
روس نے چوبیس فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا اور تب سے ہی بالخصوص آن لائن 'انفارمیشن وار‘ بھی شروع ہو گئی تھی۔ آن لائن پراپیگنڈا کئی سطحوں پر جاری ہے۔ ڈی ڈبلیو نے یوکرین جنگ کے فریقین کی طرف سے کچھ دعوؤں کا تجزیہ کیا، جس سے علم ہوتا ہے کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے۔
(@ArmedForcesUkr) پر ایک ویڈیو شائع کی گئی، جس میں یوکرینی فوج روسی آرمی کے خلاف کامیابی پر جشن منا رہی ہے۔ اس پیج کے ساڑھے چار لاکھ فالوورز ہیں۔
اس اکاؤنٹ پر شائع کی گئی اس ویڈیو میں چھ واقعات کو سن 2022 کی یوکرین جنگ اور علاقے میں دیگر تنازعات سے جوڑا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایک واقعہ شامی جنگ کا ہے، جس میں روسی ماہر نشانہ بازوں کو دیکھایا گیا ہے۔ دیگر دس واقعات شائد حقیقی ہوں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سو فیصد درست ہیں۔
دعویٰ: سی این این کے ایک رپورٹر نے یوکرینی شہر لیویو کے ایک فیول ڈپو پر حملے کی براہ راست رپورٹنگ کی۔ بتایا گیا کہ روسی حملے میں اس ڈپو میں آگ لگ گئی۔ کچھ ناظرین نے دعویٰ کیا کہ یہ امیجز جھوٹے ہیں۔ ایک فائر فائٹر نے 'ایڈمنٹن‘ کی جیکٹ پہنی ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ یوکرین کا نہیں ہے۔
یوکرین سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ ویڈیو حقیقی ہے۔ سن دو ہزار سترہ میں ایڈمنٹن فائر ڈیپارٹمنٹ نے یوکرینی فائر فائٹرز کو چھ سو فائر سوٹس اور دیگر آلات دیے تھے۔ اسی لیے ان یوکرینی فائر فائٹرز نے کنیڈین کمپنی کے سوٹس پہن رکھے تھے۔ اس کی تصدیق یوکرینی فائر بریگیڈ محکمے نے بھی کی ہے۔
دعویٰ: روسی حکومت نے کہا ہے کہ جب روسی فوج نے تیس مارچ کو کییف کے نواحی علاقے بوچہ سے انخلا کیا تھا تو سڑکوں پر لاشیں نہیں تھیں۔
بوچہ کی ویڈیو کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ روسی فوج کا یہ دعویٰ غلط ہے۔ سٹیلائٹ امیجز اور عینی شاہدین سے حاصل ہونے والے حقائق کے مطابق مارچ میں روسی فوج کے انخلا سے قبل بوچہ کی سڑکوں پر لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
دعویٰ : روسی حکام اور یوکرین میں روس کے حامی جنگجوؤں کا دعویٰ ہے کہ بوچہ میں لاشوں کی موجودگی کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔ کہا گیا کہ اس ویڈیو میں زندہ لوگوں نے سڑکوں پر لیٹ کر خود کو لاش ثابت کرنے کی کوشش کی۔
ویڈیو کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ سڑکوں پر پڑی لاشیں ساکت تھیں جبکہ بصری التباس سے انہیں ہلتے ہوئے دیکھایا گیا۔ دیگر میڈیا ہاؤسز نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
دعویٰ: روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاکاریوف نے کہا ہے کہ روسی فوج یوکرینی شہروں پر بمباری نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی ویڈیو دراصل مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی طرف سے بنائی گئی ہیں، جو حقائق سے عاری ہیں۔
روسی فوج کی طرف سے یوکرین میں شہری علاقوں اور غیر فوجی اہداف پر حملوں کے شواہد موجود ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی ان حملوں کے بارے میں مصدقہ شواہد جمع کیے ہیں۔
دعویٰ: ایک عورت نے ٹک ٹاک پر دعویٰ کیا کہ جرمنی میں آنے والے ایک یوکرینی مہاجر نے ایک سولہ سالہ روسی لڑکے کو مارا پیٹا اور اسے ہلاک کر دیا۔
یہ الزام جھوٹا تھا۔ مقامی پولیس نے تصدیق کی کہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا اور ٹک ٹاک سے ویڈیو بھی ہٹا دی گئی۔ بعدازاں اس خاتون نے ایک اور ویڈیو میں معافی بھی مانگی اور کہا کہ اسے غلط فہمی ہوئی تھی۔
دعویٰ: ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں یوکرینی فوجیوں کو جنگ میں جانے سے قبل اپنے بیویوں اور گرل فرینڈز سے آخری ملاقات کو انتہائی جذباتی انداز میں دیکھایا گیا۔
یہ مناظر کو حقیقی قرار دیا جاتا رہا تاہم یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔
دعویٰ: ایک ویڈیو میں یہ ظاہر کیا گیا کہ یوکرین جنگ شروع ہونے پر روسی فوجیوں نے جشن منایا۔ اس ویڈیو میں فوجیوں کو رقص کرتے ہوئے گانے گاتے دیکھایا گیا۔
تجزیے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو سن دو ہزار اٹھارہ کی ہے جبکہ یہ روس میں نہیں بنائی گئی۔ یہ ازبک فوجی ہیں، جو تاشقند میں ایک فوجی پریڈ کے دوران موج مستی کر رہے ہیں۔
دعویٰ: روسی صدر پوٹن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی، جس میں پوٹن یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیے کے جدید یوکرین دراصل روس نے تخلیق کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید یوکرین روس نے نہیں بنایا تھا بلکہ یوکرین پیپلز ری پبلک سن انیس سو اٹھارہ میں بنا تھا اور رشیا کی ریڈ آرمی نے سن انیس سو بیس پر اس پر قبضہ کیا تھا۔ یوکرین دراصل رشین زار کے خلاف عوامی انقلاب کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔