سماج

جرمنی: مسلمانوں کی غیر قانونی ’شرعی پولیس‘ پر عائد جرمانہ جائز

جرمنی کی ایک وفاقی عدالت نے ملک میں مسلمانوں کے ایک گروپ کی قائم کردہ ’شرعی پولیس‘ کو سنائی گئی جرمانے کی سزا کو جائز اور ملکی قانون کے عین مطابق قرار دے دیا ہے۔ 

جرمنی: مسلمانوں کی غیر قانونی ’شرعی پولیس‘ کو کیا گیا جرمانہ جائز
جرمنی: مسلمانوں کی غیر قانونی ’شرعی پولیس‘ کو کیا گیا جرمانہ جائز 

اس قانونی تنازعے کی ابتدا ستمبر 2014ء میں اس وقت ہوئی تھی، جب جرمنی کے مغربی شہر ووپرٹال کے ایک حصے میں مقامی مسلم آبادی سے تعلق رکھنے والے اور سلفی نظریات کے حامل نوجوانوں نے اپنے طور پر رات کے وقت شہر میں گشت کرنا شروع کر دیا تھا۔

Published: undefined

یہ نوجوان خود کو 'شرعی پولیس اہلکار‘ قرار دیتے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ دیگر نوجوان مسلمانوں کو جوئے کی مشینوں والے تفریحی مراکز، قحبہ خانوں اور شراب نوشی کے لیے شراب خانوں میں جانے سے روکیں۔

Published: undefined

شہر کے شبینہ زندگی کا مرکز سمجھے جانے والے علاقے میں یہ سلفی نوجوان رات کے وقت دو دو تین تین کے گروپوں میں گشت کرتے تھے۔

Published: undefined

تب انہوں نے اکثر نارنجی رنگ کی ایسی مختصر جیکٹیں بھی پہنی ہوتی تھیں، جن پر جرمن زبان میں 'شرعی پولیس‘ لکھا ہوتا تھا۔ اس شبینہ گشت پر تب علاقے کے لوگوں نے احتجاج کرنا شروع کر دیا تھا۔

Published: undefined

صوبائی عدالت میں سماعت کے بعد بری

Published: undefined

اس بظاہر رضا کارانہ لیکن بلا اجازت گشت پر پولیس نے اس سلفی مسلم گروپ کے ارکان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔ پہلی سماعت ووپرٹال کی ایک صوبائی عدالت میں ہوئی تھی، جس نے ملزموں کر بری کر دیا تھا۔ اس پر استغاثہ نے وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا، تو جنوری 2018ء میں فیڈرل کورٹ نے صوبائی عدالت کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔

Published: undefined

اس پر صوبائی عدالت نے اپنے نئے فیصلے میں ملزمان کو جرمانے کی سزائیں سنائی تھیں، جن کی قانونی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پولیس کی یونیفارم کو جزوی طور پر لیکن اس طرح غلط استعمال کیا تھا کہ وہ عام لوگوں کو یہ تاثر دیتے تھے کہ جیسے وہ پولیس اہلکار ہوں۔

Published: undefined

یونیفارم سے متعلقہ قانون کا غلط استعمال

Published: undefined

اس فیصلے کے خلاف بعد میں ملزمان نے جنوبی جرمن شہر کارلسروہے کی وفاقی عدالت انصاف میں ایک اپیل بھی دائر کر دی تھی، جس پر اس عدالت نے اپنا حتمی فیصلہ آج پیر بیس جولائی کو سنا دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا، ''ملزمان نام نہاد 'شرعی پولیس‘ کی جیکٹیں پہنے ہوئے جب شبینہ گشت کرتے تھے، تو وہ عام لوگوں کو یہ غلط تاثر دیتے تھے کہ جیسے ان کے اقدامات کی وجہ انہیں قانونی طور پر سونپے گئے کوئی اختیارات ہوں۔ اس لیے یونیفارم کے غلط استعمال کی وجہ سے انہیں سنائی گئی جرمانے کی سزائیں قانون کے عین مطابق اور حتمی ہیں۔‘‘

Published: undefined

اسلام کے نام پر اس نام نہاد لیکن چند سلفی مسلم نوجوانوں کی نجی طور پر قائم کردہ 'شرعی پولیس‘ کی وجہ سے مقامی باشندوں میں یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ جیسے یہ نوجوان لوگوں کو زبردستی ان کا طرز زندگی بدلنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اسے 'ریاست کے اندر ریاست کے قیام‘ کی کوشش کا نام بھی دیا گیا تھا۔ اسی لیے یہ واقعہ عوام اور میڈیا کی سطح پر بھی بہت مشہور ہوا تھا۔ اب لیکن یہ معاملہ حتمی طور پر اپنے قانونی انجام کو پہنچ گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined