سماج

پاکستان کے ناموافق حالات اور انسانوں کی اسمگلنگ کا ناسور

پاکستان میں یونان اور لیبیا میں ہونے والے کشتی کے حادثات میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد ملک میں انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ اورافراد کے خلاف ایک منظم کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔

پاکستان کے ناموافق حالات اور انسانوں کی اسمگلنگ کا ناسور
پاکستان کے ناموافق حالات اور انسانوں کی اسمگلنگ کا ناسور 

پاکستان میں بجلی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اورمہنگائی کی وجہ سے جہاں عام شہریوں کے لیے گزر بسر مشکل ہوتی جا رہی ہے وہیں اس صورتحال کے پیش نظر بڑی تعداد میں شہری اپنا ملک چھوڑ کربیرون ملک جارہے ہیں۔ گذشتہ سال مختلف شعبوں کے پروفیشنلزکی بڑی تعداد نے اپنے وطن کوخیرباد کہہ دیا۔ بيورو آف اميگريشن اينڈ اوور سيز ايمپلا ئمنٹ سے حاصل کردہ اعداد شمار کے مطابق ، رواں سال کے پہلے آٹھ مہينوں ميں 5لاکھ 40 ہزار 282 پاکستانی باشندوں نے با ضابطہ طور پر بيرون ملک ملازمت کا اندراج کروايا ہے جبکہ ايجنٹوں کے زريعے غير قانونی طريقوں سے بيرون ملک جانے والوں کی تعداد اس میں شامل نہیں ہے۔

Published: undefined

ملک کی مخدوش سياسی اور اقتصادی صورتحال ميں ہر عمر کے شہری ، ملک چھوڑنے کے بارے ميں سنجيدگی سے سوچ رہے ہيں، دوسری طرف یہ رحجان انسانوں کی اسمگلنگ کے کاروبار کو فروغ دينے کا باعث بن رہا ہے۔

Published: undefined

انسانوں کے اسمگلرز کا آسان ہدف

تعلیم یافتہ اورہنرمند طبقہ تو روزگار کے حصول کے لیے قانونی راستہ اختیارکرلیتا ہے لیکن گاؤں دیہات میں رہنے والے کم تعلیم یافتہ اورغير ہنرمند افراد کے لیے قانونی طریقے سے بیرون ملک جانا جوئے شیرلانے کے مترادف ہے۔ ایسے میں بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجنے والے گروہ اورافراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور جہاں سے ان کی تکلیف اورمصائب کا آغاز ہوجاتا ہے۔ بیرون ملک لے جانے اور روزگار دینے کے خواب دکھا کران لوگوں سے لاکھوں روپے اینٹھ لیے جاتے ہیں اور پھر یہ لوگ ایک کے بعد ایک گروہ کو فروخت کردیے جاتے ہیں۔ لاکھوں روپے ایجنٹ کو دینے کے باوجود اکثر ایسے افراد کے مقدر میں قید ہوتی ہے یا دیارغیر میں موت ان کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔

Published: undefined

انسانی اسمگلرز کی ریڈ بک کا اجراء

وفاقی تحقيقاتی ادارہ ،ایف آئی اے سمیت دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف کارروائیوں میں درجنوں ملزمان کو گرفتارکرلیا ہے تاہم اب بھی انسانوں کی اسمگلنگ کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرزکی ریڈ بک جاری کردی ہے۔

Published: undefined

اس بُک میں 8 خواتین کا نام بھی شامل ہے۔ 176 صفحات پرمشتمل بارہویں ایڈیشن میں شامل 156 انسانی اسمگلرز کو انتہائی مطلوب قرار دیا گیا ہے جن کے خلاف ہیومن ٹریفیکنگ سرکلز میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ ریڈ بک کے مطابق ايف آئی اے لاہور زون کو 20، گوجرنوالہ زون کو 71، فیصل آباد زون کو 12، ملتان زون کو 3 ملزمان مطلوب ہیں جبکہ اسلام آباد زون کو 34، کراچی زون کو 12، بلوچستان اور کے پی کے زون کو 2.2 انسانی اسمگلرز مطلوب ہیں۔

Published: undefined

ایف آئی اے کے مطابق انسانی اسمگلرز کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے، انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز کے شناختی کارڈ اورپاسپورٹس بلیک لسٹ کردیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق انسانی اسمگلرزاور اسمگلنگ کے خلاف 5 سالہ نیشنل ایکشن پلان کا قيام عمل ميں لايا گيا تھا۔

Published: undefined

گرفتاریوں اور بارڈرز پر سختی کے حوصلہ افزا نتائج

ملک بھر میں ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور بہت سے نیٹ ورکس کو توڑا جاچکا ہے۔ دوسری جانب سرحدوں پرنگرانی اور انسانوں کی اسمگلنگ کے روٹس پرگاڑیوں کی کڑی چیکنگ کے نتیجے میں کوئٹہ اوردیگر روٹس کے ذریعے انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم انسانوں کیاسمگلنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اورمتبادل روٹس کے طور پردبئی اورلیبیا، سمیت دیگرممالک میں بذریعہ پرواز روانگی اورپھروہاں سے یورپ کے لیے غیرقانونی طور پرسمندری اورزمینوں راستوں کا استعمال کیا جارہا ہے ۔

Published: undefined

وفاقی اداروں کا کہنا ہے کہ اب پاکستان سے تار کینِ وطن بيرون ملک غير قانونی راستوں سے جاتے ہیں۔ اور پھر دوسرے ممالک سے بھی غیر قانونی طور پر یورپ کی طرف نکل جاتے ہیں۔ وفاقی تحقيقاتی ادارہ ، (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ ان کے سخت اقدامات کی وجہ سے انسانوں کی اسمگلنگ ميں ملوث گروہوں کو مشکلات پيش آرہی ہيں ، جسکی وجہ سے اب لوگ ملک سے قانونی طریقوں سے متحدہ عرب امارات اور ترکی جارہے ہیں، جہاں سے وہ غير قانونی طریقوں سے مختلف یورپی ممالک چلے جاتے ہیں۔ ايف آئی اے کا کہنا ہے کہ پھر بھی وہ انسانوں کی اسمگلنگ کے اس کاروبار کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کاروبار میں ملوث زیادہ تر افراد کا تعلق پنجاب سے ہے۔

Published: undefined

انسانوں کی اسمگلنگ کا سد باب

ایف آئی اے کے افسران کا کہنا ہے کہ وہ ملکی اور غیر ملکی اداروں سے تعاون کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان سے ہیومن ٹریفیکنگ کا بڑی حد تک قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ البتہ ملک میں موجود معاشی حالات کی وجہ سے بہت سے پاکستانی کسی بھی طور ترکِ وطن کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ ان مجرموں کے جھانسے میں آجاتے ہیں جو انہیں یورپ میں بہترطرزِ زندگی کے وعدوں پر بے وقوف بناتے ہیں۔ البتہ پاکستان سے اب مند بلو ، بلوچستان اور ایران کی سرحد پر ہونے والی ہیومن ٹریفکنگ ختم ہوچکی ہے۔

Published: undefined

پنجاب میں صورتحال تشویشناک کیوں؟

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل محسن حسن بٹ کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ یہ لڑائی اکیلے نہیں لڑ سکتا اور ان کو تمام اداروں کا تعاون درکار ہوگا۔ ادارے کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صرف پنجاب سے انسانی ٹریفکنگ میں انتہائی مطلوب افراد کی تعداد 106 ہے، جبکہ پورے ملک میں یہ تعداد 156 ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو خود اب ملک سے باہر مقیم ہیں۔ پچھلے سال یہ تعداد صرف 92 تھی۔

Published: undefined

انسانوں کے اسمگلرز کے ایف آئی اے اہلکاروں سے روابط

ایف آئی اے کے ایک افسرکی جانب سے ادارے کے ذمہ داران کو باقاعدہ تحریری شکایت میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئے افراد کو یورپ کا غیرقانونی سفرکرنے کے لیے کراچی ایئرپورٹ سے دُبئی سمیت دیگرجگہوں پربھیجا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افغان اور بنگالی بھی جعلی پاسپورٹ کے ذریعے ایف آئی اے کے اہلکاروں اورافسران کی ملی بھگت سے بیرون ملک سفرکررہے ہیں۔ اس تحریری شکایت میں باقاعدہ ریٹ لسٹ بھی بتائی گئی ہے جس کے مطابق جنوبی افریقہ کے لیے 50 ہزارروپے، ملائیشیا اورتھائی لینڈ کے لیے 20 ہزار روپے اور آسٹریلیا کے لیے ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ یورپ جانے کے خواہشمند افراد کو پہلے افریقی ممالک بھیجا جاتا ہے جہاں سے وہ مصر، لیبیا یا ترکی پہنچ کریورپ کی جانب سفرشروع کرتے ہیں۔ امریکہ جانے والے ایف آئی اے اہلکاروں و افسران کی ملی بھگت سے پہلے ارجنٹینا،ایکواڈو،کولمبیا اور وینیزویلا روانہ ہوتے ہیں، جہاں سے وہ میکسیکو کے راستے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

Published: undefined

انسانی اسمگلرز کا نیٹ ورک کراچی ایئرپورٹ پر

ایف آئی اے کے ايک افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر ڈوئچے ويلے کو بتايا، ''کراچی ایئرپورٹ پرمبینہ طور پرانسانوں کی اسمگلنگ کا منظم گروہ کام کررہا ہے جو پاکستان کی چھوٹی وبڑی ٹریول ایجنسیوں سے براہ راست واٹس ایپ کے ذریعے رابطے میں ہے، انہیں مسافروں کی لسٹیں فراہم کرتا ہے۔ یہ لسٹیں ایف آئی اے کی ڈیپارچر شفٹس میں فلائٹ کے حساب سے دی جاتی ہیں۔ شفٹ انچارج اورگروپ انچارج کے پاس مسافروں کے نام موجود ہوتے ہیں۔ ان مسافروں کی ایف آئی اے اہلکاروں کی جانب سے بورڈنگ تک رہنمائی کی جاتی ہے۔ بعض مسافرمختلف ممالک سے ڈیپورٹ کر دیے جاتے ہیں تو انہیں بنا کسی انکوائری کے گھرجانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ "

Published: undefined

انسانوں کے اسمگلرز کے سفارتخانوں اورقونصل خانوں سے رابطے

گذشتہ 25 سال سے ٹریول اورٹورازم انڈسٹری سے وابستہ ایک ٹریول ایجنٹ نے شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پرڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف ممالک کے سفارتخانوں اورقونصل خانوں میں انسانوں کے اسمگلرز کو باآسانی رسائی حاصل ہے۔ ان کے بقول، ''سفارتخانوں اورقونصل خانوں کے مقامی اسٹاف کی معاونت سے بروقت اورآسانی سے ویزے حاصل کیے جاتے ہیں جس کے عوض معقول ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ کراچی میں یورپ کے ايک اہم ملک کے قونصل خانے میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے جہاں من پسند ٹریول ایجنٹس کو فوری ویزے جاری کردیے جاتے ہیں جبکہ عام شہری کو ویزے کے حصول میں دشواری کا سامنا رہتا ہے اوران کی ویزا درخواستیں يا تو مسترد ہوجاتی ہیں يا پھر انہيں انٹر ويو کے لیے ٹائم نہيں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ شہری بھاری معاوضوں کے عوض ٹریول ایجنٹس کے ذریعے ویزے کے حصول کوترجیح دیتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined