سماج

جرمنی میں پارٹ ٹائم ورکرز کی تعداد میں اضافہ

سب سے زیادہ اضافہ مرد پارٹ ٹائم ورکرز کا ہوا ہے لیکن اس شعبے میں خواتین کی تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ ان کے کام کے اوقات میں بھی اضافہ درج کیا گيا ہے۔

جرمنی میں پارٹ ٹائم ورکرز کی تعداد میں اضافہ
جرمنی میں پارٹ ٹائم ورکرز کی تعداد میں اضافہ 

جرمن وفاقی شماریاتی دفتر (ڈیسٹاٹس) نے پیر کو ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں پارٹ ٹائم کام کرنے والے افراد کی تعداد سن 2022 میں بڑھ کر 11.8 ملین کے قریب ہوگئی جب کہ سن 2010 میں یہ تعداد 9.2 ملین تھی۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق پارٹ ٹائم ورکرز کی سب سے بڑی اکثریت، 9.18 ملین، خواتین کی تھی۔ ان کی تعداد میں سن 2010 کے مقابلے میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ اضافہ یعنی 53 فیصد، مردوں کی تعداد میں ہوا ہے۔ پارٹ ٹائم کام کرنے والے مردوں کی تعداد بڑھ کر اب 2.6 ملین ہوگئی ہے۔

Published: undefined

ڈسٹاٹس کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 12سال کے دوران کل وقتی ملازمت کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ اب بڑھ کر 27.2 ملین ہوگئی ہے۔ لیکن ملازمت میں مجموعی اضافے میں پارٹ ٹائم ورکرز کا تعاون سب سے زیادہ، تقریباً 28 فیصد، رہا۔

Published: undefined

ڈیسٹاٹس کے مطابق "یہ اس بات کی علامت ہوسکتی ہے اب پارٹ ٹائم ملازمتیں کل وقتی ملازمتوں کی جگہ لے رہی ہیں۔" تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 2010 کے مقابلے میں سن 2022 میں پارٹ ٹائم ورکرز میں زیادہ گھنٹے کام کرنے کا رجحان سامنے آیا ہے۔ 12 سال قبل جہاں ہفتے میں لوگ اوسطاً 18.4 گھنٹے کام کرتے تھے وہیں اب ہفتے میں اوسطاً 21.2 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

Published: undefined

کام کے گھنٹوں میں سب سے زیادہ 16فیصد کا اضافہ خواتین میں دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے ہفتے میں اوسطاً 21.7 گھنٹے کام کیا جب کہ اس کے مقابلے میں مردوں نے ہفتے میں 19.5 گھنٹے کام کیا جو کہ 14 فیصد اضافہ ہے۔

Published: undefined

اس کے برعکس کل وقتی کارکنوں کے کام کے ہفتے میں تقریبا ً آدھے گھنٹے کی کمی دیکھی گئی۔ سن 2010 میں کل وقتی کارکن ہفتے میں 40.6 گھنٹے کام کرتے تھے جو سن 2022 میں گھٹ کر 40 گھنٹے رہ گئی۔ اس شعبے میں خواتین نے مردوں کے مقابلے میں تھوڑا کم کام کیا۔ مردوں کے 40.4 گھنٹے کے مقابلے میں خواتین نے فی ہفتے 39.2 گھنٹے کام کیا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined