شمی کپور کی اہلیہ کے ایک مشورے نے بدلا انداز، ’یاہو‘ نے بنایا سپر اسٹار

شمی کپور کو ابتدائی فلموں میں کامیابی نہیں ملی، مگر گیتا بالی کی حوصلہ افزائی اور اپنی جدوجہد نے انہیں منفرد اداکاری کا انداز اپنانے میں مدد دی۔ ’تم سا نہیں دیکھا‘ اور ’جنگلی‘ نے انہیں شہرت دلائی

تصویر سوشل میڈیا
i

شمی کپور کا نام آتے ہی کھلے بازو، بے قابو رقص، شوخ مسکراہٹ اور ’یاہو!‘ کی گونج ذہن میں آتی ہے۔ ان کے ہاں گانا محض گانا نہیں، کردار کی شوخی اور بے فکری کا اظہار تھا۔ مگر ان کی باغی شناخت کے پیچھے ایک اور فنکارہ کا اعتماد بھی تھا—ان کی اہلیہ گیتا بالی۔

شمی کپور 21 اکتوبر 1931 کو بمبئی میں پرتھوی راج کپور کے گھر پیدا ہوئے۔ 1953 میں ’جیون جیوتی‘ سے فلمی سفر شروع کیا، مگر ابتدائی برسوں میں انہیں مسلسل کامیابی نہ ملی۔ وہ سنجیدہ اور رومانوی کردار آزماتے رہے، لیکن اپنی الگ اسکرینی پہچان نہ بنا سکے۔ نامور والد اور بڑے بھائی راج کپور کے درمیان اپنی شناخت بنانا بھی آسان نہ تھا۔ فلمی خاندان سے تعلق نے دروازہ تو کھولا، مگر ان کا جسمانی انداز اس وقت کے روایتی ہیرو کے سانچے میں نہیں بیٹھتا تھا۔ جھک کر چلنا اور غیرمعمولی حرکات ابتدا میں کمزوری سمجھی گئیں، جو بعد میں ان کا امتیاز بنیں۔

اسی دور میں گیتا بالی ان کی زندگی میں آئیں۔ وہ خود کامیاب اداکارہ تھیں؛ دونوں نے 1955 میں شادی کی۔ فلم ’رنگین راتیں’ کی شوٹنگ کے دوران دونوں کی قربت بڑھی؛ گیتا اور شمی نے اس فلم میں ساتھ کام کیا۔ شمی کی اداکاری میں بعد میں نمایاں ہونے والی بے ساختگی اور شوخی کے پیچھے گیتا کی حوصلہ افزائی کا ذکر ان کے بیٹے آدتیہ راج کپور نے کیا ہے۔ ان کے مطابق، گیتا نے شمی کو اعتماد اور شخصیت دی، اور ان کے رقص میں انہیں اپنی والدہ کی زندہ دلی دکھائی دیتی تھی۔ خود شمی اپنی کامیابی کا سہرا گیتا کے سر باندھتے تھے: وہ ان پر یقین رکھتی تھیں اور بار بار کہتی تھیں کہ وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔

اس لیے گیتا کے کردار کو کسی جادوئی نسخے یا ایک جملے میں سمیٹنا درست نہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی اہم محرک تھی، مگر نیا انداز آزمانے اور خطرہ مول لینے کا فیصلہ شمی نے خود کیا۔ ’تم سا نہیں دیکھا‘ (1957) ان کے کیریئر کا فیصلہ کن موڑ بنی۔ شمی نے بعد میں کہا کہ وہ والد اور بھائی کے انداز سے آگے بڑھ کر الگ شناخت چاہتے تھے۔ فلم میں مغربی لباس، تیز اداکاری اور رقص نے ایک نیا امتزاج پیش کیا۔ ان کی شخصیت میں راک اینڈ رول اور ایلوس پریسلے سے متاثر فیشن کا رنگ بھی تھا۔


اگلی فلموں نے اس شناخت کو مضبوط کیا۔ ’دل دے کے دیکھو‘ (1959) نے شمی کے شوخ رومانوی انداز کو آگے بڑھایا، جب کہ ’جنگلی‘ (1961) نے انہیں گھر گھر مشہور کیا۔ ’چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے‘ کا بے ساختہ ’یاہو!‘ ان کا نشان بن گیا۔ ان کا ہیرو خوشی، بے چینی اور محبت کو مکالموں کے ساتھ چہرے اور جسمانی حرکت سے ادا کرتا تھا۔

اس انداز کو یادگار بنانے میں موسیقی کا بڑا حصہ تھا۔ محمد رفیع کی آواز شمی کی اسکرینی توانائی سے یوں جڑی کہ گیت کردار کا تسلسل بن گئے۔ شمی ریکارڈنگ میں شریک رہتے اور رفیع سے کہتے کہ گیت کے اتار چڑھاؤ ایسے ہوں جنہیں وہ پردے پر اپنی حرکتوں سے ادا کر سکیں۔ رفیع بھی گاتے ہوئے تصور کرتے کہ شمی کہاں اچھلیں گے، بازو پھیلائیں گے یا قدم بدلیں گے۔ یوں اداکار، گلوکار اور موسیقاروں نے مل کر ایک نیا فلمی انداز بنایا۔

شمی کپور کو ’باغی‘ کہا گیا، کیونکہ انہوں نے روایتی، خاموش اور اداس عاشق کے بجائے زندہ دل، شوخ اور بے خوف ہیرو پیش کیا۔ اس تبدیلی کو صرف لباس یا رقص کا کمال سمجھنا ادھورا ہوگا۔ اس کے پیچھے خاندانی سایے سے نکلنے کی خواہش، ناکامی کے بعد خود کو بدلنے کی ہمت، مضبوط موسیقی اور گیتا بالی کا اعتماد تھا۔

گیتا بالی 1965 میں دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر شمی کپور کی کہانی میں ان کا کردار صرف ازدواجی رشتے تک محدود نہیں۔ وہ اس سفر کی ساتھی تھیں جس میں ایک غیر یقینی نوجوان اداکار نے اپنا منفرد اسلوب دریافت کیا۔ ان کی سالگرہ پر شمی کو یاد کرنا، اس اعتماد کو بھی یاد کرنا ہے جس نے انہیں اپنی صلاحیت پر یقین دلایا اور ان کی باغی شناخت کو جنم لینے میں مدد دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔