سماج

امریکی ملازمتوں میں کٹوتیاں، ہزاروں ایشیائی ملازمین بے روزگار

امریکہ میں ٹیکنیکل کمپنیوں کی طرف سے جاب کٹوتی کے سلسلے سے سب سے زیادہ متاثر ایشیائی ورکرز ہوئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ایسے ملازمین کو امریکی کمپنیوں نے ملازمت سے فارغ کردیا ہے۔

امریکی ملازمتوں میں کٹوتیاں، ہزاروں ایشیائی ملازمین بے روزگار
امریکی ملازمتوں میں کٹوتیاں، ہزاروں ایشیائی ملازمین بے روزگار 

گزشتہ تین سالوں کے دوران مختلف معاشروں کے چند اہم ترین شعبوں میں بہت زیادہ بھوچال آیا۔ یہ شروعات کورونا کی مہلک عالمی وبا سے ہوئی اور اُس کے بعد روس اور یوکرین کی جنگ نے دنیا بھر میں اقتصادی بحران ، کسادبازاری اور توانائی کے بحران کو جنم دیا ۔

Published: undefined

سب سے زیادہ منفی اثرات دنیا بھر میں روزگار کی منڈی پر مرتب ہوئے۔ امریکہ جیسا ملک جس میں ہر طرح کی صنعت اور شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے کبھی روزگار کے بہت مواقع ہوا کرتے تھے، وہاں کسادبازاری اور توانائی کے بحران کی وجہ سے بہت سی کمپنیوں نے ملازمتوں کٹوتی شروع کر دی۔ امریکہ میں ہر شعبے اور کمپنی میں کام کرنے والوں کا ایک اچھا خاصہ بڑا تناسب ایشیائی ورکرز پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ امریکہ میں ٹیکنیکل کمپنیوں نے ملازمتوں میں کٹوتیاں شروع کیں تو اس فیلڈ میں کام کرنے والے ہزاروں غیرملکیوں کے روزگار کے دروازے بند ہونا شروع ہوئے۔

Published: undefined

ایشیائی آئی ٹی ماہرین کا مستقبل

امریکہ کی 'ٹیک کمپنیوں‘ کی طرف سے ہزاروں کارکنوں کو ملازمتوں سے فارغ کیے جانے کی وجہ سے بیرون ملک خاص طور سے ایشیائی ممالک سے امریکہ جا کر کام کرنے والوں کی ملازمتیں غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ایشیائی آئی ٹی ماہرین زیادہ تر ورک ویزا پر امریکہ میں ہیں اور اب ان کی ملازمتوں کے ختم ہونے سے ان کے سروں پر بے روزگاری کا پہاڑ گرا ہے۔

Published: undefined

حالیہ ہفتوں کے دوران فیس بک کی مالک کمپنی میٹا، ایمیزون اور ٹرانسپورٹ کی بہت بڑی کمپنی لفٹ نے ملازمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے کیونکہ امریکی ٹیک انڈسٹری غیر یقینی معاشی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔

Published: undefined

بڑھتی ہوئی شرح سود اور صنعت میں گنجائش سے زیادہ افرادی قوت کی وجہ سے صرف نومبر میں چھیالیس ہزار ملازمتوں میں کٹوتی کی گئی۔ یہ اعداد و شمار بے روزگار افراد سے متعلق ایک ویب سائٹ layoffs.fyi نے منظر عام پر لائے ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے برطرف کیے گئے ملازمین کی فہرست بھی تیار کی تاکہ انہیں آئندہ کے لیے ملازمت پر رکھنے والی کمپنیوں کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم سے عام ہونے والی خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ میں غیر ملکی کارکنوں کو خاص طور پر برطرفی کی تازہ لہر سے سخت نقصان پہنچا ہے۔

Published: undefined

غیر ملکی ہُنر مند اور امریکی ویزے کا جال

سوجاتا کرشناسوامی جیسے کارکنوں کے لیے، جو نام نہاد H-1B ویزا پر امریکہ آئے تھے، ملازمتوں سے محروم ہونا ان کی رہائشی حیثیت کو خطرہ میں ڈالنے کا باعث ہے۔ سن دوہزار اکیس کے مالی سال میں منظور شدہ H-1B وصول کنندگان کو ملنے والے روزگار میں سے تقریباً 70 فیصد تکنیکی ملازمتیں تھیں۔ یہ ویزا امریکی آجروں کو مخصوص ملازمتوں کے لیے غیر ملکیوں کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کے لیے بیچلرز ڈگری یا اس کے مساوی کوئی ڈگری ہونالازمی ہے۔ H-1B ویزا رکھنے والے غیر ملکی امریکہ میں اپنی ملازمت کے لیے کمپنیاں تبدیل کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لیے ان کے پاس صرف 60 دن ہوتے ہیں۔ اگر انہیں ان دو مہینوں میں کوئی نئی نوکری نہیں ملی تو انہیں ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔

Published: undefined

نیو یارک میں مقیم لیبر قوانین کے ایک وکیل ماہر ناصر کے مطابق ''یہ تکنیکی برطرفی ایسی چیز ہے جس کا میں نے پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا۔‘‘ وہ 2010ء سے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے برطرف کیے گئے آئی ٹی ماہرین کی اتنی بڑی تعداد پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اس چیز نے انہیں بہت حیران کیا ہے۔

Published: undefined

یہ آئی ٹی ماہرین پہلے میٹا، ٹویٹر اور ایمیزون کے لیے کام کرتے تھے اور اب وکیل ماہر ناصر سے مشورہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس وکیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ان میں بہت سے لوگ بھارت اور ایشیا کے دیگر ممالک سے ہیں۔‘‘

Published: undefined

امریکہ کی ٹیکنیکل انڈسٹری میں ایشیائی کارکنوں کی تعداد ہت زیادہ ہے کیونکہ یہاں مقامی آبادی میں ماہروں کی کمی ہے۔ ویزا کی ضروریات اور ضوابط کے تحت امریکی آجرین کسی غیر ملک سے آسامی پُر کر سکتے ہیں بشرطیکہ اس کام کے لیے کوئی امریکی کارکن دستیاب نہ ہو۔

Published: undefined

امریکہ کی شہریت اور امیگریشن سروس کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 ء کے بعد سے ایمیزون، میٹا، لیفٹ سیلزفورس، اسٹرائپ اور ٹویٹر جیسی بڑی امریکی ٹیک فرموں نے مجموعی طور پر 45 ہزار غیر ملکی شہریوں کے لیے ویزا درخواستیں دائر کی تھیں۔

Published: undefined

سوجاتہ کرشنا سوامی ان ٹیکنیکل پروفیشنلز میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو غیر ملکی ہنر کی اس ناقابل تسخیر بھوک پر قربان کر دیا۔ انہوں نے کمپیوٹر ساز کمپنی ڈیل میں کئی سالوں تک کام کیا اور اس سے پہلے کہ وہ پی ڈبلیو سی میں مشاورت کے لیے ایک مختصر مدت کے لیےاپنی ملازمت تبدیل کرتیں، مئی 2020 ء میں انہوں نے اپنے ٹوئٹر کیریئر کا آغاز سکیورٹی اینڈ پرائیویسی ڈیپارٹمنٹ میں ٹیکنیکل پروگرام مینیجر کے طور پر کیا۔ انہوں نے LinkedIn پر لکھا،''میں نے دن رات کام کیا یہاں تک کہ جب میں حاملہ تھی۔ میں نے صارفین اور ریگولیٹرز سے ٹویٹر کی سکیورٹی اور پرائیویسی کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ہر روز اپنے دل اور جان سے وقت صرف کیا۔‘‘

Published: undefined

کرشنا سوامی نے کہا کہ نومبر کے اوائل میں انہیں مکمل بے خبری میں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا اور جو کچھ ہوا اس پر کارروائی کرنے میں انہیں دو دن لگے۔ تاہم کرشنا کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ ان کا H-1B ویزا ان کی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

Published: undefined

امریکی ویزا ایک پہیلی

امریکی امیگریشن حکام ہر سال تقریباً 85 ہزار H-1B ویزے جاری کرتے ہیں جو وصول کنندگان کو زیادہ سے زیادہ چھ سال تک ملک میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جن لوگوں نے عارضی رہائشی حیثیت حاصل کی ہے ان میں سے بہت سے اپنے آجروں کے ذریعے نام نہاد گرین کارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انہیں قانونی طور پر مستقل رہائشی کا درجہ دیتا ہے۔

Published: undefined

گرین کارڈ کے درخواست دہندگان جنہوں نے اپنی ملازمتیں کھو دی ہیں وہ نہ صرف چھ ماہ کے بعد اپنے H-1B ویزا سے محروم ہو جائیں گے، بلکہ اگر انہیں اسپانسر کے طور پر کوئی نیا آجر نہیں ملتا ہے تو وہ گرین کارڈ حاصل کرنے کا موقع بھی کھو دیں گے۔

Published: undefined

ہر سال امریکی آجروں کی طرف سے گرین کارڈز کے لیے سپانسر کیے جانے والے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد سالانہ قانونی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ اس عددی حد کساتھ ساتھ ایک اور حد یہ ہے کہ کچھ ممالک کے لیے روزگار پر مبنی گرین کارڈ کے حصول کی 7 فیصد حد بھی مقرر ہے۔ اس کا مقصد روزگار پر مبنی گرین کارڈ کے حصول پر اجارہ داری کو روکنا ہے۔

Published: undefined

امیگریشن پالیسی کے تجزیہ کار ولیم اے کینڈل نے امریکی کانگریس کو 2020 ء میں ایک خصوصی رپورٹ پیش کی تھی جس میں لکھا تھا، '' بڑی تعداد میں تارکین وطن بھجوانے والے ممالک کے شہریوں کے لیے مذکورہ عددی حد اور فی ملک کی حد دراصل روزگار پر مبنی گرین کارڈز کے لیے غیر معمولی طور پر طویل انتظار کی وجہ بنی ہے۔‘‘ رپورٹ میں کنڈیل کے فراہم کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی باشندوں کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے متوقع انتظار کا وقت 195 سال ہوگا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined