رشی کپور: رومانوی ہیرو سے منفرد کرداروں تک چار دہائیوں کا یادگار سفر

رشی کپور نے ’میرا نام جوکر‘ سے فلمی سفر شروع کیا اور ’بوبی‘ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔ رومانوی ہیرو کے بعد مختلف کرداروں میں بھی اپنی اداکاری کا لوہا منوایا اور 2020 میں انتقال کر گئے

<div class="paragraphs"><p>رشی کپور / آئی اے این ایس</p></div>
i

بالی ووڈ میں رشی کپور کا نام ایک ایسی اداکار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے تقریباً چار دہائیوں تک اپنی دلکش شخصیت، رومانوی انداز اور بااثر اداکاری سے سنیما کے شائقین کو محظوظ کیا۔ انہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا، نوجوانی میں رومانوی ہیرو کے طور پر مقبولیت حاصل کی اور زندگی کے آخری برسوں میں مختلف النوع کرداروں سے اپنی اداکاری کی وسعت ثابت کی۔

رشی کپور 4 ستمبر 1952 کو ممبئی میں پیدا ہوئے۔ انہیں اداکاری کا فن ورثے میں ملا تھا۔ ان کے والد راج کپور ہندوستانی سنیما کے معروف اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز تھے۔ گھر کے فلمی ماحول نے رشی کپور کو بھی کم عمری میں ہی اداکاری کی جانب راغب کیا۔

انہوں نے 1970 میں اپنے والد کی فلم ’میرا نام جوکر‘ سے بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی سفر شروع کیا۔ فلم میں انہوں نے ایک ایسے نوجوان کا کردار ادا کیا جو اپنی ٹیچر کی محبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ رشی کپور نے اس کردار کو اس خوبصورتی سے نبھایا کہ شائقین اور ناقدین کی توجہ حاصل کرلی۔ اس فلم میں ان کی اداکاری پر انہیں بہترین چائلڈ آرٹسٹ کا قومی فلم ایوارڈ بھی ملا۔

’میرا نام جوکر‘ باکس آفس پر توقع کے مطابق کامیاب نہ ہوسکی، جس کے باعث راج کپور کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی حالات میں انہوں نے کم بجٹ میں ایک نوجوان محبت کی کہانی بنانے کا فیصلہ کیا۔ 1973 میں ریلیز ہونے والی ’بوبی‘ میں رشی کپور کے مقابل 16 سالہ ڈمپل کپاڈیہ کو متعارف کرایا گیا۔ راج کپور کی ہدایت میں بننے والی اس فلم نے زبردست کامیابی حاصل کی اور رشی کپور راتوں رات نوجوان نسل کے پسندیدہ اداکار بن گئے۔ ڈمپل کپاڈیہ کے لیے بھی یہ فلم بطور اداکارہ ایک شاندار آغاز ثابت ہوئی۔


’بوبی‘ کی کامیابی کے بعد رشی کپور نے کئی فلموں میں کام کیا، تاہم ابتدائی دور کی بعض فلمیں کمزور کہانی اور ہدایت کاری کے باعث کامیاب نہ ہوسکیں۔ 1975 میں ریلیز ہونے والی ’کھیل کھیل میں‘ نے انہیں دوبارہ کامیابی کی راہ پر گامزن کیا۔ فلم میں نیتو سنگھ ان کی ہیروئن تھیں اور دونوں کی جوڑی شائقین میں بے حد مقبول ہوئی۔ بعد میں رشی کپور اور نیتو سنگھ نے ’زہریلا انسان‘، ’زندہ دل‘، ’کبھی کبھی‘، ’امر اکبر انتھونی‘، ’دوسرا آدمی‘ اور ’دھن دولت‘ سمیت متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔

1977 کا سال رشی کپور کے کیریئر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ من موہن دیسائی کی ہدایت میں بننے والی ’امر اکبر انتھونی‘ میں انہوں نے اکبر الہ آبادی کا کردار ادا کیا۔ ان پر فلمائی گئی قوالی ’پردہ ہے پردہ‘ آج بھی مقبول ہے۔ اسی سال ریلیز ہونے والی ’ہم کسی سے کم نہیں‘ میں ان کے رقص اور اداکاری کو بھی بے حد پسند کیا گیا اور فلم کا گیت ’بچنا اے حسینوں، لو میں آگیا‘ مقبول ہوا۔

کے وشوناتھ کی تلگو فلم ’سری سری مووا‘ کے ہندی ریمیک ’سرگم‘ نے بھی رشی کپور کے کیریئر میں اہم مقام حاصل کیا۔ اس فلم میں ان کی اداکاری پر انہیں پہلی بار بہترین اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ 1980 میں سبھاش گھئی کی ہدایت میں بننے والی ’قرض‘ نے ان کی مقبولیت کو مزید مستحکم کیا۔ فلم کے گیت ’اوم شانتی اوم‘ اور ’دردِ دل دردِ جگر‘ آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔

1982 میں ریلیز ہونے والی ’پریم روگ‘ میں رشی کپور نے ایک سنجیدہ اور حساس کردار ادا کرکے اپنی اداکاری کا نیا پہلو سامنے رکھا۔ فلم کی کہانی بنیادی طور پر خواتین کے مسائل کے گرد گھومتی تھی، تاہم رشی کپور نے اپنے کردار کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ یش چوپڑہ کی 1989 کی فلم ’چاندنی‘ میں بھی انہوں نے رومانوی اور سنجیدہ، دونوں انداز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔


1990 کی دہائی میں رشی کپور نے اداکاری کے ساتھ فلم سازی اور ہدایت کاری میں بھی قسمت آزمائی۔ 1996 میں انہوں نے ’پریم گرنتھ‘ بنائی، جب کہ 1999 میں ’آ اب لوٹ چلیں‘ کی ہدایت کاری کی۔ دونوں فلمیں باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل نہ کرسکیں، لیکن اس مرحلے کے بعد رشی کپور نے خود کو محض رومانوی ہیرو تک محدود رکھنے کے بجائے کردار اداکار کے طور پر بھی منوانا شروع کردیا۔

2009 میں ’لو آج کل‘ میں ان کی بااثر اداکاری پر انہیں بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ بعد کے برسوں میں ’اگنی پتھ‘، ’دو دن؟‘، ’فنا‘، ’ملک‘، ’ڈی ڈے‘، ’اورنگ زیب‘ اور ’دی باڈی‘ سمیت کئی فلموں میں انہوں نے مختلف اور یادگار کردار ادا کیے۔

رشی کپور نے اپنے تقریباً چار دہائیوں پر محیط فلمی سفر میں ڈیڑھ سو کے قریب فلموں میں کام کیا۔ 4 ستمبر ان کی پیدائش کا دن ہے اور ہر سال ان کی سالگرہ پر ان کی فلمیں، گیت اور کردار ایک بار پھر انہیں سنیما کے شائقین کے درمیان زندہ کردیتے ہیں۔

رشی کپور 30 اپریل 2020 کو کینسر کے باعث 67 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، لیکن بھارتی سنیما میں ان کا کام اور ان کی یاد آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔