کھیل

ٹوٹ گیا خواب! ایشین گیمز کے لیے کوالیفائی نہیں کر پائیں ونیش پھوگاٹ، سیمی فائنل میں 4-6 سے ملی شکست

عالمی چمپئن شپ میں 2 مرتبہ کانسے کا تمغہ حاصل کرنے والی ونیش پھوگاٹ نے پہلے راؤنڈ میں جیوتی کو 1-7 سے شکست دی اور پھر ایک بڑے مقابلے میں نیشو پر بھی فتح حاصل کی، لیکن میناکشی سے ہار گئیں۔

<div class="paragraphs"><p>ونیش پھوگاٹ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

ونیش پھوگاٹ، تصویر سوشل میڈیا

 

ہندوستان کی معروف خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ کا ’ایشین گیمز 2026‘ میں کھیلنے کا خواب ٹوٹ گیا۔ 30 مئی کو انہیں سیمی فائنل مقابلے میں میناکشی گویت کے ہاتھوں 4-6 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نئی دہلی میں 31 سالہ ہندوستانی خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ 53 کلوگرام زمرے کے ٹرائل سیمی فائنل میں ہار گئیں، جس کے ساتھ ہی ان کی مہم اختتام پذیر ہوگئی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ عالمی چمپئن شپ میں 2 مرتبہ کانسے کا تمغہ حاصل کرنے والی ونیش پھوگاٹ نے پہلے راؤنڈ میں جیوتی کو 1-7 سے شکست دی اور پھر ایک بڑے مقابلے میں نیشو کو معیار کی بنیاد پر ہرایا، لیکن میناکشی کے خلاف کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ میناکشی نے اس سے قبل ایشیائی چیمپئن شپ کے ٹرائلز میں انتم پنگھال کو شکست دے کر اپنی مہم کو آگے بڑھایا تھا۔

Published: undefined

اس سے قبل ہفتہ کی صبح اس بات پر تنازعہ پیدا ہوگیا تھا کہ ونیش کس وزن کے زمرے میں مقابلہ کریں گی۔ ونیش کو بتایا گیا تھا کہ انہیں صرف 50 کلوگرام زمرے میں کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے، کیونکہ انہوں نے پیرس اولمپکس سمیت اپنی گزشتہ 4 بین الاقوامی مقابلوں میں اسی وزن کے زمرے میں حصہ لیا تھا۔ اس پر ونیش نے احتجاج کرتے ہوئے فیڈریشن پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی پسند کے وزن کے زمرے میں مقابلہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ بعد ازاں ونیش کا وزن 53.9 کلوگرام پایا گیا، جس کے بعد انہیں 53 کلوگرام زمرے میں شامل کر لیا گیا۔

Published: undefined

بہرحال، ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر سنجے سنگھ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ونیش کے الزامات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ونیش کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد ہم نے حکام کو ان کا وزن ناپنے کی اجازت دی۔ ہم کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ونیش نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کس زمرے میں مقابلہ کرنا چاہتی ہیں۔ اس کے باوجود ہم انہیں اجازت دے رہے ہیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined