کھیل

امید ہے کہ سچن-کوہلی کی طرح ویبھو سوریہ ونشی بھی ملک کا خوب نام روشن کریں گے: سابق کرکٹر چیتن شرما

سابق کرکٹر چیتن شرما نے کہا کہ ’ویبھو سوریہ ونشی نے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ 15 سال کی عمر میں ملک کے لیے کھیلنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ اس عمر میں تو لوگ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کس شعبہ میں کیریئر بنانا ہے‘

<div class="paragraphs"><p>ویبھو سوریہ ونشی، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

ویبھو سوریہ ونشی، تصویر/آئی اے این ایس

 

ہندوستان کے سابق کرکٹر چیتن شرما نے نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کی جم کر تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی کم عمر میں ہندوستانی ٹیم کے لیے بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کرنا اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔ دہلی میں اسکول ٹوٹل ٹی-20 لیگ کی افتتاحی تقریب میں خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے چیتن شرما نے کہا کہ ’’ویبھو سوریہ ونشی نے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ 15 سال کی عمر میں ملک کے لیے کھیلنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ اس عمر میں تو لوگ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کس شعبہ میں کریئر بنانا ہے۔ وہ بہت ہی قابل کھلاڑی ہیں اور ملک کا اثاثہ ہیں۔‘‘

چیتن شرما کے مطابق بی سی سی آئی ویبھو سوریہ ونشی کو بہت اچھے طریقے سے سنبھال رہا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ وہ آہستہ آہستہ بہت بڑے کھلاڑی بنیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ویبھو بھی سچن تندولکر اور وراٹ کوہلی کی طرح آگے چل کر ملک کا نام روشن کریں گے۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کرکٹ میں اسکول کی سطح کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’دیکھیے، اسکول کرکٹ سب سے اہم کرکٹ ہے، یہ ہماری بنیادی سطح ہے۔ کل کے سچن تندولکر، کپل دیو، وراٹ کوہلی یا روہت شرما آج اسکولوں میں ہیں۔ دیکھیے، یہ سبھی یہیں سے آگے بڑھ کر ملک کے لیے کھیلنے پہنچے ہیں اور اس سطح پر توجہ دینا ضروری ہے۔‘‘

سابق ہندوستانی کرکٹر نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ 15 سال سے میں اسکول کرکٹ اور بنیادی سطح کی کرکٹ سے جڑا ہوا ہوں اور اس کے لیے کام کرتا ہوں۔ میں یہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ اپنے دل کی تسلی کے لیے کرتا ہوں۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب ہم اسکول کرکٹ اور بنیادی سطح کی کرکٹ سے جڑتے ہیں۔‘‘ چیتن شرما نے بچوں کو دھوکے بازوں سے بچنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں بچوں تک ایک بات پہنچانا چاہتا ہوں، جو میں نے مائیک پر بھی کہی تھی کہ ان لوگوں کے جھانسے میں مت آئیے گا جو صرف کرکٹ سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ رجسٹریشن فیس لے کر ادھر ادھر کی باتیں کی جاتی ہیں اور بچوں سے فیس وصول کر لی جاتی ہے، لیکن انہیں سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کے اپنے بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے آ جاتے ہیں اور بچوں کو کچھ نہیں ملتا۔ اس لیے اچھی اور منظم لیگ میں کھیلیے، بغیر پیسے دیے کھیلنے کی کوشش کیجیے۔ اگر آپ کو کچھ حاصل ہوگا تو آپ کے والدین کو بھی خوشی ہوگی۔ میں والدین سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے لوگوں اور کمپنیوں سے بچ کر رہیں۔ جب بچوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو بطور کرکٹر ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔