سعودی عرب پر حوثیوں نے پھر کیا زوردار حملہ، ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو سمیت کئی ٹھکانوں کو بنایا نشانہ
حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوںِ فوجی ٹھکانوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے کئی دعوے کیے ہیں۔ دوسری طرف سعودی قیادت میزائل و ڈرون کو ناکارہ بنانے کی جانکاری دیتا رہا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب پر زوردار حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھوں نے سعودی عرب کے 5 سے زائد انتہائی اہم اسٹریٹجک اور توانائی کے مراکز کو ڈرون و میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ ان حملوں سے متعلق سعودی عرب کی جانب سے ابھی تک کوئی آفیشیل تصدیق یا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
حوثی باغیوں کے دعووں کے مطابق جن اہم مقامات پر حملے کیے گئے ہیں، ان میں سعودی عرب کی راجدھانی کا اہم ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ ریاض ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حوثی باغیوں نے ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیب، رابغ آئل ریفائنری، دمام میں کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، نجران کے ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے پر بھی حملہ کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ینبع بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ایک اہم صنعتی و توانائی کا مرکز ہے، جبکہ رابغ میں سعودی آرامکو کی ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں کسی بھی بڑے حملے سے توانائی کی فراہمی اور نقل و حمل کے نظام پر اثر پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔ موجودہ دعووں کے بعد ان تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، فوجی ٹھکانوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے کئی دعوے کیے ہیں۔ دوسری جانب سعودی قیادت والا اتحاد ڈرون اور میزائلوں کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کی اطلاع دیتا رہا ہے۔ بہرحال، اگر تازہ حملوں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے فوجی تصادم اور توانائی کی سلامتی کے حوالے سے سنگین بحران کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ حوثی باغی مسلسل سعودی عرب کے اقتصادی اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں، جس سے علاقائی استحکام متاثر ہوتا ہے۔ فی الحال بین الاقوامی سطح پر اس صورت حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
