سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد برطانیہ کا فیصلہ، ٹائفون طیارے تعینات کرنے کی تیاری

برطانیہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے ٹائفون طیارے تعینات کرے گا۔ وزیراعظم نے منظوری دے دی ہے۔ لندن کے مطابق یہ طیارے حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کریں گے، مگر حوثیوں پر حملہ نہیں کریں گے

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ بی بی سی</p></div>
i

برطانیہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی حکومت نے بتایا ہے کہ وزیراعظم اینڈی برنہم نے اس اقدام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے بڑھائے جانے کے بعد کیا گیا۔ لندن کے مطابق طیاروں کا مقصد سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو فضائی حملوں سے بچانے میں مدد دینا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے منگل کو تحریری بیان میں کہا کہ ٹائفون طیارے دفاعی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق یہ طیارے حوثی باغیوں کے خلاف کوئی حملہ نہیں کریں گے۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تعیناتی کا مقصد سعودی عرب پر ہونے والے فضائی حملوں سے تحفظ ہے۔ بیان میں کسی جارحانہ کارروائی یا یمن میں حملے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

برطانوی فیصلے کا اعلان سعودی دارالحکومت ریاض اور ملک کے ساحلی علاقوں میں توانائی کے مراکز پر حوثی حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ حملے اس وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں جس کے باعث سعودی عرب کو اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کی حفاظت کی فکر لاحق ہے۔ حکومت نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے ٹائفون طیارے بھیجے جائیں گے، وہ کہاں تعینات ہوں گے یا ان کا مشن کتنی مدت جاری رہے گا۔


سعودی عرب کو ستمبر سے حوثیوں کے فضائی حملوں کے خلاف اپنی فضائی حدود کا دفاع کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق یمن میں جنگ بندی جیسی قائم صورتِ حال کے ٹوٹنے کے بعد حملوں کا خطرہ بڑھ گیا۔ ایسے میں برطانیہ کی جانب سے طیاروں کی تعیناتی سعودی عرب کے فضائی دفاع میں اضافی مدد فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

حوثی باغی یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب اس حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثیوں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا سے اس حکومت کو بے دخل کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے یمن میں تنازع جاری ہے۔ سعودی عرب بھی اس جنگ کے اہم فریقوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس تعیناتی کا مقصد سعودی عرب کے فضائی دفاع کو مضبوط کرنا ہے۔ برطانوی حکومت کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹائفون طیارے صرف دفاعی ذمہ داری نبھائیں گے۔ برطانیہ نے اپنی فوجی شرکت کو سعودی عرب پر آنے والے حملوں کے مقابلے اور شہروں و بنیادی ڈھانچے کے تحفظ تک محدود قرار دیا ہے۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ حوثی اہداف پر حملہ اس مشن کا حصہ نہیں ہوگا۔ یہ اقدام یمنی تنازع کے علاقائی اثرات بھی ظاہر کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔