حسن اور اداکاری کی منفرد سنگم ہے جیہ پردا

عظیم فلمساز ستیہ جیت رے جیہ پردہ کی خوبصورتی اور اداکاری سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ وہ جیہ پردہ کو دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سے ایک سمجھتے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>جیہ پردا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

جیہ پردا، تصویر آئی اے این ایس

user

یو این آئی

(3 اپریل سالگرہ کے موقع پر)

ممبئی: بالی ووڈ میں جیہ پردا ان چنندہ اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جن کی خوبصورتی اور اداکاری کا منفرد سنگم دیکھنے کو ملتا ہے، عظیم فلمساز ستیہ جیت رے جیہ پردہ کی خوبصورتی اور اداکاری سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ وہ جیہ پردہ کو دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سے ایک سمجھتے تھے ستیہ جیت رے انہیں لے کر ایک بنگلہ فلم بنانے والے تھے لیکن صحت خراب ہونے کی وجہ ان کا یہ منصوبہ ادھورا ہی رہ گیا۔ جیہ پردا کا اصل نام للیتا رانی ہے، ان کی پیدائش آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں راجامندری میں 3 اپریل 1962 کو ایک متوسط خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کرشنا تیلگو فلموں کے ڈسٹری بیوٹر تھے۔ بچپن سے ہی جیہ پردہ کا رجحان رقص کی جانب تھا ان کی ماں نيلاونی نے رقص کے طرف ان کے بڑھتے رجحان کو دیکھ لیا اور انہیں رقص سیکھنے کے لیے داخلہ دلا دیا۔

چودہ برس کی عمر میں جیہ پردہ کو اپنے اسکول میں رقص پروگرام پیش کرنے کا موقع ملا جسے دیکھ کر ایک فلم ڈائریکٹر ان سے کافی متاثر ہوئے اور اپنی فلم ’بھومی كوسم‘ میں ان سے رقص کرنے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ بعد میں اپنے والدین کے زور دینے پر جیہ پردہ نے فلم میں رقص کرنا قبول کر لیا۔ 1977 میں جیہ پردا کی فلم ’اداوی راماڈو‘منظرعام پر آئی جس نے باکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے اور مستقل طور پر انہیں اسٹار کا درجہ ملا۔ اس فلم میں انہوں نےاداکار این ٹی راما راو کے ساتھ کام کیا اور شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔ انھوں نے تیلگو فلموں کے علاوہ تمل، ملیالم اور کنڑ زبان کی فلموں میں بھی قسمت آزمائی اور وہ سبھی فلموں میں کامیاب رہیں۔


سال 1979 میں کے وشوناتھ نے فلم ’’سری سری موا‘‘(1976) کا ہندی ریمیک ’’سرگم‘‘ نام سے بنا کر جیہ پردہ کو بالی ووڈ سے متعارف کرایا۔ یہ فلم زبردست ہٹ ہوئی اور وہ راتوں رات یہاں بھی اسٹار بن گئیں اور بطور بہترین اداکارہ پہلی بار فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد بھی کی گئیں۔ سرگم کی کامیابی کے بعد انہوں نے لوک پرلوک، ٹکر، ٹیکسی ڈرائیور اور پیارا ترانہ جیسی کئی فلموں میں کام کیا لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔

ہدایت کار کے وشوناتھ نے 1982 میں فلم ’’کام چور‘‘ کے ذریعہ انہیں ہندی فلموں میں دوبارہ لانچ کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہندی فلموں میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں اور اس فلم میں پہلی بار وہ فراٹے دار ہندی بولتی نظر آئیں۔ سال 1984 میں پرکاش مہرہ کی سپرہٹ فلم ’شرابی‘ جلوہ گر ہوئی جس میں انہوں نے سپراسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان پر فلمایا نغمہ ’دے دے پیار دے‘ ناظرین کے درمیان اُن دنوں کریز بن گیا تھا۔


جیہ پردا کو ایک مرتبہ پھر 1985 میں کے وشوناتھ کی فلم ’’سنجوگ‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے کیرئیر کی ایک زبردست سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے اپنے چیلنجنگ کردار سے ناظرین کا دل جیت لیا۔ اپنے بالی ووڈ کے فلمی سفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے جنوب میں بھی فلموں میں کام کرنا جاری رکھا۔ 1986 میں انھوں نے فلمساز سری کانت ناہٹا سے شادی کرلی لیکن فلموں میں کام کرنا جاری رکھا اس دوران ان کی گھرانہ، اعلان جنگ، مجبور اور شہزادے جیسی فلمیں منظرعام پر آئیں جن میں جیہ پردا کے مختلف انداز شائقین کو دیکھنے کو ملے۔

سال 1992 میں ریلیز فلم ’ماں‘ ان کے کیرئیر کی اہم فلموں میں شمار کی جاتی ہے اس فلم میں انہوں نے ایک ایسی ماں کا کردار نبھایا جو اپنی بے وقت موت کے بعد اپنے بچے کو دشمنوں سے بچاتی ہے۔ اس فلم میں جذباتی کردار نبھاکر انہوں نے ناظرین کو محظوظ کر دیا۔ ان کی جوڑی جیتندر اور امیتابھ کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ انہوں نے تقریبا تین دہائی تک اپنے طویل کیریئر میں 200 سے زائد فلموں میں کام کیا ہے ۔ ہندی فلموں کے علاوہ تیلگو، تمل، مراٹھی ، بنگلہ، ملیالم اور کنڑ فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ جیہ پردا ان دنوں سیاسی حلقے میں سرگرم ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔