
امیلیا والورڈے
نیلی شیرنی، یعنی ہندوستان کی سینئر خواتین فٹبال ٹیم کے گرد ایک نئی جوش و خروش کی فضا ہے۔ یہ ٹیم مارچ میں آسٹریلیا میں ہونے والے اے ایف سی ویمنس ایشیا کپ کی تیاری کے لیے فی الوقت ترکی میں تربیتی و ایکسپوژر دورے پر ہے۔ اس جوش کی بڑی وجہ سابقہ 2 فیفا ویمنس عالمی کپ میں کوسٹاریکا کی کوچ رہنے والی پُرعزم امیلیا والورڈے کی مختصر مدت کے لیے بطور سرپرست آمد ہے۔
Published: undefined
امیلیا کا کہنا ہے کہ ’’مجھے اپنی ٹیم میں جرأت پسند ہے۔‘‘ یہ وہ خوبی ہے جو امیلیا اپنی نئی شاگردوں میں بھرپور طور پر دیکھنا چاہتی ہیں، کیونکہ براعظم میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر کھیلتے ہوئے پہلی بار 2027 کے فیفا ویمنس عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کی کوشش کریں گی۔ قومی فیڈریشن نے کوچ کو مکمل سہولت فراہم کرتے ہوئے اپنا معاون عملہ بھی مہیا کیا ہے، جن میں گول کیپنگ کوچ ایلی آویلا اور اسٹرینتھ و کنڈیشننگ کوچ خوسے سانچیز شامل ہیں۔
Published: undefined
اے آئی ایف ایف ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے 39 سالہ امیلیا نے بتایا کہ انہیں شمالی امریکہ سے باہر اپنی پہلی ذمہ داری قبول کرنے کی ترغیب کس بات نے دی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’جب ہم چیلنج کے تناظر میں حوصلہ افزائی کی بات کرتے ہیں تو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایک نئی کنفیڈریشن کی ٹیم کے ساتھ عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کا موقع کیا معنی رکھتا ہے۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ہندوستان میں خواتین فٹبال میں اہم کام ہو رہا ہے اور ہمیں ایشین کپ کے لیے کوالیفائی کیے ہوئے 20 برس سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اب ہمارے پاس پہلی بار عالمی کپ تک پہنچنے کا موقع ہے۔‘‘
Published: undefined
اپنے وطن میں محض 23 برس کی عمر میں کوچنگ کیریئر شروع کرنے والی امیلیا نے تیزی سے ترقی کی ہے اور 4 برس کے اندر اندر مونٹریال کے اولمپک اسٹیڈیم میں ڈگ آؤٹ میں نظر آئیں، جہاں انہوں نے 2015 میں اپنے ملک کی جانب سے پہلی فیفا ویمنس عالمی کپ میچ میں قیادت کی۔ اسپین کے خلاف میچ 1-1 سے برابر رہا۔ کوسٹا ریکا کی پہلی خاتون ہیڈ کوچ کے طور پر یہ ایک قابل تحسین کارنامہ تھا۔ وہ 2023 کے عالمی کپ (آسٹریلیا و نیوزی لینڈ) کے لیے کوالیفکیشن کے وقت بھی ٹیم کی ذمہ داری سنبھالتی رہیں۔
Published: undefined
امیلیا سے جب پوچھا گیا کہ 2025کے مایوس کن سال کے باوجود اے ایف سی کے شو پیس ایونٹ کے لیے کوالیفائی کر کے ہندوستانی فٹبال کو چند روشن پہلو دینے والی اس ٹیم کے ساتھ ان کے ابتدائی دن کیسے رہے؟ تو وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ ایک نہایت باوقار گروپ ہے، اور صاف نظر آتا ہے کہ یہ پہلے سے مل کر کام کر رہا ہے۔ کھلاڑی اس کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ میری جانب سے میں نے کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ان کو جان سکوں، کھلاڑیوں کے بارے میں جتنی معلومات ہو سکیں جمع کروں، ان کے ماضی کو سمجھوں اور یقیناً اسٹاف (کریسپن چھیتری اور پریا پی وی) کے بارے میں بھی۔ اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو، ہم آہنگی پیدا کی جائے۔‘‘
Published: undefined
امیلیا سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ وہ سنگیتا باسفور اور ساتھیوں میں کس طرح کا انداز راسخ کرنا چاہتی ہیں؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے مجھے اپنی ٹیموں میں بھرپور جرأت پسند ہے۔ مجھے ایسی ٹیمیں پسند ہیں جو متحد ہوں اور میدان کے اندر اور باہر ایک دوسرے کا سہارا بنیں، دفاع اور حملے دونوں میں۔ ٹیم سے اوپر کوئی نہیں۔ تمام کھلاڑی اہم ہیں، چاہے وہ میدان میں ہوں یا نہ ہوں۔ ہندوستانی ٹیموں (مرد ہوں یا خواتین) کے شائقین کو ایک اہم پیغام دیتے ہوئے امیلیا نے کہا کہ ’’سب سے پہلے ہمیں آپ کی مثبت توانائی اور اچھے جذبات کی ضرورت ہے۔ ٹیم اور کھلاڑی بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ خواب اور امیدیں زندہ ہیں۔ ہم اس عظیم ملک کی بہترین نمائندگی کے لیے پوری محنت کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے، اور امید ہے کہ ہم شائقین کو خوشیاں دے سکیں گے۔‘‘
Published: undefined