’یہ جنگ کی آگ کو ہوا دینے کی سازش ہے‘، یو اے ای پر میزائل حملہ کے الزام کو ایران نے کیا خارج
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یو اے ای کے الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت کے ایسے الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ یو اے ای کی جانب سے 2 بیلسٹک میزائل داغنے سے متعلق ایران پر الزام عائد کیے جانے کے بعد تہران نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ تہران نے اس الزام کو سرے سے خارج کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی جانب سے کوئی میزائل حملہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یو اے ای کے الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت کے ایسے الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جنگ کی آگ کو ہوا دینے کی سازش ہے۔
دراصل یو اے ای کی وزارت دفاع کا الزام ہے کہ ایران سے 2 میزائل داغے گئے، لیکن دونوں سمندر میں گر گئے۔ ان میں سے ایک یو اے ای کے علاقائی پانیوں میں اور دوسرا اس کے باہر گرا۔ یو اے ای نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے یا کسی طرح کے نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ یو اے ای کی وزارت دفاع کے مطابق اس کا اندازہ ہے کہ میزائل سمندری آمد و رفت کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے تھے۔ اس درمیان وزارت دفاع نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی افواہ یا غلط اطلاع پر بھروسہ نہ کریں اور واقعہ سے متعلق معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع سے رجوع کریں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ علاقائی کشیدگی بڑھنے کے درمیان یو اے ای نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالی لین دین روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یو اے ای کی وزارت خارجہ کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر افرا ال حمّیلی نے کہا کہ علاقائی حالات کے پیش نظر ایران کے ساتھ تمام تجارت، تجارتی لین دین اور مالی لین دین اگلے حکم تک معطل کر دیے گئے ہیں۔ یعنی اب ان دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : متحدہ عرب امارات پر ایران نے دو میزائل داغے
جہاں تک میزائل حملوں کا سوال ہے، یو اے ای کی وزارت داخلہ کی جانب سے لوگوں کے موبائل فون پر الرٹ بھیجا گیا تھا۔ ابتدائی میزائل خطرے کی وارننگ کے بعد وزارت نے کہا کہ صورتحال محفوظ ہے اور لوگوں کو معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دینی چاہئیں۔
بہرحال، میزائل واقعے کے بعد اب ایران اور یو اے ای کے درمیان الزام تراشی تیز ہو گئی ہے۔ ایران جہاں الزامات کو بے بنیاد قرار دے رہا ہے، وہیں یو اے ای اپنے سلامتی کے جائزے کی بنیاد پر کارروائی کی بات کر رہا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یو اے ای کے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کے امکان کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹھوس ثبوت کے بغیر ایران پر الزام لگانا مناسب نہیں ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم میں آبنائے ہرمز سب سے حساس علاقوں میں سے ایک بنا ہوا ہے۔ اسی اسٹریٹجک سمندری راستے کی وجہ سے خلیجی خطے میں کسی بھی میزائل یا فوجی سرگرمی کے وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
