امیتابھ بچن: ناکامیوں کو شکست دے کر سپر اسٹار بننے کی کہانی

امیتابھ بچن 84 برس کے ہو گئے۔ ’زنجیر‘ اور ’شعلے‘ سے شہرت پانے والے اینگری ینگ مین نے حادثے، سیاسی تنازعات اور کاروباری ناکامیوں کے باوجود شاندار واپسی کی اور بالی ووڈ میں اپنی منفرد شناخت برقرار رکھی

امیتابھ بچن، تصویر آئی اے این ایس
i

ممبئی: اپنی منفرد اداکاری، گرج دار آواز، باوقار شخصیت اور غیر معمولی فنکارانہ صلاحیتوں سے کئی نسلوں کے ناظرین کو متاثر کرنے والے امیتابھ بچن 84 برس کے ہو گئے۔ ہندوستانی سنیما میں ان کی خدمات اور مقبولیت نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کا سفر محض ایک اداکار کی کامیابی کی کہانی نہیں، بلکہ جدوجہد، ناکامیوں، واپسی اور مسلسل بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی مثال بھی ہے۔

امیتابھ بچن 11 اکتوبر 1942 کو الہ آباد (پریاگ راج) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ہری ونش رائے بچن اردو اور ہندی ادب کے ممتاز شاعر تھے۔ امیتابھ نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کلکتہ میں ایک کمپنی میں ملازمت سے کیا، جہاں انہیں ماہانہ 800 روپے تنخواہ ملتی تھی۔ تاہم، بچپن سے اداکاری کا شوق انہیں فلمی دنیا کی طرف کھینچتا رہا۔ وہ دلیپ کمار سے متاثر تھے اور انہی کی طرح ایک کامیاب اداکار بننا چاہتے تھے۔ بالآخر 1968 میں ملازمت چھوڑ کر ممبئی آ گئے۔

امیتابھ بچن کو 1969 میں خواجہ احمد عباس کی فلم ’سات ہندوستانی‘ سے اداکاری کا پہلا موقع ملا۔ فلم باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی، لیکن امیتابھ کو اس کے لیے نیشنل فلم ایوارڈ میں بہترین نئے اداکار کا اعزاز ملا۔ 1971 میں فلم ’آنند‘ میں راجیش کھنہ کے ساتھ کام کر کے انہوں نے اپنی اداکاری کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ فلم میں انہوں نے ڈاکٹر بھاسکر بنرجی کا کردار ادا کیا، جسے ناظرین اور ناقدین نے سراہا۔ اس کردار کے لیے انہیں فلم فیئر کا بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔

امیتابھ بچن کے فلمی کیریئر میں فیصلہ کن موڑ 1973 میں ریلیز ہونے والی پرکاش مہرا کی فلم ’زنجیر‘ سے آیا۔ اس فلم نے انہیں ایک ایسے اداکار کے طور پر متعارف کرایا جو روایتی رومانوی ہیرو سے مختلف تھا۔ ان کے سنجیدہ انداز، غصے اور مکالموں کی ادائیگی نے ناظرین کو بے حد متاثر کیا اور وہ ’اینگری ینگ مین‘ کے نام سے مشہور ہو گئے۔


’زنجیر‘ میں ان کا انتخاب بھی دلچسپ واقعات سے جڑا ہے۔ اداکار پران نے ہدایت کار پرکاش مہرا کو امیتابھ کا نام تجویز کیا تھا۔ اس کے بعد امیتابھ کو فلم میں کام کرنے کا موقع ملا اور ان کی قسمت بدل گئی۔ 1975 میں یش چوپڑا کی فلم ’دیوار‘ نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ اسی سال ریلیز ہونے والی ’شعلے‘ نے ان کی شہرت کو مزید مستحکم کر دیا۔ ’دیوار‘ میں وجے اور ’شعلے‘ میں جے کے کردار آج بھی ہندی سنیما کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس دور میں امیتابھ بچن فلمی دنیا کے سب سے مقبول ستاروں میں شامل ہو گئے۔

1982 میں فلم ’قلی‘ کی شوٹنگ کے دوران ایک ایکشن منظر میں امیتابھ بچن شدید زخمی ہو گئے۔ ان کی حالت نازک ہو گئی تھی اور ملک بھر میں ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ مندروں، مسجدوں اور گوردواروں میں لوگوں نے ان کی زندگی کے لیے دعائیں مانگیں۔ بالآخر وہ صحت یاب ہو کر واپس آئے۔ یہ واقعہ ان کی عوامی مقبولیت اور لوگوں کے ساتھ ان کے جذباتی رشتے کی ایک بڑی مثال بن گیا۔

1984 میں امیتابھ بچن نے الہ آباد سے لوک سبھا کا انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ تاہم، سیاست میں ان کا قیام زیادہ طویل نہیں رہا اور 1987 میں انہوں نے پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا۔ سیاست سے علیحدگی کے بعد انہوں نے دوبارہ فلمی دنیا پر توجہ مرکوز کی، لیکن 1990 کی دہائی میں ان کی متعدد فلمیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس دور نے ان کے کیریئر کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔

1990 کی دہائی کے آخر میں امیتابھ بچن نے فلم سازی اور کاروبار کے میدان میں بھی قسمت آزمائی۔ انہوں نے امیتابھ بچن کارپوریشن لمیٹڈ (اے بی سی ایل) قائم کی۔ تاہم، کمپنی کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات میں ان کا کیریئر ایک بار پھر آزمائش سے گزرا۔


سال 2000 میں ٹیلی ویژن پروگرام ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کی میزبانی نے ان کی زندگی میں نیا موڑ پیدا کیا۔ ان کے منفرد اندازِ گفتگو، حاضر جوابی اور امیدواروں کے ساتھ دوستانہ رویے نے پروگرام کو بے حد مقبول بنایا۔ اس کامیابی نے انہیں نئی نسل کے ناظرین سے بھی جوڑ دیا۔ اس کے بعد ’محبتیں‘، ’باغبان‘، ’بلیک‘، ’پیکو‘ اور ’پنک‘ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔ انہوں نے وقت کے ساتھ اپنے کرداروں میں تبدیلی پیدا کی اور ثابت کیا کہ ایک بڑا فنکار عمر کے کسی بھی مرحلے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتا ہے۔

امیتابھ بچن کی گہری اور رعب دار آواز ان کی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے اداکاری کے علاوہ گلوکاری اور فلموں میں بطور نریٹر بھی کام کیا۔ فلم ’مسٹر نٹورلال‘ میں ان کا گایا ہوا گیت ’میرے پاس آؤ میرے دوستو، ایک قصہ سنو‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے، جبکہ فلم ’سلسلہ‘ کا گیت ’رنگ برسے‘ بھی ان کی آواز سے وابستہ مقبول گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔

ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، پدم شری، پدم بھوشن اور پدم وبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں متعدد نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ بھی ملے ہیں۔

امیتابھ بچن کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ کامیابی صرف شہرت حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ مشکلات کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے اور وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کا حوصلہ بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ 84 برس کی عمر میں بھی وہ ٹیلی ویژن اور فلمی دنیا میں سرگرم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت محض ایک سپر اسٹار تک محدود نہیں، بلکہ ہندوستانی سنیما کی تاریخ کا ایک اہم باب بن چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔