاش گھئی نے انسٹاگرام پر ایک خصوصی پوسٹ کے ذریعے اپنی معروف فلموں کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کو نئی سوچ اور توانائی کے ساتھ آگے بڑھنے کا پیغام دیا۔ ان کی کامیاب فلموں میں رام لکھن، سوداگر، کھلنایک، نایک، پردیس اور تال جیسے نام شامل ہیں، جنہیں آج بھی شائقین قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ کام اتنا معیاری ہونا چاہیے کہ وہ خود اپنی پہچان بن جائے اور اسے بار بار بیان کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ ان کے مطابق فلم ساز یا تخلیق کار کو ہمیشہ اپنے فن کو بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ ناظرین فلم کو یاد رکھتے ہیں، بنانے والے کو نہیں۔
سبھاش گھئی نے کہا کہ وقت کے ساتھ سیکھتے رہنا اور نئی چیزوں کو قبول کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالیں اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں۔
اے آئی کے حوالے سے انہوں نے لکھا کہ اسے اپنی ’تیسری آنکھ‘ کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے، جو نئی سمت اور نئے خیالات دکھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی تخلیقی صلاحیت کو کمزور نہیں کرتی بلکہ اسے مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے درست انداز میں استعمال کیا جائے۔
واضح رہے کہ سبھاش گھئی کافی عرصے سے بڑے پردے سے دور ہیں، تاہم وہ اپنے تعلیمی ادارے وسلنگ ووڈس انٹرنیشنل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس ادارے کے ذریعے انہوں نے کئی نوجوان فنکاروں اور فلم سازوں کو تربیت دی ہے اور نئی صلاحیتوں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔