ویڈیوز

ویڈیو: سیم پترودا نے آنجہانی راجیو گاندھی کو کیا یاد، کہا ’آج ہوتے تو کورونا سے لڑنے کے لیے ٹیسٹنگ پر زور دیتے‘

ہندوستان کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ان کے یوم وفات پر پورا ملک یاد کر رہا ہے۔ اس موقع پر سیم پترودا نے کہا کہ اگر راجیو گاندھی ہوتے تو کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے ٹیسٹنگ پر زور دیتے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز 

ہندوستان کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو ان کے یوم وفات پر پورا ملک یاد کر رہا ہے۔ آج ہی کے دن تمل ناڈو کے شری پیرمبدور میں 21 مئی 1991 کی شب ایک خودکش بم دھماکے میں راجیو گاندھی کا قتل کر دیا گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اپنے سائنسداں دوست سیم پترودا کے ساتھ مل کر ملک میں کمپیوٹر انقلاب لانے کی سمت میں کام کیا۔ انھوں نے بھی راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے 'نوجیون' کے ڈیجیٹل ایڈیٹر تسلیم خان سے بات کی۔

Published: undefined

سیم پترودا نے بات چیت کے دوران کہا کہ "راجیو گاندھی نے ملک کو بہت بڑا تعاون پیش کیا ہے۔ ان کی سیاسی قوت سے ملک آگے بڑھا۔ انھوں نے اپنے دور میں تکنیک کو فروغ دینے کے لیے پورا تعاون کیا۔ نوجوان طاقت اور صلاحیت کو پہچان کر راجیو گاندھی نے ملک کو آگے بڑھایا۔" سیم پترودا نے اپنے اور راجیو گاندھی کے رشتے کو لے کر کہا کہ ان کے ساتھ پہلی ملاقات میں ہی ایک رشتہ بن گیا۔ مجھے یاد ہے کہ میری پہلی ملاقات اندرا گاندھی کے دفتر میں ہوئی تھی۔

Published: undefined

سیم پترودا نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے دور کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ "سی-ڈاٹ کا قیام کیا گیا، تعلیم، ٹیلی کام اور دیگر شعبوں کو مضبوط کیا گیا۔ انسداد پولیو مہم کی شروعات راجیو گاندھی نے کی۔ راجیو گاندھی نے سب سے پہلے ہندوستان میں ویکسین بنانے کا کام شروع کیا۔"

Published: undefined

سیم پترودا نے مزید بتایا کہ راجیو سائنس میں بھروسہ کرتے تھے۔ سائنس لوگوں کے درمیان فرق نہیں کرتا ہے۔ راجیو گاندھی سبھی کو یکساں سمجھتے تھے۔ خاتون، مرد، معذور، امیر-غریب سب برابر ہیں۔ کورونا وائرس نے اس نظریے کو پختہ کیا ہے۔ راجیو گاندھی ہوتے تو ٹیسٹنگ پر ہی زور دیتے۔ پوری دنیا کی سب سے بہترین ترکیبوں کو ہندوستان میں اختیار کرتے۔ وبا کی اصل حالت کو سب کے سامنے رکھتے۔

Published: undefined

سڑک پر پیدل چلتے مہاجر مزدوروں کی تصویروں پر رد عمل دیتے ہوئے سیم پترودا نے کہا کہ یہ بڑا تکلیف دہ ہے۔ ملک کے وسائل کا استعمال نہیں کرنا شرم کی بات ہے۔ بسوں کو چلانے کے لیے کاغذوں کا بہانا بلاسبب بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت 'نیائے منصوبہ' کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ غریبوں کے ہاتھ میں پیسہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم اس وقت غلط ایشوز پر الجھے ہیں۔ غریبوں کو کھانا، گھر، پیسہ اور سیکورٹی چاہیے۔ ہم نے مہاجرین کو نظر انداز کیا ہے، شرم کی بات ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined