مادھوری دکشت نے دلکش اداؤں سے ناظرین کو دیوانہ بنایا

مادھوری دکشت کی قسمت کا ستارہ سال 1988 میں آئی فلم ’تیزاب’ سے چمکا۔ یہ فلم باکس آف پر زبردست ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم میں مادھوری دکشت نے انل کپور کی محبوبہ کا کردار ادا کیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>مادھوری دکشت، تصویر یو این آئی</p></div>

مادھوری دکشت، تصویر یو این آئی

user

یو این آئی

(سالگرہ 15 مئی کے موقع پر)

ممبئی: بالی ووڈ میں مادھوری دکشت کا نام ایک ایسی اداکارہ کے طور پر لیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی دلکش اداؤں سے تقریباً تین دہائیوں تک ناظرین کے دلوں میں اپنی خاص شناخت قائم رکھی، مادھوری دکشت کی پیدائش 15 مئی 1967 کو ممبئی میں ایک متوسط طبقہ کے مراٹھی برہمن خاندان میں ہوئی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ممبئی سے حاصل کی۔ اس کے بعد مادھوری نے ممبئی یونیورسٹی میں ‘مائکرو بایولوجسٹ‘ بننے کے لیے داخلہ لے لیا۔ اس دوران انہوں نے تقریباً آٹھ برس تک كتھك ڈانس کی تربیت بھی حاصل کی۔ مادھوری دکشت نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1984 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم ’ابودھ‘ سے کیا لیکن کمزورا سکرپٹ اور ہدایت کی وجہ سے فلم باکس آفس پر بری طرح رد کر دی گئی۔ سال1984 سے 1988 تک وہ فلموں میں جگہ بنانے کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔

’ابودھ‘ کے بعد انہیں جو بھی کردار ملا وہ اسے قبول کرتی چلی گئیں۔ اس دوران انہوں نے ’سواتی‘، ’آوارہ‘، ’باپ‘، ’زمین‘، ’مہرے‘، ’حفاظت’ اور ’اتردکشن‘ جیسی کئی دوسرے درجے کی فلموں میں اداکاری کی، لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ مادھوری دکشت کی قسمت کا ستارہ سال 1988 میں آئی فلم ’تیزاب’ سے چمکا۔ یہ فلم باکس آف پر زبردست ہٹ ثابت ہوئی۔اس فلم میں مادھوری دکشت نے انل کپور کی محبوبہ کا کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ‘ایک، دو تین‘ ان دنوں سامعین کے درمیان کافی مقبول ہوا تھا۔ فلم کی کامیابی کے بعد مادھوری دکشت فلم انڈسٹری میں صحیح شناخت حاصل کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئیں۔ اسی برس انہیں ونود کھنہ کے ساتھ فلم ’دیاوان‘ میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن اس سے انہیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔


سال 1990 میں مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم ’دل‘ ریلیز ہوئی۔ فلم میں مادھوری دکشت اور عامر خان کی جوڑی کو شائقین نے کافی پسند کیا۔ ان کی یہ فلم بھی باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی، ساتھ ہی فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے مادھوری دکشت کو اپنے فلمی کیریئر کا پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل ہوا۔ سال 1991 مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر کا اہم سال ثابت ہوا۔اس سال ان کی اداکاری کے نئے رنگ ناظرین کو دیکھنے کو ملے۔ اس سال ان کی ’100 ڈیز‘، ’ساجن‘، ’پرہار‘ جیسی فلمیں ریلیز ہوئی۔ ان فلموں کی کامیابی نے مادھوری دکشت شہرت کی بلنديوں پر پہنچا دیا۔

سال 1992 میں مادھوری دکشت کی ایک اور اہم فلم ’بیٹا‘ ریلیز ہوئی۔ سال 1994 میں راج شری پروڈکشن کے بینر تلے بنی فلم ’ہم آپ کے ہیں کون‘ مادھوری دکشت کی بہترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ خاندانی پس منظر پر بنی اس فلم میں ان کی جوڑی سلمان خان کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ اس فلم میں ان پر فلمایا گیا نغمہ ’’دیدی تیرا دیور دیوانہ ‘‘ان دنوں سامعین کے درمیان کافی مقبول ہو اتھا۔ اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور آل ٹائم گریٹیسٹ ہٹس میں شمار ہو گئی۔ 90 کی دہائی میں مادھوری دکشت پر یہ الزام لگنے لگے کہ وہ صرف گلیمرس کردار ہی ادا کرسکتی ہیں۔ اس تصور سے باہر نکلنے میں ان کی مدد ہدایت کار پرکاش جھا نے کی اور انہیں لے کر فلم ’مرتیو دنڈ‘ بنائی۔ اس فلم میں انہوں نے ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کیا جو اپنے شوہر کی موت کا بدلہ لیتی ہے۔ اس کے علاوہ شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی ہٹ رہی فلم’ انجام‘ بھی کافی پسند کی گئی۔


2002 میں مادھوری دکشت کو شرت چندر کے مشہور ناول ’دیوداس‘ پر مبنی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ سنجے لیلا بھنسالی کی اس فلم میں ’چندرمكھی‘ کے اپنے کردار سے انہوں نے شائقین کا دل جیت لیا اور اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین معاون اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی گئیں۔ مادھوری دکشت کے فلمی کیریئر میں ان کی جوڑی اداکار انیل کپور کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ انل کپور کے علاوہ ان کی جوڑی سلمان خان، شاہ رخ خان کے ساتھ بھی کافی پسند کی گئی۔ انہیں پانچ بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی سنیما میں ان کی شراکت کے پیش نظر 2008 میں انہیں پدم بھوشن کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

سال 1999 میں مادھوری کی شادی کیلی فورنیا کے ہند نژاد ڈاکٹر سری رام نینے سے ہوگئی۔ سال2002 میں ریلیز ہوئی فلم ’ہم تمہارے ہیں صنم‘ کے بعد مادھوری دکشت نے فلموں سے کنارہ کر لیا اور ازدواجی زندگی میں مصروف ہوگئیں۔ سال 2007 میں فلم ’آجا نچ لے‘ کے ذریعے انہوں نے بالی وڈ میں اپنے فلمی کیریئر کی دوسری اننگز شروع کی، لیکن یہ فلم کچھ خاص کامیابی حاصل نہیں سکی۔ جس کے بعد انہوں نے پھر فلم انڈسٹری سے کچھ دنوں کے لئے کنارا کر لیا۔ مادھوری دکشت نے سال 2013 میں ریلیز ہوئی فلم ’یہ جوانی ہے دیوانی‘ سے ایک بار پھر فلموں میں واپسی کی۔ اس کے بعد انہوں نے ’ڈیڑھ عشقیہ‘ اور ’گلابی گینگ‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔ مادھوری کی فلموں کی فہرست کافی طویل ہے ان کی مشہور فلموں میں ’تری دیو‘،’پرندہ‘، ’تھانیدار‘، ’عزت دار‘، ’دل تیرا عاشق‘، ’جمائی راجہ‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ آج کل مادھوری بڑے پردے کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن پر بھی مصروف ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔