’او ساتھی رے، تیرے بنا بھی کیا جینا‘، کلیان جی کی 26ویں برسی پر یادگار دھنوں کا سفر
کلیان جی ویر جی شاہ کی 26ویں برسی پر ان کی یادگار موسیقی کو خراج عقیدت۔ آنند جی کے ساتھ ان کی جوڑی نے ’او ساتھی رے‘، ’قسمیں وعدے پیار وفا‘ اور ’زندگی کا سفر‘ جیسے لازوال نغمے دیے

موسیقی کی دنیا میں کچھ دھنیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی کشش نہیں کھوتیں۔ ان میں محبت، جدائی، خوشی، غم اور زندگی کے مختلف رنگ اس طرح سمٹ جاتے ہیں کہ وہ صرف ایک فلم کا حصہ نہیں رہتیں بلکہ کئی نسلوں کی یادوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ کلیان جی ویر جی شاہ بھی ایسے ہی موسیقار تھے، جنہوں نے اپنے چھوٹے بھائی آنند جی ویر جی شاہ کے ساتھ مل کر ہندی فلمی موسیقی کو بے شمار یادگار دھنیں دیں۔ 24 اگست 2000 کو کلیان جی کے انتقال کے بعد ان کی 26ویں برسی کے موقع پر ان کی موسیقی کو یاد کرنا دراصل ایک ایسے فن کار کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جس کی دھنیں آج بھی زندہ ہیں۔
کلیان جی ویر جی شاہ کی پیدائش 30 جون 1928 کو گجرات کے کچھ علاقے کے کنڈروڈی میں ہوئی تھی۔ بچپن ہی سے انہیں موسیقی سے گہری دلچسپی تھی اور وہ موسیقار بننے کا خواب دیکھتے تھے۔ انہوں نے کسی باقاعدہ استاد سے موسیقی کی تعلیم حاصل نہیں کی، لیکن موسیقی کے شوق، مشاہدے اور مسلسل محنت نے انہیں اس میدان میں آگے بڑھایا۔
اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کلیان جی ممبئی پہنچے۔ وہاں ان کی ملاقات معروف موسیقار ہیمنت کمار سے ہوئی اور انہوں نے ان کے معاون کے طور پر کام شروع کیا۔ اس دوران انہوں نے فلمی موسیقی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے سمجھا۔ 1950 کی دہائی میں انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور ’سمراٹ چندرگپت‘ سمیت ابتدائی فلموں میں موسیقی دی، لیکن فوری طور پر انہیں وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کے وہ خواہش مند تھے۔
اسی دور میں ان کے چھوٹے بھائی آنند جی بھی موسیقی کی طرف راغب ہوئے۔ دونوں بھائیوں نے مل کر کام شروع کیا اور ان کی موسیقی کی جوڑی کلیان جی–آنند جی کے نام سے مشہور ہوئی۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس مشترکہ سفر میں دونوں نے تقریباً 250 فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی۔
1960 کی دہائی میں اس جوڑی کو نمایاں کامیابیاں ملنے لگیں۔ فلم ’چھلیا‘ نے انہیں مقبولیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور ’ڈم ڈم ڈگا ڈگا‘ اور ’چھلیا میرا نام‘ جیسے نغمے عوام کی زبان پر آگئے۔ اس کے بعد ’ہمالیہ کی گود میں‘ اور ’جب جب پھول کھلے‘ جیسی فلموں نے ان کی پوزیشن مزید مضبوط کردی۔
1965 میں ’ہمالیہ کی گود میں‘ کی کامیابی کے بعد کلیان جی–آنند جی کا شمار کامیاب موسیقاروں میں ہونے لگا۔ ان کی موسیقی میں ہندوستانی لوک اور کلاسیکی روایت کے ساتھ جدید فلمی موسیقی کا امتزاج نمایاں تھا۔ یہی خصوصیت انہیں اپنے دور کے دوسرے موسیقاروں سے الگ کرتی تھی۔
فلم ساز اور ہدایت کار منوج کمار کے ساتھ ان کی شراکت بھی خاص طور پر یادگار رہی۔ ’اپکار‘ کے نغمے ’قسمیں وعدے پیار وفا‘ نے سامعین کے دل جیت لیے، جبکہ ’پورب اور پچھم‘ میں ’دلہن چلی، وہ پہن چلی تین رنگ کی چولی‘ اور ’کوئی جب تمہارا ہردے توڑ دے‘ جیسے نغموں نے ان کی مقبولیت کو مزید بڑھایا۔
1968 کی فلم ’سرسوتی چندر‘ ان کے مشترکہ فلمی سفر کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ ’چندن سا بدن‘، ’چھوڑ دے ساری دنیا‘ اور ’میں تو بھول چلی بابل کا دیش‘ جیسے نغموں نے فلم کی موسیقی کو لازوال بنا دیا۔ اس فلم کے لیے کلیان جی–آنند جی کو بہترین موسیقی کی کیٹیگری میں نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔
1970 کی دہائی میں بھی اس جوڑی کی کامیابی کا سلسلہ جاری رہا۔ وجے آنند کی فلم ’جانی میرا نام‘ میں ’نفرت کرنے والوں کے سینے میں پیار بھر دوں‘ اور ’پل بھر کے لیے کوئی مجھے پیار کر لے‘ جیسے نغموں نے رومانوی موسیقی میں ان کی منفرد شناخت قائم کی۔ اسی دور میں ’سچا جھوٹا‘ کے لیے ’میری پیاری بہنیاں بنے گی دلہنیاں‘ جیسا گیت مقبول ہوا، جو آج بھی شادی کی تقریبات میں سنا جاتا ہے۔
کلیان جی–آنند جی کی موسیقی کا ایک اور یادگار پڑاؤ فلم ’مقدر کا سکندر‘ تھا۔ اس فلم کا نغمہ ’او ساتھی رے، تیرے بنا بھی کیا جینا‘ آج بھی ان کی سب سے مقبول دھنوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح ’زندگی کا سفر‘ اور ’کیا خوب لگتی ہو‘ جیسے گیتوں نے ان کی موسیقی کو عوام کے دلوں میں مزید گہرا مقام دیا۔
1974 کی فلم ’کورا کاغذ‘ کے لیے بھی دونوں بھائیوں کی موسیقی کو بے حد سراہا گیا۔ فلم کا نغمہ ’میرا جیون کورا کاغذ‘ خاص طور پر مقبول ہوا اور اسی فلم کے لیے کلیان جی–آنند جی کو فلم فیئر کا بہترین موسیقار کا ایوارڈ ملا۔
موسیقی کے میدان میں ان کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے 1992 میں کلیان جی اور آنند جی کو پدم شری سے نوازا۔ ان کی موسیقی میں کبھی لوک دھنوں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے تو کبھی کلاسیکی راگوں کی گہرائی، جبکہ کئی نغموں میں مغربی سازوں اور جدید ترتیب کا خوب صورت امتزاج بھی دکھائی دیتا ہے۔
تقریباً چار دہائیوں تک اپنے بھائی آنند جی کے ساتھ مل کر فلمی موسیقی کو یادگار دھنیں دینے والے کلیان جی ویر جی شاہ 24 اگست 2000 کو 72 برس کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ ایک عہد کا اختتام ضرور ہوا، لیکن ان کی موسیقی کا سفر ختم نہیں ہوا۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
