کیا سعودی عرب خاشقجی کی موت کی ذمے داری قبول کرنے جا رہا ہے!

سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت ایک ایسی رپورٹ کی تیاری میں مصروف ہے، جس میں استنبول میں لاپتہ ہو جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت کی ذمے داری قبول کر لے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

سی این این نے اپنی نشریات میں کہا کہ سعودی حکام جو رپورٹ تیار کرنے میں مصروف ہیں، اس میں مبینہ طور پر یہ اعتراف کر لیا جائے گا کہ جمال خاشقجی استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں دوران تفتیش ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، جنہوں نے پہلے یہ کہا تھا کہ سعودی عرب خاشقجی کے لاپتہ ہو جانے کی مکمل وضاحت کرے، خاشقجی کی گمشدگی میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کے بارے میں سعودی عرب کی طرف سے ’بہت سخت تردید‘ کے بعد کہا ہے کہ اس منحرف سعودی صحافی کی گمشدگی اور مبینہ قتل کا ذمے دار ایک ’قاتل گروہ‘ ہے۔

ساٹھ سالہ سعودی شہری، امریکا میں مقیم منحرف صحافی اور اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ جنرل میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق خاشقجی سعودی قونصل خانے کے اندر تو گئے تھے لیکن اس بارے میں کوئی شواہد نہیں کہ وہ وہاں سے زندہ باہر بھی نکلے تھے۔

ترک اور کئی دیگر غیر ملکی میڈیا اداروں کا الزام ہے کہ خاشقجی کو مبینہ طور پر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ترک تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اسی سلسلے کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز بھی موجود ہیں۔

سعودی حکومت اب تک ان الزامات کی بھرپور تردید کرتی آئی ہے۔ تاہم سی این این نے شناخت ظاہر کیے بغیر لیکن دو انتہائی قابل اعتماد ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سعودی حکومت اب خاشقجی کی موت کی ذمے داری قبول کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ سی این این کے مطابق ممکنہ طور پر سعودی حکام کی طرف سے کہا جائے گا، ’’جمال خاشقجی قونصل خانے میں پوچھ گچھ عمل کے دوران ہلاک ہو گئے، جس کا انجام معمول کے مطابق نہیں نکلا۔‘‘

اسی بارے میں ایک دوسرے ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ سعودی حکام اپنی اس رپورٹ میں، جس کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کب جاری کی جائے گی، تسلیم کر لیں گے کہ خاشقجی سے استنبول کے قونصل خانے میں یہ تفتیش اعلیٰ سعودی حکام کی طرف سے اجازت کے بغیر کی جا رہی تھی اور اس کے ذمے دار عناصر کو سزا دی جائے گی۔

’لاش کے ٹکڑے کر دیے گئے‘

خاشقجی کی گمشدگی اور ان کے مبینہ قتل کی مشترکہ چھان بین کرنے والی ترک اور سعودی ماہرین کی دو ٹیموں نے آج منگل 16 اکتوبر کو استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر اپنی کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی چھان بین بھی مکمل کر لی، جس دوران کئی نمونے بھی حاصل کیے گئے۔

اس سلسلے ترک حکام کا یہ خدشہ ہے کہ جمال خاشقجی کو استنبول کے سعودی قونصل خانے کی عمارت کے اندر ہی قتل کر دیا گیا، جس کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے کر دیے گئے۔

ترک صدر کی شاہ سلمان سے گفتگو

جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں ترک صدر رجب طیب ایردوگان سعودی عرب کے شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کر چکے ہیں، صدر ایردوگان کے مطابق شاہ سلمان نے زور دے کر کہا تھا کہ سعودی عرب خاشقجی کی گمشدگی میں ملوث نہیں ہے۔

شاہ سلمان نے یہ بھی کہا تھا کہ انقرہ اور ریاض کے مابین گہرے دوطرفہ روابط ہیں اور ریاض حکومت نہیں چاہے گی کہ یہ تعلقات کسی بھی وجہ سے متاثر ہوں۔

امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب میں

امریکی صدر کی طرف سے جمال خاشقجی کی گمشدگی پر گہری تشویش کے اظہار کے بعد اب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی سعودی حکام کے ساتھ اسی موضوع پر بات چیت کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں۔ ریاض میں پومپیو نے شاہ سلمان سے ملاقات کی۔

ریاض پہنچنے پر پومپیو کا استقبال ان کے سعودی ہم منصب عادل الجبیر نے کیا تاہم اس موقع پر میڈیا سے کوئی بھی بات کرنے سے احتراز کیا گیا۔ پومپیو اپنے اس دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 Oct 2018, 4:09 PM