
پیرس سے جمعرات اٹھائیس جنوری کو موصولہ مراسلوں میں ملکی وزارت داخلہ کی ایک نئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ملک میں ریپ اور گھریلو تشدد کے مجرمانہ واقعات کی شرح کافی زیادہ ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2020ء میں ملک میں ریپ کے واقعات کی مجموعی تعداد ایک سال پہلے کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ رہی۔ اسی طرح ملک میں گھریلو تشدد کے مجرمانہ واقعات کی شرح میں بھی 2019ء کے مقابلے میں گزشتہ برس نو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے برس ریپ اور گھریلو تشدد کے مجرمانہ واقعات میں سب سے تیز رفتار اضافہ اس پہلے ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران ریکارڈ کیا گیا، جو موسم بہار میں نافذ کیا گیا تھا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے مطابق ریپ اور گھریلو تشدد کے واقعات میں یہ سالانہ اضافہ 2020ء میں اس سے پہلے کے برسوں کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ رہا۔
اس اضافے کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے فرانسیسی وزارت داخلہ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ملک میں ریپ اور گھریلو تشدد جیسے جرائم کا نشانہ بننے والے شہریوں کا اپنے خلاف ایسی مجرمانہ کارروائیوں سے متعلق رویہ بھی کافی بدل گیا ہے، جس کا ایک بڑا سبب کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث عوامی سطح پر سوچ کا بدلا ہوا انداز بھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے جرائم سے متاثرہ مرد اور خواتین اب ماضی کی نسبت سوشل میڈیا پر بھی ایسے جرائم کے خلاف آوازیں اٹھاتے ہیں اور ایسے جرائم کی پولیس کو اطلاع بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ کی جانے لگی ہے۔
اس سرکاری رپورٹ کے مطابق کووڈ انیس کی وبا کے دوران گزشتہ برس ملک میں اگر ریپ کے واقعات زیادہ ہوئے تو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات میں معمولی کمی ہوئی۔
اس کے علاوہ دیگر جرائم کی شرح میں وبا کے دوران کافی کمی دیکھی گئی۔ مثال کے طور پر پچھلے سال ملک میں چوری اور ڈکیتی کے واقعات میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ غیر مسلح حالت میں کسی کے گھر میں گھس کر چوری کرنے کے واقعات 19 فیصد کم ہو گئے۔
دریں اثناء زیادہ تر کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران عام شہریوں کے اکثر گھروں پر ہی رہنے کے باعث ڈکیتی کی مسلح وارداتوں میں بھی آٹھ فیصد کی کمی ہوئی جبکہ 2020ء میں کار چوری کے واقعات بھی اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں 13 فیصد کم رہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔