ویڈیوز

ویڈیو: ادب نامہ میں منور رانا کی زندگی، شاعری اور فکری ورثے پر تفصیلی گفتگو

ادب نامہ کی تازہ قسط میں معین شاداب نے منور رانا کی زندگی، ماں اور رشتوں پر مبنی شاعری، مہاجر نامہ، ادبی سفر اور فکری نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی

<div class="paragraphs"><p>گرافکس قومی آواز</p></div>

گرافکس قومی آواز

 

نیشنل ہیرالڈ، نوجیون اور قومی آواز کے ادبی پروگرام ’ادب نامہ‘ کی تازہ قسط میں معروف شاعر منور رانا کی زندگی، شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات پر تفصیلی گفتگو پیش کی گئی۔ پروگرام کے دوران مہمان شاعر اور نقاد معین شاداب نے منور رانا کے فنی اور فکری سفر کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

معین شاداب نے بتایا کہ منور رانا کا اصل نام سید منور علی تھا اور ان کی پیدائش رائے بریلی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ لکھنؤ اور پھر کلکتہ پہنچے، جہاں ان کے شعری شعور نے مزید وسعت حاصل کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ منور رانا کی شخصیت اور شاعری کی تشکیل میں ان کے والد، دادا اور اساتذہ کا اہم کردار رہا۔

قسط میں منور رانا کی شاعری میں ماں، بہن، بیٹی، بھائی اور دیگر انسانی رشتوں کی غیر معمولی اہمیت پر بھی گفتگو کی گئی۔ معین شاداب کے مطابق منور رانا نے ماں کو صرف ایک رشتے کے طور پر نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی علامت کے طور پر پیش کیا، جس نے انہیں عوامی سطح پر بے مثال مقبولیت عطا کی۔

پروگرام میں ان کے کئی معروف اشعار بھی سنائے گئے جن میں محبت، خاندان، مزدور طبقے، سماجی مسائل، ہجرت اور انسانی جذبات کی ترجمانی نمایاں تھی۔ معین شاداب نے منور رانا کی مشہور طویل نظم ’مہاجر نامہ‘ کے پس منظر کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس تخلیق میں ہجرت، یادِ وطن اور تہذیبی وابستگی کے گہرے احساسات جھلکتے ہیں۔ گفتگو کے دوران منور رانا کی غزل گوئی، ان کے منفرد ادبی نظریات اور معاصر معاشرے پر ان کے تبصروں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined