سماج

بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد، اٹلی میں ہنگامی حالت کا اعلان

بحیرہ روم عبور کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کے بعد اٹلی نے چھ ماہ کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ حکومت کو اس امر کا ادراک ہے کہ اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد، اٹلی میں ہنگامی حالت کا اعلان
بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد، اٹلی میں ہنگامی حالت کا اعلان 

اطالوی حکومت کی طرف سے منگل کے روز بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں '' واضح اضافے‘‘ سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ایمرجنسی تقریباً چھ ماہ تک لاگو رہے گی جبکہ اٹلی کے جنوب میں تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کی خاطر پانچ ملین یورو (تقریباً 5.45 ملین ڈالر) فراہم کیے جائیں گے۔

Published: undefined

یہ رقم تارکین وطن کے لیے نئے استقبالیہ مراکز کے قیام کے فنڈز کے طور پر دی جائے گی۔ اس فنڈ کے استعمال سے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے اٹلی میں رہنے کی اجازت نہ ملنے والوں کو تیزی سے وطن واپس بھیجنا آسان ہو جائے گا۔

Published: undefined

شہری تحفظ کے وزیر نیلو موزیومیسی نے کہا کہ ''یہ واضح ہو جائے کہ ہم یہ مسئلہ حل نہیں کر رہے ہیں، بلکہ اس کا حل صرف یورپی یونین کی ذمہ دارانہ مداخلت سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔‘‘ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سال اب تک 31 ہزار سے زائد تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں، جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں ان کی تعداد تقریباً 7,900 تھی۔

Published: undefined

ایسٹر کے دوران تارکین وطن کی آمد

اطالوی نیوز ایجنسی ANSA کے مطابق تقریباً 2,000 افراد ایسٹر کے طویل ویک اینڈ پر شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع اطالوی جزیرے لامپا ڈوسا پر کشتی کے ذریعے پہنچے۔ جیسے جیسے سردیوں کا موسم، موسم گرما میں تبدیل ہونے لگتا ہے ویسے ویسے تارکین وطن کا بحیرہ روم عبور کرنے کا حجم بھی بڑھ جاتا ہے۔

Published: undefined

اطالوی کوسٹ گارڈ نے سسلی کے ساحل پر ماہی گیری کی کشتی سے 800 کے قریب افراد کو بچا لیا جبکہ ایک دوسری کشتی پر بھی تقریباً 400 افراد سوار تھے، جنہیں ساحل تک لایا جارہا تھا۔ ایک غیر سرکاری تنظیم ''سی واچ اٹلی‘‘ نے منگل کو ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایک اور کشتی، جس میں تقریباً 400 تارکین وطن سوار تھے، مالٹا کی بحری حدود میں بہہ گئے ہیں۔

Published: undefined

سی واچ اٹلی کی ایک ترجمان جارجیا لینارڈی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہمارے فضائی نگرانی کے مشن نے مالٹا کے سرچ اینڈ ریسکیو ایریا میں ایک بڑی ماہی گیری کشتی میں سوار مزید 400 افراد کو سمندری لہروں میں ڈگمکاتے انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار اور پریشانی میں مبتلا دیکھا ہے۔‘‘

Published: undefined

سی واچ اٹلی کی ترجمان جارجیا لینارڈی نے تاہم اپنی این جی او کو روم حکومت کے اقدام اور ہنگامی صورتحال پر لاحق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح پناہ کے خواستگاروں کی درخواست کا بغور جائزہ لیے بغیر ان پناہ کے متلاشیوں کو اٹلی سے حتمی طور پر بے دخل کر دیے جانے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔

Published: undefined

رواں سال اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن

اس سال اب تک اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد آئیوری کوسٹ سے رہی۔ اس کے بعد گنی، پاکستان، مصر، تیونس اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن بحیرہ روم کے راستے اٹلی پہنچے۔ بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ نے اس بارے میں اپنے اعداد و شمار کے حوالے سے بھی اس تعداد کی تصدیق کی ہے۔

Published: undefined

برسوں سے، زیادہ تر اسمگلروں کی کشتیاں خطرناک بحیرہ روم کا رستہ اختیار کر رہی ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر مغربی لیبیا سے روانہ ہوتی ہیں۔ لیکن حالیہ مہینوں میں بہت سی کشتیاں مشرقی لیبیا یا تیونس سے بھی تارکین وطن کو لے کر بحیرہ روم کی طرف بڑھتی دکھائی دیں۔ تارکین وطن کا ایک اور روٹ ترکی سے شروع ہوتا ہے اور کالابریا تک یا اطالوی سرزمین کے جنوبی سرے پوگلیا تک پہنچتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined