سماج

افغانستان: امریکی تباہ شدہ عسکری ساز و سامان کی نمائش

افغانستان کے صوبہ غزنی میں گورنر ہاؤس کے احاطے میں، طالبان جنگجوؤں نے شہریوں کے لیے ایک ایسی نمائش کا انعقاد کیا جہاں لوگ جنگ کے دوران تباہ ہونے والے امریکی عسکری ساز و سامان کو دیکھ سکتے ہیں۔

افغانستان: امریکی تباہ شدہ عسکری ساز و سامان کی نمائش
افغانستان: امریکی تباہ شدہ عسکری ساز و سامان کی نمائش 

افغانستان کے صوبہ غزنی کے گورنر ہاؤس میں اس نمائش میں ایک سابق امریکی فوجی اڈے کی بم دھاکے سے تباہ شدہ دیوار کے ٹکڑوں کو بھی رکھا گیا ہے۔ ایک کنکریٹ سلیب پر امریکی فوجیوں اور ان کی رجمنٹ کا نام تحریر ہے۔ یہ ان امریکی فوجیوں کے نام ہیں جنہوں نے امریکا کی اس طویل ترین جنگ کے دوران غزنی صوبے میں اپنی خدمات انجام دیں۔

Published: undefined

ماضی کے دیگر فوجیوں کی طرح امریکی فوجی بھی باقاعدگی سے اپنی چھاؤنیوں میں دیواروں پر اپنے نام اور اپنے عہدے لکھا کرتے ہیں۔

Published: undefined

اس مرتبہ ان کے ناموں کی فہرست افغانستان کی اس نمائش میں پیش کی گئی ہے۔ مقصد واضح ہے طالبان اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عوام کو امریکی جنگی ساز و سامان کی تباہی دکھا کر بتانا چاہتے ہیں کہ طالبان کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

Published: undefined

طالبان کے صوبائی وزیر برائے ثقافت ملا حبیب اللہ مجاہد کا کہنا ہے،''ہم یہ اس لیے دکھانا چاہتے ہیں تاکہ افغان، پوری دنیا اور مستقبل کی نسلیں دیکھ سکیں کہ ہم نے امریکیوں کو شکست دی۔ اس کے باوجود کہ وہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کہتے ہیں۔''

Published: undefined

پندرہ اگست کو کابل پر قبضہ کرنے سے تین روز قبل افغان طالبان نے کابل کے جنوب میں ڈیڑھ سو کلو میٹر کی دوری پر واقع غزنی شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس خطے کی تاریخ پینتیس سو سال پرانی ہے۔ اب طالبان تاریخ کو اپنے نظریے سے ڈھال رہے ہیں۔

Published: undefined

افغانستان میں یہ پروپیگینڈا ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب طالبان تیس ملین عوام کی قیادت سنبھالنے کی جد و جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ بین الاقوامی امداد بہت ہی محدود ہے۔ دنیا ابھی طالبان پر بھروسہ نہیں کرتی۔ سابقہ حکومت کے غیر ملکی اثاثے امریکا میں منجمد ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں ملک کی نصف آبادی شدید بھوک کا شکار ہے۔

Published: undefined

غزنی کے مضافات میں ایک اور نمائش جاری ہے۔ یہاں تباہ شدہ امریکی گاڑیوں کو دکھایا جا رہا ہے۔ ان گاڑیوں میں نصب اسلحے ، گاڑیوں کے ٹائر وغیرہ کو اتار لیا گیا ہے۔ یہاں پر سابقہ سوویت یونین کے ٹینکوں کے ڈھانچے بھی موجود ہیں، جن پر بچے چڑھ کر کھیلتے ہیں۔ سوویت یونین نے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ یہ جنگ دس سال تک جاری رہی تھی۔ افغان طالبان یہ دکھا رہے ہیں کہ سوویت یونین کو شرمندگی کے ساتھ اس جنگ کا اختتام کرنا پڑا تھا۔ انیسویں صدی میں افغانستان نے برطانوی فوجیوں کو بھی شکست دی تھی۔ طالبان اپنے شہریوں کو بتا رہے ہیں کہ افغانستان ماضی کی تین طاقتوں کو شکست دے چکا ہے۔

Published: undefined

امریکا نے اس جنگ ذدہ ملک سے انخلاء سے قبل زیادہ ترعسکری ساز وسامان سابقہ حکومت کی فورسز کو دے دیا تھا تاہم یہ تمام سامان اب طالبان کے قبضے میں ہے۔

Published: undefined

طالبان کے لیے ایسی نمائشیں وقتی نام پیدا کرنے کے لیے تو اچھی ہو سکتی ہیں لیکن حقیقت میں انہیں اپنے آپ کو منوانے کے لیے کئی چینلجز کا سامنا ہے۔ افغان وزیر ثقافت امریکی اڈے کی دیواروں پر تحریر شدہ ناموں کے حوالے سے یہ تو بتا رہے ہیں کہ یہ سب جنگ میں مارے گئے لیکن در حقیقت یہ جونیئر فوجی تھے اور ان کا نام امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں والی فہرست میں نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined