سعودی عرب میں 130 تاریخی مساجد کی مرمت

یہ منصوبے کا پہلا مرحلہ تھا جس کے تحت 60ھ سے لے کر 1432ھ تک کی مساجد کا احیاء عمل میں آیا ہے، کئی مراحل میں 130 تاریخی مساجد کا احیاء ہوا اور یہ کام 423 دن میں مکمل کیا گیا

تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نگرانی میں تاریخی مسجدوں کی بحالی کے منصوبے کے روشنی میں مملکت کے طول وعرض میں دس مقامات پر تیس تاریخی مساجد کی بحالی ومرمت کا کام مکمل کر کے انہیں نماز کی ادائی کے قابل بنا دیا گیا ہے۔

مملکت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ منصوبے کا پہلا مرحلہ تھا جس کے تحت 60ھ سے لے کر 1432ھ تک کی مساجد کا احیاء عمل میں آیا ہے۔ کئی مراحل میں 130 تاریخی مساجد کا احیاء ہوا۔ یہ کام 423 دن میں مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے پر 50 ملین ریال کی لاگت آئی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 130 مساجد کے احیاء کے لیے خصوصی ہدایت جاری کر رکھیں تھیں۔ یہ کام سعودی عرب کی سپیشلسٹ کمپنیاں انجام دے رہی ہیں۔ سعودی محکمہ سیاحت وقومی آثار قدیمہ، وزارت اسلامی امور دعوت و رہنمائی، وزارت ثقافت اور سعودی انجمن برائے آثار قدیمہ کا یہ مشترکہ پروگرام ہے۔

اس سلسلے میں کئی باتوں کا دھیان رکھا جا رہا ہے۔ تاریخی مساجد کا اصل ڈھانچہ اور ان کی حقیقی شکل و صورت برقرار رکھی جارہی ہے البتہ خواتین کے لیے مصلے، معذوروں کے لیے بنیادی ضروریات، بجلی، پانی، ایئرکنڈیشن اور لاؤڈ اسپیکر کا اضافہ حسب حال کیا جا رہا ہے۔

پہلے مرحلے میں معروف صحابی حضرت جریر بن عبداللہ البجلی کے دور کی مسجد کا بھی احیا ہوا ہے۔ یہ مسجد طائف میں واقع ہے۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ یہ اپنے دور میں بڑی مشہور درس گاہ بھی رہی ہے۔ یہ تین سو برس پرانی الاحسا کی شیخ ابو بکر مسجد جیسی ہے۔ بعض مساجد میں 40 برس سے نماز بند تھی۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)