یہ شخص پریشان سا کیوں ہے، شہریار کے یوم پیدائش پر خاص

شہریار نے جس دور میں شاعری شروع کی، اس دور میں علی گڑھ بہترین شاعروں، ادیبوں اور مصنفوں کا گڑھ تھا، اسی ماحول میں شہریار نے اپنا خاص لہجہ پیدا کیا اور دوسروں سے مختلف پہچانے جانے لگے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اقبال رضوی

ایک ایس ایچ او کا بیٹا، اسکول میں ہاکی کا بہترین کھلاڑی، ایک دن اردو کے ایک بڑے شاعر کو اسٹیج پر سننے کا موقع ملا، وہاں کے ماحول نے ایسا اثر کیا کہ اس لڑکے کے دماغ میں ایک ہی تصویر بار بار بننے لگی کہ وہ اسٹیج پر شاعری سنا رہا ہے اور لوگ سن رہے ہیں۔

آہستہ آہستہ شعر کہنے کی بے چینی نے اس جگہ تک پہنچا دیا کہ آخر کار انگلیوں نے کچھ لکھ ڈالنے کے لئے قلم اٹھا لیا؎ اگلے دو سال میں ہاکی کا وہ روشن کھلاڑی باقاعدہ شاعر بن چکا تھا، نام تھا اخلاق محمد خاں، لیکن پہچانے گئے شہریار کے نام سے۔

اخلاق محمد خاں عرف شہریار کی پیدائش 16 جون 1936 کو تحصیل انولا، ضلع بریلی میں ہوئی۔ اگرچہ ان کے باپ دادا ضلع بلند شہر کے تھے، والد پولس افسر تھے اور جگہ جگہ تبادلے ہوتے رہتے تھے، لہذا ابتدائی تعلیم ہردوئی میں مکمل کرنے کے بعد انہیں 1948 میں علی گڑھ بھیج دیا گیا۔ والد چاہتے تھے کہ شہریار انہیں کے قدموں پر چلتے ہوئے پولس افسر بن جائیں، لیکن اخلاق محمد خاں کو تو 'شہریار' بننا تھا، تو والد کا خواب پورا کرنے میں انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

1961 میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا، 1966 میں وہ اے ایم یو کے اردو سیکشن میں لیکچرر مقرر ہوئے، 1965 میں ہی ان کا پہلا شاعری مجموعہ 'اسم اعظم' شائع ہو چکا تھا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہی 1983 میں ریڈر اور 1987 میں پروفیسر ہوکر وہ 1995 میں ریٹائر ہوئے۔

شہریار نے جس دور میں شاعری شروع کی، اس دور میں علی گڑھ بہترین شاعروں، ادیبوں اور مصنفوں کا گڑھ مانا جاتا تھا، یہیں شہریار نے اپنا خاص لہجہ پیدا کیا اور دوسروں سے مختلف پہچانے گئے، وہ موضوع کو سنجیدگی سے الفاظ میں پروتے تھے اور آہستہ آہستہ سدھے ہوئے لہجے میں اپنی بات کا اظہار کرتے تھے، پھر چاہے بات زندگی کے فلسفے کی ہو یا سیاست کی۔

تمہارے شہر میں کچھ بھی نہیں ہوا ہے کیا

کہ تم نے چیخوں کو سچ مچ سنا نہیں ہے کیا

میں ایک زمانے سے حیران ہوں کہ حاکم شہر

جو ہو رہا ہے اسے دیکھتا نہیں ہے کیا


زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے

ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے

آج بھی ہے تیری دوری ہی اداسی کا سبب

یہ الگ بات کی پہلے سی نہیں کچھ کم ہے

شہریار اردو سکھانے کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کرتے رہے، اب یہ محض اتفاق تھا کہ انہیں فلموں میں گیت لکھنے کا موقع ملا، دراصل مظفر علی اور شہریار علی گڑھ میں طالب علمی کی زندگی سے دوست تھے، مظفر علی نے جب 'گمن' فلم بنائی تو شہریار سے گانا لکھنے کو کہا۔اور اس فلم کی ایک غزل "سینے میں جلن سانسوں میں طوفان سا کیوں ہے" تو تقریباً 40 سال بعد آج بھی اتنی ہی مقبول ہے، پھر مظفر علی کی فلم 'امرا ؤ جان ادا' کے گیتوں نے تو دھوم مچا دی، اس کے بعد انهوں نے یش چوپڑا کی فلم 'فاصلے' میں گیت لکھے، انہوں نے مظفر علی کی 'جونی' کے گانے لکھے، وہ ریکارڈ بھی ہوئے لیکن فلم پوری نہیں بن سکی، لہذا گانے ریلیز نہیں ہوئے۔

مظفر علی ایک فلم 'دامن' کی ہدایت کر رہے تھے، اس میں بھی نغمات شہریار کے تھے، مظفر علی کی ہی ایک اور فلم 'انجمن' کے گیت بھی انہوں نے لکھے، یہ شہریار کی بدقسمتی تھی کہ انہوں نے جن فلموں کے لئے گانے لکھے، ان میں بیشتر فلمیں ریلیز ہی نہیں ہو سکیں۔

شہریار فلم تحریر کرنے کو دوئم درجے کا نہیں مانتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ "فلم کا ہمارے معاشرے پر گہرا اثر ہے، فلم ایک ایسا ذریعے رہا ہے جس کا معاشرے میں فوری طور پر اثر دکھائی دیتا ہے، طویل عرصے تک فلم ہمارے معاشرے میں تفریح کا سب سے اہم ذریعہ رہا ہے۔

ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا، بچچے ہوں یا جوان یا بوڑھے تمام فلموں میں دلچسپی رکھتے ہیں، "لیکن شہریار ہمیشہ چاہتے تھے کہ فلم کا موضوع ایسا ہو جو ان کو لکھنے پر مجبورکرے۔

شہریار خاموشی سے لکھنے اور کم بولنے کے لیے جانے جاتے تھے، تمام عمر سکھانے کے بوجود وہ ادب پر کبھی تقریر نہیں کرتے تھے، ان کے بہت سے شعری مجموعہ شائع ہوئے، "خواب کا در بند ہے" مجموعہ کے لئے انہیں ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ بھی ملا، ہنگاموں سے دور اپنے اندر کے سناٹے میں مگن رہ کر خاموشی سے زندگی گزارنے والے شہریار کا 13 فروری 1912 کو انتقال ہو گیا۔

سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے

اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

دل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے

پتھر کی طرح بے حس و بے جان سا کیوں ہے

تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو

تا حد نظر ایک بیابان سا کیوں ہے

ہم نے تو کوئی بات نکالی نہیں غم کی

وہ زود پشیمان پشیمان سا کیوں ہے

کیا کوئی نئی بات نظر آتی ہے ہم میں

آئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے

(اس غزل کو شہریار نے 1979 میں بنی فلم "گمن" کیلئے لکھا تھا.)

زندگی جیسی توقع تھی نہیں کچھ کم ہے

ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے

اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگی

دل میں امید تو کافی ہے یقیں کچھ کم ہے

اب جدھر دیکھیے لگتا ہے کہ اس دنیا میں

کہیں کچھ چیز زیادہ ہے کہیں کچھ کم ہے

آج بھی ہے تری دوری ہی اداسی کا سبب

یہ الگ بات کہ پہلی سی نہیں کچھ کم ہے

اب جدھر دیکھئے لگتا ہے کہ اس دنیا میں

کہیں کچھ چیز زیادہ ہے کہیں کچھ کم ہے

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔