سماج

فضائی سفر مزید مہنگا، ٹکٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

کورونا کی عالمی وبا کے بعد صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتں ہی نہیں بڑھیں بلکہ یورپی یونین کے مطابق سال 2019 کے مقابلے میں ہوائی سفر کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فضائی سفر مزید مہنگا، ٹکٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں
فضائی سفر مزید مہنگا، ٹکٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں 

بین الاقوامی ہوائی ڈیٹا سے متعلق ادارے سیریم کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2022 کی ابتداء سے ہی دنیا کے مقبول شہروں کو جانے والی پروازوں کے کرایوں میں 27.4 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ قبل ازیں کورونا کی وجہ سے پروازوں کے کرائے خاصے کم تھے۔ یورپی یونین ٹرانسپورٹ کمشنر اڈینا ویلین نے ایک برطانوی جریدے کو بتایا کہ یورپی یونین اس مسئلے کو دیکھ رہی ہے کہ یہ سب کیوں ہوا اور مارکیٹ میں کیا چل رہا ہے؟

Published: undefined

وجوہات کیا ہوسکتی ہیں؟

ماہرین کے مطابق پروازوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات مانگ میں اضافہ اور رسد میں خلل ہوسکتی ہیں۔ بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق کورونا کی وجہ سے سال 2021 اور 2022 میں طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کی وجہ سے مشترکہ طور پر ہوا بازی کی صنعت کو کم از کم 200 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ مگر سال 2023 میں دنیا کی تمام ائیر لائینز کے منافع میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ یورپ کی مقبول ائیر لائن رائن ائیر نے رواں مالی سال دو بلین ڈالر کا منافع کمایا۔ جبکہ لفتھانزا، سنگاپور، ائیر فرانس اور دیگرائیر لائینز کے کاروبار میں بھی اضافہ ہوا۔ آئی اے ٹی اے کے مطابق سال 2019 کے بعد یہ پہلا سال ہے جب ائیر لائینز نے 800 بلین تک کا منافع کمایا ہے۔

Published: undefined

سال 2024، ہوائی سفر مزید مہنگا

رائن ائیر کے سی ای او مائیکل اولیری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دو بڑے ہوائی جہاز بنانے والے اداروں کی جانب سے تاخیر کا اثر مسافروں کی جیبوں پر بھی پڑا ہے۔ مائیکل کے مطابق جہازوں کی سپلائی کے مسائل کی وجہ سے کچھ ایئر لائنز سال 2024 ء میں مزید مشکلات کا سامنا کریں گی مگر ٹکٹ مزید مہنگے ہونگے۔

Published: undefined

یورپی یونین کے یورپی کنزیومر سینٹرز نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والی کیرولینا ووجٹیل کے مطابق لوگ کورونا کے بعد دوبارہ سفر کرنا چاہتے ہیں لیکن ائیر لائینز اپنے بکنگ سسٹم کے زریعے خود سے قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق ائیر لائینز کورونا وبا کے دوران ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ جس کی وجہ سے ہوائی سفر مہنگا ہوا ہے۔ ائیر لائینز نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹکٹوں کی قیمت ہوا بازی کی صنعت کے موجودہ حالات کی عکاسی کرتی ہے۔

Published: undefined

کیا ان قیمتوں میں کمی آئیگی؟

ہوائی جہازوں میں ماحول دوست ایندھن کا استعمال اور ائیر لائنز کے اخراجات کی وجہ سے قیمتوں میں جلد کوئی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ ڈائیریکٹر جنرل آئی اے ٹی اے ولی والش کا کہنا ہے کہ اگلے کئی سالوں تک جہاز کا سفر مزید مہنگا ہوگا ان کے بقول اس کی ایک وجہ جہازوں میں استعمال ہونا والا تیل بھی ہے ائیر لائنز روایتی تیل کی جگہ پائیدار ایندھن کا استعمال کررہی ہیں جو روایتی تیل سے مہنگا ہے۔

Published: undefined

کیا کرایوں کو منظم کیا جانا چاہیے؟

جرمنی میں مقیم ریلوے ٹرانسپورٹ کے تجزیہ کار یان ورتھ کا کہنا ہے کہ رواں برس سفر کرنے والے افراد کی تعداد میں ا‌ضافہ ہوا اور لوگوں نے سفر کے لیے ریل جیسے ماحول دوست سفری طریقوں کا انتخاب کیا۔ جون ورتھ کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوائی جہاز کے ذریعے کم سے کم سفر کیا جائے اور ٹکٹ کی قیمتوں کا تعین بھی دیکھ بحال کر کیا جائے۔

Published: undefined

یورپی یونین کی کمشنر اڈینا ویلن نے برطانوی جریدے کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کا ہوا بازی کی صنعت میں مداخلت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن وہ ایئر لائینز سے بڑھتے ہوئے کرایوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت ضرور طلب کریں گی.

Published: undefined

اطالوی حکومت نے رواں سال ستمبر میں اٹلی، سسلی اور سارڈینیا کے درمیان ہوائی سفر کی قیمتوں میں کمی کرنے کا لیے ایک منصوبے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن رائن ائیر اور دیگر ائیر لائیز کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی۔

Published: undefined

فرانس کے وزیر ٹرانسپورٹ نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کے اندر پروازوں کی کم سے کم قیمتیں مقرر کرنے کے لیے دیگر یورپی ممالک سے تعاون طلب کر رہے ہیں. انہوں نے مزید کہا ، "جہاز کے ٹکٹ کی سماجی اور ماحولیاتی قیمت" پر بھی بحث کرنے کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined