سماج

سکا خان کو ویزا مل گیا، 75برس بعد پاکستانی رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی

بھارتی شہری سکہ خان کے لیے تقسیم ملک کا زخم 75 برس بعد مندمل ہو رہا ہے۔ پاکستان کا ویزا مل جانے کے بعد اب وہ پنجاب کے فیصل آباد میں اپنے بھائی صدیق اور رشتہ داروں سے ملے گا۔

سکا خان کو ویزا مل گیا، 75برس بعد پاکستانی رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی
سکا خان کو ویزا مل گیا، 75برس بعد پاکستانی رشتہ داروں سے ملاقات ہوگی 

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھارتی شہری محمد حبیب عرف سکا خان کو جمعے کے روز ویزا جاری کر دیا۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں سکا خان کو ویزا ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

Published: undefined

پاکستانی ہائی کمیشن نے سکا خان کو ویزا جاری کرنے کی اطلاع ٹوئٹر پر بھی دی۔ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں ان کے ہاتھ میں پکڑے پاسپورٹ پر ویزے کے مہر لگی ہوئی ہے۔ ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے،''آج سکا خان کو پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان میں اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔‘‘

Published: undefined

پاکستانی ہائی کمیشن نے کہا کہ دونوں بھائیوں کی ملاقات اس بات کابہت بڑا ثبوت ہے کہ کرتار پور کوریڈور کو ویزا فری کھولنے کا پاکستان کا تاریخی فیصلہ دونوں ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لارہا ہے۔

Published: undefined

بھائیوں کی ملاقات سوشل میڈیا کی مرہون منت

ان بچھڑے بھائیوں کی ملاقات پچھتر برس بعد گزشتہ 10 جنوری کو پاکستان میں واقع کرتارپور صاحب گردوارے میں ہوئی تھی۔ دونوں بھائیوں محمد حبیب اورمحمد صدیق کی جذباتی ملاقات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی تھی۔

Published: undefined

سکا خان نے کہا تھا، ''ہم پھر ضرور ملیں گے، میں اپنا آخری وقت اپنے بھائی اور ان کے خاندان کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔‘‘ دوسری طرف محمد صدیق نے کہا تھا،''عمران خان سے کہتا ہوں کہ وہ بچھڑے ہوئے بھائیوں کو ملانے کے لیے میرے بھائی محمد حبیب کو پاکستان کا ویزا دے دے۔ زندگی کی آخری سانسیں ہم اکھٹے گزار لیں تو شاید ماں باپ، بہن بھائیوں سے بچھڑنے کا دکھ کچھ کم ہو سکے۔‘‘

Published: undefined

دراصل ناصرڈھلون نامی ایک پاکستانی پنجابی، تہذیب و ثقافت اور تقسیم وطن پر مبنی ایک یو ٹیوب چینل چلاتے ہیں۔ سن 2019میں وہ اپنے کام کے سلسلے میں فیصل آباد ضلع میں بوگران گاوں سے گزر رہے تھے، جہاں انہیں محمد صدیق کی کہانی معلوم ہوئی کہ کس طرح 1947میں تقسیم وطن کے ہنگامے کے دوران وہ اپنے والد کے ساتھ پاکستان چلے آئے جبکہ ان کی والدہ اور چھوٹا بھائی بھارت میں رہ گئے۔ محمد صدیق جب اپنے بھائی اور والدہ سے بچھڑے تو اس وقت سکا خان کی عمر دو برس تھی۔

Published: undefined

محمد صدیق کو یقین تھا کہ ان کا بھائی اب بھی باحیات ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپنے بھائی کا پتہ لگانے کی اپیل کی۔ ان کی یہ اپیل جب یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تو بھارتی پنجاب کے گاؤں پھول والا کے ایک ڈاکٹر نے لکھا کہ صدیق جس شخص کی تلاش میں ہیں وہ حبیب عرف سکا خان کے نام سے ان کے گاؤں میں رہتے ہیں۔

Published: undefined

لیکن دونوں بھائیوں کی ملاقات کے لیے ضروری دستاویزات کی خانہ پری میں مزید دو برس لگ گئے۔ بالآخر بھارت اور پاکستان کے عہدیداروں نے کرتار پورصاحب گردوارے میں دونوں بھائیوں کی ملاقات کی اجازت دے دی۔

Published: undefined

بھارت کا ردعمل

سکا خان کی اپنے بھائی سے ملاقات اور ویزا جاری کیے جانے پر بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی سیاحت کی ''مثبت اپروچ‘‘ کا نتیجہ ہے اور نئی دہلی دونوں ملکوں کے درمیان زیارت کو وسعت دینے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ بلوچستان میں مندروں اور سندھ اور خیبر پختونخوا میں گردواروں میں بھی بھارتی زائرین کو جانے کی اجازت دی جائے۔

Published: undefined

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی کا اس حوالے سے کہنا تھا، ''بھارت کا اس معاملے پرمثبت رویہ ہے اور پاکستان سے بات چیت کا خواہش مند ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،''آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت کووڈ انیس کی وجہ سے بعض پابندیاں ہیں لیکن جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے ہمیں توقع ہے کہ مذہبی مقامات کی زیارت کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مابین 1974کے پروٹوکول کے تحت بات چیت ہوسکتی ہے۔‘‘

Published: undefined

دریں اثنا پاکستانی میڈیا کی خبروں کے مطابق محمد صدیق نے اپنے بھائی کو پاکستانی ویزا جاری کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ''سارا خاندان اور گاؤں خوش ہے۔ گاؤں والے بار بار آکر پوچھ رہے ہیں کہ بھائی کب پہنچیں گے۔ بہت سارے لوگ ان کا استقبال کرنے کے لیے واہگہ بارڈر پر جائیں گے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined