سماج

ہفتے میں چار دن کام، تین دن آرام: کتنا فائدہ مند ہے؟

بیلجیم میں ملازمین کو ہفتے میں چار دن کام کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ کئی ممالک کے ادارے بھی اس راہ پر چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چار دن کام کرنے کا تجربہ کیوں مقبول ہو رہا ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں؟

ہفتے میں چار دن کام، تین دن آرام: کتنا فائدہ مند ہے؟
ہفتے میں چار دن کام، تین دن آرام: کتنا فائدہ مند ہے؟ 

دنیا کے زیادہ تر ممالک میں سرکاری و نجی اداروں میں ہفتے میں پانچ دن کام کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اتنی ہی تنخواہ میں پانچ کی بجائے چار دن کام کیا جائے اور لوگ باقی تین دن اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں تو کیا ان کی کارکردگی بہتر ہو گی یا خراب؟

Published: undefined

چار دن کام کرنے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ اختیار کرنے سے ملازمین کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور اداروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ کئی یورپی ممالک میں اس طریقہ کار کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن عملی طور پر یہ راہ اختیار کرنے میں بیلجیم سرفہرست ہے۔

Published: undefined

بیلجیم میں اب سے ملازمین کو اختیار ہو گا کہ وہ خود طے کریں کہ آیا وہ ہفتے میں چار روز کام کرنا چاہتے ہیں پانچ روز۔ چار دن کام کرنے کی صورت میں انہیں یومیہ زیادہ وقت تک کام کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ وہ خود ہی یہ فیصلہ بھی کر سکیں گے کہ انہیں کون سے چار دن کام کرنا ہے۔

Published: undefined

بیلجیم کے وزیر اعظم الیکزانڈر دے کرو نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ماڈل کو اختیار کرنے سے شہری اپنی دفتری اور نجی زندگی میں توازن قائم کر سکیں گے۔ لیکن ایسے ماڈل کا فائدہ کیا ہے اور نقصانات کیا ہیں؟ ڈی ڈبلیو نے جائزہ لیا کہ اب تک یہ تجربہ کن ممالک میں کیا جا چکا ہے اور اس کے نتائج کیسے رہے۔

Published: undefined

آئس لینڈ: تنخواہ پوری لیکن کام کا دورانیہ کم

آئس لینڈ میں بھی بیلجیم کا طرح اس ماڈل کا تجربہ سن 2015 اور سن 2019 کے درمیان کیا گیا۔ تاہم اس ملک نے ہفتے میں 40 گھنٹے کام کی بجائے دورانیہ بھی کم کے ہفتے میں 35 یا 36 گھنٹوں تک محدود کر دیا تھا، تاہم تنخواہ اتنی ہی رکھی گئی تھی۔

Published: undefined

تجرباتی بنیادوں پر ڈھائی ہزار ملازمین نے اس ماڈل میں شمولیت اختیار کی۔ تجربے کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ شرکا کی صحت میں نمایاں بہتری رونما ہوئی اور ان کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی۔ کامیاب تجربے کے بعد اس ماڈل کو ملک بھر میں متعارف کرا دیا گیا اور اب آئس لینڈ کے 86 فیصد ملازمین ہفتے میں چار دن کام کرتے ہیں اور وہ بھی 40 نہیں بلکہ 36 گھنٹے۔

Published: undefined

سکاٹ لینڈ اور ویلز: ایک مہنگا تجربہ

سکاٹ لینڈ میں بھی ان دنوں ہفتے میں چار دن کام کرنے کا تجربہ جاری ہے۔ اس تجربے کے لیے حکومت کمپنیوں کو قریب 14 ملین ڈالر کی مالی معاونت بھی فراہم کر رہی ہے۔

Published: undefined

ویلز کی حکومت بھی یہی راہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ابتدا میں 'چار دن کا ہفتہ‘ صرف سرکاری ملازموں کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

Published: undefined

فن لینڈ سے 'فیک نیوز‘

عالمی میڈیا میں فن لینڈ کے بارے میں بھی کچھ عرصہ پہلے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وہاں بھی ہفتے میں چار روز کام کا ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔ تاہم ایسی خبریں اس وقت 'فیک نیوز‘ ثابت ہوئی جب فن لینڈ کی حکومت نے بتایا کہ وہ فی الوقت یہ ماڈل اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

Published: undefined

اسپین میں ماڈل کا تجربہ ہی سست روی کا شکار

اسپین میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت کی درخواست پر اس ماڈل کا تجربہ کیا جانا ہے۔ تجرباتی بنیادوں پر قریب 200 چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے چھ ہزار ملازمین کو اس کام کے لیے منتخب کیا جانا تھا۔ اس ماڈل کا تجربہ گزشتہ برس شروع کیا جانا تھا تاہم ابھی تک اس کا آغاز نہین ہو پایا۔

Published: undefined

جرمنی اور دیگر ممالک

جرمنی میں اب تک چھوٹی اسٹارٹ اپ کمپنیوں نے ہی چار دن کام کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم جاپان میں کئی بڑی کمپنیاں بھی چار دن کام کروا کر اس ماڈل کی افادیت کا جائزہ لے رہی ہیں۔ مائیکرو سافٹ نے بھی تجرباتی بنیادوں پر مہینے کے آخری ہفتے صرف تین دن کام کرنے کا ماڈل متعارف کرایا ہے۔

Published: undefined

ملٹی نیشنل کمپنی یونی لیور نے نیوزی لینڈ میں 'چار روزہ ہفتے‘ کا تجربہ شروع کر رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اور یہ تجربہ کارآمد ثابت ہوا تو کمپنی اسے دوسرے ممالک میں بھی متعارف کرا دے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined