سماج

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ بھارت کے دورے پر

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ بھارت ایک ’قابل اعتماد دوست‘ ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان ’طویل عرصے سے‘ پانی کی تقسیم کے تنازعے کا حل کیا جانا بھی بہت ضروری ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس 

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ بھارت کے تین روزہ دورے پر پانچ ستمبر پیر کے روز نئی دہلی پہنچ گئی ہیں، وہ اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گی۔ ان کے دورے کے ایجنڈے میں دفاعی تعاون میں اضافہ، علاقائی رابطوں کے حوالے سے اقدامات میں توسیع اور جنوبی ایشیا میں استحکام اہم موضوعات ہیں۔

Published: undefined

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نے آخری بار سن 2019 میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ گزشتہ برس بنگلہ دیش کی آزادی کی 50 ویں سالگرہ تھی اور ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان کا 100 واں یوم پیدائش بھی منایا گیا تھا۔ اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔ سن 2015 کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اب تک 12 مرتبہ آپس میں ملاقات کر چکے ہیں۔

Published: undefined

آمد سے قبل حسینہ کا بیان

نئی دہلی کے لیے روانہ ہونے سے ایک دن قبل ڈھاکہ میں ایک بھارتی خبر رساں ادارے سے بات چیت میں شیخ حسینہ نے پانی کے دیرینہ تنازعے کے حل پر زور دیتے ہوئے بھارت اور چین کی رقابتوں پر بھی بات کی تھی۔

Published: undefined

ان کا کہنا تھا، ’’ہم نیچے کی طرف ہیں، پانی بھارت سے آتا ہے، اس لیے بھارت کو مزید فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس سے دونوں ممالک مستفید ہوں گے۔ بعض اوقات ہمارے لوگوں کو اس کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، خاص طور پر دریائے تیستا کی وجہ سے۔‘‘

Published: undefined

شیخ حسینہ نے مزید کہا، ’’ہم نے پایا کہ وزیر اعظم (نریندر مودی) اس کو حل کرنے کے لیے کافی بے چین ہیں لیکن مسئلہ بھارت میں ہے۔ ہم صرف گنگا کا پانی ہی بانٹتے ہیں لیکن ہمارے درمیان 54 دیگر دریا بھی ہیں۔ یہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور اسے حل کیا جانا چاہیے۔‘‘

Published: undefined

اس موقع پر شیخ حسینہ نے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط تعلقات کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ’’یہاں تک کہ سن 1975 میں جب میں نے اپنے خاندان کے تمام افراد کو کھو دیا تھا، اس وقت بھی بھارتی وزیر اعظم نے مجھے بھارت میں پناہ دی تھی۔‘‘

Published: undefined

پانی کا دیرینہ تنازعہ

بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی پانی کے حوالے سے تقریباﹰ اسی نوعیت کا تنازعہ پایا جاتا ہے، جیسا بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک زمانے سے موجود ہے۔ بھارت نے سرحدی علاقوں میں توانائی کے لیے بڑے بڑے بند تعمیر کر لیے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نصف پانی پڑوسی ملک کو دینے کے بجائے بیشتر خود ہی استعمال کرتا ہے۔

Published: undefined

دریائے تیستا بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ تاہم بھارت نے ریاست سکم میں کئی بڑے ڈیم تعمیر کیے ہیں جن کی وجہ سے بیشتر پانی اسی میں صرف ہو جاتا ہے۔ تاہم سب سے بڑا مسئلہ ریاست مغربی بنگال میں تعمیر کردہ ایک نیا اور بہت بڑا ڈیم ہے۔

Published: undefined

ماضی میں بھارت کی مرکزی حکومتیں اس حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک حتمی معاہدہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں تاہم ریاست مغربی بنگال کی حکومت اس کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے بنگلہ دیش کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو اس کے کئی اضلاع بری طرح متاثر ہوں گے۔ اس لیے وہ اس طرح کے معاہدے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

Published: undefined

چین اور بھارت میں توازن

بھارتی میڈیا میں شیخ حسینہ کے اس بیان کے بھی کافی تذکرے ہیں، جس میں انہوں نے بھارت کے ساتھ ہی چین اور ڈھاکہ کے گہرے تعلقات کے بارے میں بھی بات کی۔ اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں حسینہ نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد اپنے ملک کی ترقی ہے۔

Published: undefined

ان کا کہنا تھا، ’’ہماری خارجہ پالیسی بہت واضح ہے، سب سے دوستی اور کسی سے بھی بغض نہیں۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ چین اور بھارت کے درمیان ہے۔ میں اس مسئلے میں اپنی ناک نہیں پھنسانا چاہتی۔‘‘ شیخ حسینہ نے دونوں ممالک کے درمیان تمام طرح کے مسائل کے دو طرفہ حل پر زور دیا۔

Published: undefined

ان کا کہنا تھا، ’’جب آپ ساتھ ساتھ رہتے ہیں، تو کچھ مسائل کا بھی سامنا ہوتا ہے، اگر آپ چاہیں تو انہیں حل کر لیں یا پھر ان کے ساتھ ہی رہیں۔ ہمارے درمیان بھی مسائل ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم اپنی بات چیت جاری رکھیں گے۔ ہماری اپنی ترقی کے لیے، جو ملک کے لیے موزوں ہو، ہم ضرورت کے تحت کسی بھی ملک کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘

Published: undefined

بنگلہ دیش کے ساتھ جہاں بھارت کے رشتے اچھے ہیں وہیں چین کے ساتھ بھی ڈھاکہ کے گہرے روابط ہیں۔ تاہم بھارت اور چین کے کشیدہ تعلقات کے حوالے سے نئی دہلی میں اس بات پر تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا پڑوسی ملک بنگلہ دیش چین سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ سری لنکا، پاکستان، نیپال اور بھوٹان جیسے بھارت کے بیشتر پڑوسی ملکوں کے بھی چین کے ساتھ گہرے روابط ہیں اور اس حوالے سے نئی دہلی میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

Published: undefined

شیخ حسینہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی معیشت مضبوط ہے اور وہ وقت پر اپنے ذمے واجب قرض ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے معاشی بحران کے حوالے سے اس امکان کو مسترد کر دیا کہ سری لنکا کی طرح بنگلہ دیش میں بھی کوئی افراتفری شروع ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined