ترکی نے امریکہ سمیت 10 ممالک کے سفیروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا

عثمان کاوالا کو 2020 میں ملک گیر احتجاج سے متعلق الزامات سے بری کر دیا گیا جو 2013 میں ان کے خلاف عائد کیے گئے تھے لیکن بعد میں یہ فیصلہ پلٹ دیا گیا تھا۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ انہوں نے امریکہ سمیت ان تمام 10 ممالک کے سفیروں کو غیر معتبر شخصیت (پرسونا نان گریٹا) اعلان کرکے ملک بدر کر نے کے واسطے وزارت خارجہ کو ہدایت دی ہے ، جنہوں نے انسانی حقوق کے کارکن عثمان کاوالا کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں کناڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈ، نیوزی لینڈ، ناروے، سویڈن اور امریکہ کے سفیروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ترک حکومت سے اپیل کی تھی کہ مسٹر عثمان کاوالا کو رہا کیا جائے، جو چار سال سے جیل میں ہیں۔ اسی روز، تمام 10 سفیروں کو ترک وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا، اور مسٹر اردگان نے بعد میں سفارتی تعلقات سے متعلق ویانہ کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دی تھی۔


طیب اردوگان نے ایک عوامی خطاب میں کہا کہ"میں نے اپنے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں کہ ان 10 سفیروں کو غیر معتبر قرار دیا جائے"۔

عثمان کاوالا ترکی کے ایک معروف تاجر اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ وہ انادولو کلتور فاؤنڈیشن کے بانی ہیں، جو نسلی اور مذہبی اقلیتی منصوبوں کو فروغ دیتے ہیں، خاص طور پر ترک اور آرمینیائی آبادی کے درمیان مفاہمت، اور کردوں کے مسئلے کے پرامن حل کی وکالت کرتے ہیں۔


عثمان کاوالا کو 2020 میں ملک گیر احتجاج سے متعلق الزامات سے بری کر دیا گیا جو 2013 میں ان کے خلاف عائد کیے گئے تھے۔ تاہم یہ فیصلہ بعد میں الٹ دیا گیا تھا۔مسٹر عثمان کاوالا نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔