سماج

کیا دنیا بدل رہی ہے؟

سب سے پہلے کورونا بحران نے معاشی شعبوں میں عالمی یکجہتی میں دراڑیں پیدا کر دیں۔ اب یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں کئی اہم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کیا یہ ڈی گلوبلائزیشن کی علامات ہیں؟

کیا موجودہ گلوبلائزڈ ورلڈ، ڈی گلوبلائزیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟
کیا موجودہ گلوبلائزڈ ورلڈ، ڈی گلوبلائزیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟ 

آپ نے عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے بارے میں تو یقیناﹰ سنا ہوگا، لیکن آپ کا ڈی گلوبلائزیشن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ سپلائی چَین میں رکاوٹیں، بڑھتے ہوئے اخراجات، قلت جیسے تمام معمول کے حقائق اس عمل سے منسلک ہوسکتے ہیں، جسے ڈی گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے۔

Published: undefined

بعض ماہرین کورونا وبا کے ساتھ ساتھ یوکرین جنگ کو گلوبلائزیشن کی تنزلی کی جانب ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ مگر دنیا کا یہ نیا نظام مستقبل میں کیسی شکل اختیار کرے گا؟

Published: undefined

گلوبلائزیشن کی مختصر تعریف

ماہرین عام طور پر عالمگیریت کی تین اقسام بیان کرتے ہیں: معاشی، سماجی، اور سیاسی عالمگیریت۔ معاشی عالمگیریت تجارت کے اعتبار سے عالمی معیشت کا انضمام ہے۔ اس عمل کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ گلوبلائزیشن سے غربت کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے اور اس سے لوگوں کی زندگیوں کا معیار بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم بعض ناقدین اِس گلوبلائزڈ ورلڈ میں موجود عدم مساوات کی بھرپور مخالفت بھی کرتے ہیں۔

Published: undefined

میونخ کی ایل ایم یو یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر آندریاس ورشِنگ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بین الاقوامی اور صنعتی معاشروں میں عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول، ''جہاں معاشی عالمگیریت کی کامیابیاں ہیں، وہیں خامیاں بھی ہیں، انہیں رد نہیں جاسکتا۔‘‘

Published: undefined

جرمن ادارے بیرٹلسمان فاؤنڈیشن سے منسلک ماہر معیشت کورا یُنگ بلوتھ عالمگیریت کے منفی سماجی اور ماحولیاتی اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ امیر ممالک کے ورکرز کی ملازمتیں کم اجرت والے ممالک میں منتقل ہونا شروع ہوگئیں۔ ''ملٹی نیشنل کارپوریشنز نے ترقی پ‍زیر ممالک میں غیر منصفانہ طریقے سے کام کرنا شروع کردیا، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی مسائل بھی پیدا ہوگئے۔‘‘

Published: undefined

گلوبلائزیشن اور کساد بازاری

عالمگیریت کے نظام میں ملکی معیشت کا انحصار دیگر ممالک کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سن نوے سے دو ہزار تک دنیا بھر میں ملکوں کی آپس میں ہونے والی تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ لیکن سن 2008 اور سن 2009 کے مالیاتی بحران کے بعد سے اس عمل میں واضح کمی ہونا شروع ہوگئی۔ امریکا میں ڈارٹماؤتھ کالج میں معیشت کے پروفیسر ڈگلس اِرون کہتے ہیں کہ یہ گراوٹ عوامیت اور تحفظ پسندانہ معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں لیکن گلوبلائزیشن کی اس تنزلی میں کئی اور دیگر اسباب بھی شامل ہیں۔

Published: undefined

کورونا وبا کے اثرات

معاشی طور پر کورونا وبا کے بحران کے دوران سپلائی چین میں واضح طور پر کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ سے سپرمارکیٹوں میں ٹوائلٹ پیپر سے لے کر ضروری اشیائے خور ونوش کی قلت اور قیمتوں میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا تھا۔ ہارورڈ کینیڈی اسکول کی سینئر فیلو اور ماہر معیشت میگن گرین کہتی ہیں کہ وبائی بحران نے ضرورت کے مطابق پیداوار کے رجحان کو کافی حد تک تبدیل کردیا۔ ان کے بقول اس سے ''گلوبل سپلائی چَین پلس‘‘ یا ایک بیک اپ پلان کا رجحان شروع ہوا تاکہ عالمی سپلائی چَین میں کسی قسم کی رکاوٹ کے باوجود مصنوعات کی قلت پر بروقت قابو پایا جا سکے۔

Published: undefined

یُنگ بلوتھ نے اسی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ''سپلائی چَین پلس‘‘ منصوبے کے تحت شاید ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی کمپنیاں اپنی مصنوعات کی پیداوار اور مرکزی ٹیکنالوجی واپس اپنے ملکوں میں یا قریب تر ممالک میں منتقل کردیں۔ ''مؤثر کارکردگی اور اخراجات میں کٹوتی کے خاطر لیا جانے والا یہ عمل درحقیقت عالمگیریت سے دور ہونا ہے۔‘‘

Published: undefined

اور اب یوکرین میں جنگ

صارفین یوکرین میں روسی حملوں کے منفی اثرات پہلے ہی محسوس کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روس پر عائد مغربی ممالک کی پابندیوں کے نتیجے میں توانائی اور زرعی مصنوعات کے شعبے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک یوکرین اور روسی زرعی مصنوعات پر بڑے پیمانے پر انحصار کرتے ہیں۔ روس اور یوکرین گندم اور سن فلاور آئل کے بہت اہم عالمی برآمد کنندگان ہیں۔

Published: undefined

ماہرین کے مطابق جنگ اور پابندیوں کے باعث برآمدات میں رکاوٹ آئی ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف روس کے خلاف پابندیاں اس بڑی معیشت کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کر رہی ہیں۔

Published: undefined

اس حوالے سے یُنگ بلوتھ کہتی ہیں کہ یوکرین پر روسی فوجی چڑھائی کے اثرات صرف امیر ممالک پر مرتب نہیں ہوں گے بلکہ ترقی پذیر ممالک بھی اس سے شدید متاثر ہوں گے کیونکہ وہ ان دونوں ملکوں سے معیاری قیمتوں پر آٹا اور تیل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے رہے ہیں۔ ''یہ قحط کا باعث بھی بن سکتا ہے۔‘‘

Published: undefined

کیا گلوبلائزیشن کا زوال شروع ہوچکا ہے؟

اس بارے میں ماہر معیشت میگن گرین کہتی ہیں، ''حالیہ بحران اور جنگ کے تناظر میں شاید ہم ایک طرح سے ڈی گلوبلائزیشن کے ابتدائی مرحلے میں موجود ہیں۔‘‘ انہوں نے لیکن اس بات پر بھی زور دیا کہ اب تک کہ سروے ڈیٹا کے مطابق کسی بھی کمپنی نے اپنے بیرون ملک آپریشن کو دوبارہ اپنے ملک میں منتقل کرنے کی حمایت نہیں کی ہے۔ گرین نے اس سے متعلق شنگھائی چیمبر آف کامرس کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سروے میں ایک بھی امریکی کمپنی نے اس بات کی تائید نہیں کی کہ وہ چین سے واپس امریکا منتقل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔

Published: undefined

گرین سمجھتی ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں گلوبلائزیشن کی رفتار میں کمی ضرور آئی ہے ''لیکن ہم ابھی تک ڈی گلوبلائزیشن کی حدود میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔‘‘

Published: undefined

نئے عالمی بلاک

ماہرینِ معیشت کا خیال ہے کہ دنیا اس وقت واضح طور پر دو مختلف جیوپولیٹیکل اکنامک بلاکس کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس میں ایک جو جمہوری، مارکیٹ اکنامی پر مبنی ہے، جس میں امریکا، یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، شمالی اور جنوبی امریکا شامل ہیں۔ دوسرے بلاک میں آمرانہ طرزِ حکومت پر چلنے والے ممالک چین، روس اور ان کے اہم تجارتی پارٹنر شامل ہیں۔ یُنگ بلوتھ کے مطابق یہ جیوپولیٹکس یا جغرافیائی سیاست کی واپسی ہے اور یہ رجحان ڈی گلوبلائزیشن کی جانب گامزن دکھائی دیتا ہے۔

Published: undefined

کیا ایک نئے عہد کا آغاز ہونے والا ہے؟

تاریخ کے پروفیسر آندریاس ورشِنگ کہتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی مشکل بحث ہے۔ ان کے بقول ''آپ سن 2020 میں کورونا وائرس کی وبا اور اب سن 2022 میں یوکرین میں جاری جنگ کے دو اہم واقعات کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے یہ ضرور سوچ سکتے ہیں کہ بنیادی طور پر کچھ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ ‘‘ ورشنگ کے مطابق یہ دونوں مختلف واقعات آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے ملتے ہیں، یہ آنے والے وقت میں ہی واضح ہوسکے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined