کالا ہرن فلم تنازعہ: دہلی ہائی کورٹ کا فلم سازوں کو نوٹس، 19 جون کو اگلی سماعت

اداکار سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کے پروڈیوسر سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ سلمان نے اپنی شناخت اور شبیہ کے غلط استعمال پر اعتراض اٹھایا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

نئی دہلی: اداکار سلمان خان کی جانب سے فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کی نمائش پر روک لگانے کے مطالبے سے متعلق دائر درخواست پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امت جانی اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 19 جون کو مقرر کی گئی ہے۔

یہ سماعت جسٹس نینا بنسل کرشنا کی واحد رکنی بنچ کے سامنے ہوئی۔ سماعت کے دوران سلمان خان کی جانب سے سینئر وکیل نظام پاشا نے عدالت کو بتایا کہ اداکار کے پرسنالٹی رائٹس پہلے ہی ہائی کورٹ کے ذریعے محفوظ قرار دیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حقوق میں سلمان خان کی شبیہ، شناخت، ظاہری انداز اور ان سے منسلک دیگر شخصی خصوصیات شامل ہیں۔

سلمان خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 29 مئی کو فلم کا ایک پوسٹر جاری کیا گیا تھا، جس میں ایک شخص کو سلمان خان سے مشابہ دکھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس شخص نے وہی مخصوص بریسلٹ بھی پہن رکھا ہے جو سلمان خان طویل عرصے سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ فلم کی تشہیری مہم میں ان کی شناخت اور عوامی شبیہ کو بغیر اجازت استعمال کیا جا رہا ہے۔


عدالت میں یہ بھی کہا گیا کہ 1998 کے کالا ہرن شکار معاملے سے متعلق چار مقدمات میں سے تین میں سلمان خان کو راحت مل چکی ہے، جبکہ ایک مقدمہ اب بھی اپیل کی سطح پر زیر التوا ہے۔ وکیل کے مطابق فلم اور اس سے متعلق تشہیری مواد کے باعث سلمان خان کا نام مسلسل تنازعات سے جوڑا جا رہا ہے، جس سے ان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

سلمان خان نے اپنی درخواست میں پروڈیوسر امت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ہدایت کار بھارت ایس شرینیت، اکشے پانڈے اور دیگر متعلقہ افراد کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فلم کی تیاری، تقسیم، تشہیر اور نمائش پر روک لگائی جائے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ فلم کے پوسٹر اور دیگر تشہیری مواد ان کے پرسنالٹی رائٹس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شناخت اور عوامی شبیہ کو تجارتی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو قانونی طور پر قابل اعتراض ہے۔

خیال رہے کہ ‘کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘ کو 1998 کے معروف کالا ہرن شکار مقدمے اور اس سے جڑے واقعات پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں فلم کا فرسٹ لک اور ٹریلر بھی جاری کیا گیا تھا۔ سلمان خان کی قانونی ٹیم اس سے قبل فلم سازوں کو نوٹس بھیج چکی ہے اور اب یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔ عدالت 19 جون کو اس مقدمے کی مزید سماعت کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔