شام میں امریکی اتحاد کے حملہ میں 32 افراد ہلاک

انسانی حقوق گروپ سیرین آبزر ویٹری کے مطابق صرف شام میں داعش مخالف کارروائیوں میں عالمی اتحادی فوج 3300 عام شہریوں کو قتل کرچکی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

دمشق: شام میں امریکی اتحاد کے حملوں میں 32 شہری ہلاک ہوگئے، مرنے والوں میں 7بچے بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کےلیے کام کرنےوالی تنظیم سیرین آبزرویٹری کے مطابق 24گھنٹوں کے دوران دیرالزور میں کی گئی کارروائیوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، بہت سے لوگ ملبے تلے دب گئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراقی سرحد کے قریب ان حملوں میں داعش کے 9 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ جمعرات کی شب عالمی اتحادی فوج کے طیاروں‌ نے دیر الزور میں السوسہ کے مقام پر بمباری کی جس کے نتیجے میں7 بچوں سمیت 18 شہری مارے گئے۔ جمعہ کے روز اسی علاقے پر دوبارہ فضائی حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 14 عام شہری لقمہ اجل بنے۔

رامی عبدالرحمن کے مطابق تازہ حملوں کے دوران داعش کے نو جنگجو بھی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ مرنے والے 5 افراد کی شناخت نہیں کی جاسکی۔

انسانی حقوق کے آبزرور کا کہنا ہے کہ بمباری کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جب کہ کئی عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے ہیں۔

خیال رہے داعش کےخلاف سرگرم عالمی اتحادی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ کارروائیوں میں شہریوں کے کم سے کم جانی نقصان کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ عالمی اتحادی فوج شام اور عراق میں 1100 عام شہریوں کے مارے جانے کا اعتراف کرچکی ہے تاہم انسانی حقوق گروپ سیرین آبزر ویٹری کے مطابق صرف شام میں داعش مخالف کارروائیوں میں عالمی اتحادی فوج 3300 عام شہریوں کو قتل کرچکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔