سعودی خواتین کو کیا کرنے کی اجازت نہیں! جانیں

سعودی حکومت نے حالیہ کچھ عرصے میں خواتین کو گاڑی چلانے سے لے کے تنہا سفر کرنے تک کی اجازت تو دی ہے، تاہم ابھی بہت سے ایسے امور ہیں، جنہیں انجام دینے کی اجازت خواتین کو ابھی بھی نہیں۔

تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
تصویر ڈی ڈبلیو ڈی
user

ڈی. ڈبلیو

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے انتہائی قدامت پسند سعودی عرب میں متعدد امور میں بڑی اصلاحات کرتے ہوئے خواتین پر عائد کئی پابندیوں کا خاتمہ تو کیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خواتین اب بھی کئی طرح کے مسائل اور پابندیوں کا شکار ہیں۔

جمعے کے روز سعودی عرب کی جانب سے خواتین کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ کسی ’وارث‘ سے اجازت لیے بغیر سفر کر سکتی ہیں۔ اس سے قبل سعودی عرب میں یہ ضابطہ نافذ تھا کہ خواتین کو سفر کے لیے اپنے مرد 'والی‘ سے اجازت لینی پڑتی تھی۔ تاہم اب بھی زندگی کے اہم معاملات میں فیصلے کے لیے ابھی بھی خواتین کو مرد رشتہ داروں کی اجازت درکار ہوتی ہے۔


سعودی عرب میں خواتین کو اس وقت لاحق اہم مسائل اب بھی بدستور موجود ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی خاتون اپنی مرضی سے شادی نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے اسے اپنے مرد ’والی‘ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ ایسی خواتین جو اس ضابطے کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوں، انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح خواتین اگر کسی غیر ملکی سے شادی کرتی ہیں، تو ان کے شوہروں کو سعودی شہریت منتقل نہیں ہوتی۔

جمعے کے روز سعودی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 21 برس سے زائد عمر کی خواتین پاسپورٹ حاصل کرنے اور بیرون ملک سفر کرنے کی مجاز ہوں گی۔ سعودی عرب میں خواتین کو اب پیدائش، شادی اور طلاق جیسے معاملات خود سے رجسٹر کرانے کا حق بھی دے دیا گیا ہے۔


اسی طرح خواتین کو اب خاندانی امور سے متعلق سرکاری دستاویزات جاری ہو سکیں گے، جس کا مطلب ہے کہ وہ بچوں کی 'کفیل‘ بھی بن سکیں گی۔

سن 2017 سے خواتین کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے مرد 'کفیلوں‘ سے پوچھے بغیر تعلیم اور صحت جیسی سہولتوں سے استفادہ کر سکتی ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں پر عمل درآمد اب بھی فقط 'ایڈہاک بنیادوں‘ پر ہو رہا ہے جب کہ اس معاملے میں مستقل بنیادوں پر کسی حل کی ضرورت ہے۔


یہ بات اہم ہے کہ کئی معاملات میں فقط قانون سازی کافی نہیں، کیوں کہ قانون بن جانے کے باوجود معاشرتی طور پر کئی رسوم مسلسل جاری ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Aug 2019, 3:10 PM