سماج

امریکہ نے ترکی کے نئے نام ترکیہ کو با ضابطہ طور پر اپنا لیا

امریکی حکومت اور اس کے سفارت کار مستقبل کے اپنے بیانات میں ترکی کے نئے نام 'جمہوریہ ترکیہ' کا حوالہ دیا کریں گے۔ ترک حکومت کی جانب سے نام کی تبدیلی کی درخواست کے کئی ماہ بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

امریکہ نے ترکی کے نئے نام ترکیہ کو با ضابطہ طور پر اپنا لیا
امریکہ نے ترکی کے نئے نام ترکیہ کو با ضابطہ طور پر اپنا لیا 

امریکی محکمہ خارجہ نے پانچ جنوری جمعرات کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے بھی سرکاری سطح پر اپنے نیٹو اتحادی ملک ترکی کے نام کی تبدیل شدہ نئی ہجے کو اپنا لیا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی نے حال ہی میں اپنا نام بدل کر ترکی کے بجائے ترکیہ کر لیا تھا۔

Published: undefined

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے دنیا کے تمام ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے نام کی تبدیلی کو اپنانے کے لیے کہا تھا، جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ شمالی امریکی ممالک میں ترکی(Turkey) ایک پرندے کا نام ہے جو، ایک مرغوب غذا بھی ہے۔ نام میں تبدیلی اسی مماثلت سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔

Published: undefined

جمعرات کے روز امریکہ کا یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے، جب رواں ماہ کے اواخر میں ترکی کے وزیر خارجہ چاؤش اوغلو واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔

Published: undefined

امریکہ نے تبدیلی کیوں کی؟

ترکی کے نام کی ہجے میں تبدیلی سب سے پہلے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں ظاہر ہوئی جو، شدت پسند گروپ ''اسلامک اسٹیٹ'' کے مشتبہ فنانسرز کے خلاف امریکہ اور ترکی کی مشترکہ کارروائی کے بارے میں پوسٹ کیا گیا تھا۔

Published: undefined

بعد میں امریکی حکام نے اپنے ایک بیان میں نام کی ہجے کی تبدیلی کی باقاعدہ تصدیق بھی کی، تاہم کہا کہ بول چال میں ان کا تلفظ وہی رہے گا۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نامہ نگاروں کو بتایا، ''ترک سفارت خانے نے درخواست کی تھی کہ ہم اپنی بات چیت میں اس نئی اسپیلنگ یا ہجے کا استعمال کریں۔''

Published: undefined

انہوں نے کہا، ''محکمہ اب اسی ہجے کا استعمال کرے گا، جو آپ نے آج ہمارے عوامی مواصلات سمیت بیشتر سفارتی اور دو طرفہ بیانات میں دیکھا ہے۔'' اس ماہ کے اواخر میں ترکی کے وزیر خارجہ واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں اور توقع ہے کہ وہ وہاں یوکرین پر روسی حملے کے ساتھ ہی فن لینڈ اور سویڈن کی جانب سے نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کی کوششوں پر بات چیت کریں گے۔

Published: undefined

حالانکہ امریکہ نے نام کی تبدیلی کا اعلان تو کر دیا ہے، تاہم اب بھی تبدیلی کا ابتدائی عمل پوری طرح مکمل نہیں ہوا ہے۔ محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ اور خارجی امور کے مینوئل دونوں پر ابھی یہ تبدیلی نہیں نظر آئی ہے۔

Published: undefined

ترکی نے نام کی تبدیلی کی درخواست کیوں کی تھی؟

سن 2021 میں ترک صدر ایردوآن نے لاطینی رسم الخط کا استعمال کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے کہا تھا وہ مستقل طور پر ترکی کے بجائے ترکیہ کا استعمال کریں۔ اقوام متحدہ اور نیٹو نے نام کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کینیڈا، بھارت، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک نے یہ تبدیلی کافی پہلے کر لی تھی۔

Published: undefined

ترکی(Turkey) کو جب گوگل پر سرچ کیا جاتا ہے تو جمہوریہ ترکی کے سرخ پرچم کے ساتھ ہی ٹرکی نام کے ایک پرندے کی تصویر بھی سامنے آتی ہے۔ جسے امریکہ میں 'تھینکس گیونگ ڈے' کے موقع پر بڑے اہتمام کے ساتھ پکایا اور کھایا جاتا ہے۔ ڈکشنری میں ٹرکی کا ایک مفہوم 'احمق اور بے وقوف شخص' بھی درج ہے۔

Published: undefined

صدر رجب طیب ایردوآن کے حکم نامے میں ترکی کو بدل کر ترکیہ کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ یہ لفظ ترک قوم کی ثقافت، تہذیب اور اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔ تاہم بعض مبصرین اسے ملک کی ری برینڈنگ کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

Published: undefined

ترکی گزشتہ کئی برسوں سے اپنی مصنوعات کی برانڈنگ ''میڈ ان ٹرکی'' سے ''میڈ ان ٹرکیہ'' کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوآن نے گزشتہ برس ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ تمام رسمی مراسلت اور کاروباری برانڈنگ میں ترکی کے بجائے ترکیہ کا لفظ استعمال کیا جائے۔

Published: undefined

حالانکہ ترکی کے عوام کی اکثریت پہلے سے ہی اپنے ملک کو ترکیہ پکارتے ہیں لیکن اس کے باوجود انگریزی میں استعمال کیا جانے والا نام ترکی ملک کے اندر بھی کافی مقبول ہے۔ ترکی کے برآمد کنندگان کی تنظیم نے ملک کی مصنوعات پر جنوری 2020 سے ہی 'میڈ ان ترکیہ' لکھنا شروع کر دیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined