خطبۂ حج: ’قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے، آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے‘

خطبہ حج میں امام الحذیفی نے مسلمانوں کے حالات میں بہتری اور یکجہتی کے لیے دعائیں کیں اور کہا کہ ’’جو اللہ سے ڈرتا ہے، اس کے لیے اللہ نے دوہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی میدان عرفات میں خطبہ حج پیش کرتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سعودی عرب کے میدانِ عرفات میں اس وقت لاکھوں حجاج کرام کی موجودگی ایک روحانی فضا قائم کر رہی ہے۔ آج مسجد نبویؐ کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر علی الحذیفی نے یہاں مسجد نمرہ میں خطبۂ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے اس ماحول کو مزید روحانی بنا دیا۔ انھوں نے خطبہ میں کہا ہے کہ ’’تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو، اپنے عہد کی پاسداری کرو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’قیامت کا زلزلہ انتہائی شدید ہے جبکہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی توحید ہے۔ جو لوگ شرک و کفر کرتے ہیں وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔‘‘

مسجد نمرہ میں لاکھوں حجاج کرام کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے شیخ علی الحذیفی نے کہا کہ ’’جو اللہ سے ڈرتا ہے، اُس کے لیے اللہ نے دوہری جنت رکھی ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اللہ نے ابراہیمؑ کو کہا حج کے لیے منادی کریں اور اللہ تعالیٰ دور دراز تک یہ آواز پہنچائیں گے۔ دور دراز سے لوگ حج کے لیے آئے ہیں تاکہ دنیا و اخرت میں وہ کامیاب ہوں۔ یہاں جھگڑا نہیں کرنا اور گناہ نہیں کرنا اور تمام چیزیں جن کا وعدہ اللہ نے کیا انھیں پورا کیا جائے۔ اور جو بھی شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے یہ تقویٰ کی نشانی ہے۔‘‘


خطبۂ حج کے دوران ڈاکٹر شیخ علی الحذیفی نے اپنے خطاب میں سبھی کو سچ بولنے کی تلقین کی اور غلط بیانی سے سخت منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیشہ سچ بولیے اور غلط بیانی سے گریز کیجیے، بدعت اور غیبت سے دور رہیے، حجاج عرفات سے فارغ ہونے کے بعد منیٰ تشریف لے جائیں گے، حجاج کرام مناسک بہترین انداز میں ادا کریں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی تلقین کی کہ ’’حجاج کرام ہر لمحہ مغفرت کی دعا کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کریں، اللہ تعالیٰ ہی دعائیں قبول کرنے والا ہے۔‘‘

شیخ علی الحذیفی نے خطبۂ حج میں دنیا کے مختلف ممالک سے عرفات میں جمع ہوئے لوگوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’دنیا بھر سے مختلف رنگوں کے لوگ یہاں آئے ہیں، جو اللہ کی طرف سے ایک بڑا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں میں حاجیوں پر فخر کر رہا ہے جو آج جمع ہوئے اور عبادات کیں۔‘‘ انھوں نے حجاج کرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’عازمین حج یہاں عرفات میں قیام کریں گے پھر اگلے دن مزدلفہ جائیں گے جس کے بعد عازمین حج منی میں تشریف لے کر جائیں گے، اور منیٰ میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ آپ یہاں منی میں رہتے ہوئے 11، 12 کی راتیں گزاریں گے اور اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے طواف کریں گے۔‘‘ آخر میں انھوں نے دعا کی کہ ’’یا اللہ! تمام عازمین کو بہ حفاظت اور سلامتی کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو لوٹا اور ان کے دلوں میں حق کو جمع کر دے اور ان کے حج کے تمام مناسک کو قبول فرما۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔