فولاد ی جسم والا ویلن ’گنجا شیٹّی‘
آپ آج کے ایکشن فلم ڈائریکٹر روہت شیٹی کو تو اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن شاید آج کی نسل اس ’گنجا شیٹی‘ کو زیادہ نہیں جانتی، جس کے بغیر ہندی فلموں کی ہر فائٹ اور ایکشن سین نامکمل لگتے تھے۔

شیٹی کاچہرہ پردے پر نظر آتے ہی جسم میں سنسناہٹ دوڑ جاتی تھی۔ فولاد ی بدن، ٹھہری ہوئی آنکھیں، چہرے پر سنجیدگی ، جب ہم شیٹی کو یاد کرتے ہیں تو یہ تصویر ذہن میں ابھرآتی ہے۔ ناظرین میں وہ گنجا شیٹی کے نام سے مشہور تھے۔ فائٹ سین میں جب تک شیٹی نظر نہیں آتے تھے لوگوں کو پورا مزہ نہیں آتا تھا۔ لیکن شیٹی نے جتنا کام پردے پر کیا اس سے کئی گنا زیادہ کام انہوں نے پردے کے پیچھے رہ کر کیا۔ وہ اپنے وقت کے مصروف ترین فائٹ مین اور اسٹنٹ ڈائریکٹر تھے جنہوں نے تقریباً 25 سالوں تک 700 فلموں میں اپنا تعاون دیا، جو کہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس دوران 40 بار شیٹی کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹیں۔
میسور کے نزدیک پیدا ہوئے مُدّو بابو شیٹّی کا پڑھائی میں ذرا بھی دل نہیں لگتا تھا۔ جبکہ اقتصادی طور پر کمزور ان کے کسان والد کو فکر تھی کہ وہ کچھ کام دھندے پر لگ جائے تو خاندان کا سہارا بنے۔ ایک دن والد نے رشتہ کے ماما کے ساتھ 9 برس کے مدو بابو کو ممبئی بھیج دیا۔ انہیں یقین تھا کہ ممبئی میں مدو بابو کچھ نہ کچھ کام تو کر ہی لے گا۔ یہ بات 1947 کی ہے۔ کچھ ہی دنوں میں مدو بابو کو لیمنگ ٹنگ روڈ پر واقع ہوٹل پنجاب میں برتن دھونے کا کام مل گیا۔
مدو بابو کی عمر جب 16 سال ہوئی تو انہیں ٹاٹا آئل مل شیوری کی کینٹین میں ویٹر کی نوکری مل گئی۔ تنخواہ تھی 12 روپے مہینہ۔ ٹاٹا آئل مل میں ملازمین شام کو باکسنگ بھی کرتے تھے۔ مدو بابو بھی باکسنگ سیکھنے لگے۔ کینٹین کے منیجر مینن کو مدو بابو کا اخلاق اور رِنگ میں ان کی چستی کافی پسند تھی ۔انہوں نے مدو بابو کی باکسنگ کے لئے مسلسل حوصلہ افزائی کی۔ کچھ ہی مہینوں کے بعد مدو بابو نے ٹاٹا مل کا باکسنگ مقابلہ جیت لیا۔ اگلے سال وہ ممبئی باکسنگ مقابلہ میں چیمپین بن گئے اور ان کی تنخواہ 75 روپے مہینہ ہو گئی۔ والد نے جب یہ سنا تو راحت کی سانس لی کہ ان کا بیٹا ترقی کر رہا ہے۔
اسٹنٹ مین بابو راؤ پہلوان اور اداکار، تخلیق کار اور ہدایت کار بھگوان بھی ایک دن باکسنگ کا مقابلہ دیکھنے پہنچ گئے۔ بابو راؤ نے مدو بابو کے سامنے فلموں میں کام کرنے کی تجویز پیش کی۔ اگلے ہی دن وہ جاگرتی اسٹوڈیو پہنچے جہاں مدو بابو اور بابو راؤ پہلوان کا فائٹ سین شوٹ کیا گیا۔ اس کام کے لئے مدو بابو کو 200 روپے ملے۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنے سے کام کے لئے اتنے زیادہ پیسے مل گئے۔ بس اسی دن سے مدوبابو نے طے کر لیا کہ وہ فلموں میں کام کریں گے۔ پھر مدو بابو نے اپنے دور کے عظیم اسٹنٹ ڈائریکٹر عظیم بھائی کو اپنا استاد بنا لیا اور ان سے تلوار بازی اور گھڑسواری سیکھی۔ اب مدو بابو فلموں کے لئے اپنا نام شیٹی استعمال کرنے لگے۔ فلموں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ شیٹی باکسنگ کے مقابلوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ وہ 8 سالوں تک ممبئی کے باکسنگ چیمپین رہے۔
پچاس کی دہائی میں مدو بابو نے کئی ہیرو کے لئے فائٹ سین کئے۔ شیٹی کو 1955 میں آئی فلم ’منیم جی‘ میں پہلی بار اسٹنٹ ڈائریکٹر بننے کا موقع حاصل ہوا۔ اسی سال فلم ’تاتار کا چور ‘ میں انہیں پردے پر بھی دکھایا گیا۔ تم سا نہیں دیکھا 1957، ڈٹیکٹیو 1958، ٹیکسی اسٹینڈ 1959، قیدی نمبر 911 1959 ایسی فلمیں ہیں جن میں شیٹی کا جلوہ پردے پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس وقت اسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر شیٹی کے استاد عظیم بھائی، ماسٹر غنی، بابو راو ٔ پہلوان اور ماسٹر سینڈو کی طوطی بول رہی تھی لیکن نوجوان شیٹی پردے پر اور پردے کے پیچھے بھی اپنی طاقت اور ہنر کی بدولت فلم سازوں کو اپنی طرف مائل کر رہے تھے۔ ان کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ انہیں فلم ’تم سلامت رہو 1959‘ میں بطور ہیرو سائن کیا گیا۔ اس فلم میں ان کی ہیروئن پرسس کھبانٹا تھی لیکن تھوری شوٹنگ ہونے کے بعد کام رک گیا۔
پھر 1960 کے بعد تو شیٹی کے لئے فلموں کی قطار لگ گئی۔ ہندی کے علاوہ ان کے پاس کنڑ فلموں کی بھی پیشکش آنے لگیں۔ فلم این ایوننگ ان پیرس اور نائٹ ان لندن میں نوجوان شیٹی سر منڈوا کر پردے پر نظر آئے۔ ان کے اس انداز کو اتنا پسند کیا گیا کہ آگے زندگی بھر انہیں اسی روپ میں پردے پر نمودار ہونا پڑا اور ناظرین انہیں گنجا شیٹی کہنے لگی۔ شیٹی میں تمام طرح کی خوبیاں ہونے کے باوجود ایک کمی تھی کہ وہ ہندی زبان ٹھیک طرح بول نہیں پاتے تھے۔ اس لئے کئی مواقع پر انہیں ویلن کا کام نہیں مل پایا۔ حالانکہ للکار، کالی چرن، شالی مار، ڈان، فقیرہ، شنکر دادا، کہانی قسمت کی جیسی فلموں میں شیٹی کو پردے پر کافی وقت ملا۔ شیٹی نے تقریباً 700 فلموں میں اپنا تعاون دیا، ویلن کے طور پر بھی اور اسٹنٹ یا فائٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی۔
ایک وقت ایسا بھی آیا جب شیٹی کے پاس ایک ہی وقت میں 50 سے 60 فلمیں ہوا کرتی تھیں۔ آخری وقت میں ان کے جسم پر لگے زخم انہیں پریشان کرنے لگے اور دل دہلا دینے والے فائٹ سین کرپانا ان کے لئے مشکل ہو گیا۔ ان کی زندگی کے آخری ڈیڑھ سال ان کی دوسری بیوی کتھک ڈانسر ونودنی نے ڈانس کی کلاسز لے کر گھر کا خرچ چلایا۔ ایک وقت جس مدو بابو کی بہادری اور دلیری کے قصّے مشہور تھے وہ آخری وقت میں بے بس ہوگیا تھا اورآخر 23 جنوری 1982 میں اس دنیا ئے فانی کو الوداع کہہ گئے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 23 Jan 2018, 6:18 PM