
یوکرین جنگ کی وجہ سے انرجی کی مصنوعات یعنی آئل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کے تناظر میں ایسے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ رواں سال جرمن معیشت کی نمو پر فرق پڑے گا۔
تاہم جرمن شماریاتی دفتر کی طرف سے پچیس اگست بروز جمعرات کو جاری کیے گئے تازہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس برس کی پہلی ششماہی کے دوران حکومتی خسارہ کم ہی رہا ہے۔
وفاقی جرمن شماریاتی دفتر کے مطابق ملکی معیشت میں حیران کن طور پر ہلکی سے بہتری نوٹ کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سن دو ہزار بائیس کی دوسری سہ ماہی میں جرمنی کی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) میں 0.1 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔
یوں یہ ترقی سن دو ہزار انیس کی چوتھی سہ ماہی یعنی بحران سے پہلے والی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی وجہ شہریوں اور حکومت کی طرف سے کیے گئے اخراجات بنے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کووڈ کی عالمی وبا پر کنٹرول کے بعد صارفین نے سیر و سیاحت پر رقوم خرچ کیں، جس کی بدولت ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوا۔
جرمنی میں بالخصوص سردیوں کی آمد سے قبل ایسے خدشات پائے جا رہے تھے کہ گیس کی قیمتوں اور افراط زر بڑھنے کی وجہسے ملکی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
جرمنی کی قومی مجموعی پیداوار میں بھی بہتری نوٹ کی گئی ہے۔ جرمن شماریاتی دفتر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں سن 2022 کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 1.7 فیصد کی نمو ہوئی ہے۔
چھ ماہ قبل روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کے بعد برلن حکومت نے ماسکو پراقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں، جن پر اطلاق رواں برس کی پہلی ششماہی میں ہوا تھا۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں اگرچہ روسی برآمدات متاثر ہوئیں لیکن ان اعدادوشمار کے مطابق غیر ملکی تجارت میں بھی بہتری نوٹ کی گئی ہے۔
غیر ملکی تجارت میں توازن کی ایک بڑی وجہ درآمدات میں اضافہ بنا ہے۔ اس وفاقی جرمن ادارے کے مطابق گزشتہ ششماہی کے دوران عام صارفین نے دیر پا مصنوعات مثال کے طور پر گاڑیاں یا مہنگے الیکٹرک سامان کے بجائے کم دیر پا سامان پر رقوم خرچ کیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔