سائنس

موسمیاتی بحران، عالمی معاشی سلامتی کے لیے خطرہ...مدیحہ فصیح

موسمیاتی تبدیلی اب سیاسی بحث نہیں بلکہ عالمی معاشی ہنگامی صورتحال ہے۔ بڑھتی گرمی، خشک سالی، سیلاب اور مہنگائی سے معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ اقوام عالم کے لیے خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت ختم ہو چکا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو محض ایک سیاسی تنازع سمجھنا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ اب ایک شدید عالمی معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ رپورٹوں سے انکشاف ہوا ہے کہ زمین نے اپنی تاریخ کا گرم ترین اگست کا مہینہ ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں فصلوں کی بربادی، پانی کی قلت اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے یورپی معیشت کو اربوں یورو کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایل نینو جیسے موسمی مظاہر نے عالمی سطح پر درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے، جو نہ صرف خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے بلکہ سائنسدانوں کے مطابق یہ سلسلہ مستقبل قریب میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ مہنگائی اور معاشی عدم استحکام سے بچنے کے لیے صاف توانائی کی طرف منتقلی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ممالک ماضی کے وعدوں پر بحث کرنے کے بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دیں تاکہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے تباہ کن اثرات کو روکا جا سکے۔

ماحولیاتی تبدیلی: ایک عالمی معاشی ایمرجنسی

دنیا نے حال ہی میں تاریخ کا گرم ترین مہینہ 'اگست' ریکارڈ کیا ہے، جہاں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.65 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ یہ محض ایک موسمیاتی اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک ایسی تلخ معاشی حقیقت ہے جو براہِ راست آپ کی جیب پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ زمین کی بڑھتی ہوئی تپش اب صرف گلیشیئرز پگھلنے کا نام نہیں، بلکہ یہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، غذائی قلت اور معاشی عدم استحکام کا پیش خیمہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، ماحولیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی ادارے(یو این ایف سی سی سی)کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن اسٹیل نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کو محض ایک 'ثقافتی جنگ'یا سیاسی نظریاتی بحث سمجھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، یہ اب ایک "براعظمی معاشی سلامتی کی ہنگامی صورتحال" بن چکی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، صرف اس موسمِ گرما کی شدید لہروں اور اس سے وابستہ آفات نے یورپ کو مجموعی طور پر 180 ارب یورو کا معاشی نقصان پہنچایا ہے، جو خطے کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے پورے ایک فیصد کے برابر ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے؛ جب شدید گرمی سے بجلی کے گھر بند ہوتے ہیں، فصلیں جل جاتی ہیں اور تجارتی راستے خشک ہو جاتے ہیں، تو اس کا نقصان کسی ایک سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ پوری معیشت کو ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کو 'سیاسی رنگ' دینا دراصل ان مخصوص مفادات کو تحفظ دینے کی ایک تزویراتی کوشش ہے جو بنیادی ڈھانچے اور زراعت کی تباہی سے نظریں چرانا چاہتے ہیں۔

کلائمیٹ ایکشن پر نرمی کی بھاری قیمت

جیواشم ایندھن (فوسل فیولز) پر مسلسل انحصار نہ صرف کرہِ ارض کو گرم کر رہا ہے بلکہ یہ افراطِ زر اور مہنگائی کے عالمی بحران کا سب سے بڑا محرک بھی ہے۔ سائمن اسٹیل نے اس معاشی حقیقت کو ایک طاقتور پیرائے میں بیان کیا ہے، ان کے مطابق، "ماحولیاتی اقدامات پر نرمی برتنے کا مطلب ہے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے بوجھ سے چشم پوشی کرنا، اپنی خودمختاری اور سلامتی پر سمجھوتہ کرنا، اور معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع کو داؤ پر لگانا۔"

ماہرین کا ماننا ہے کہ قومی سلامتی اور خودمختاری کا کلائمیٹ ایکشن سے گہرا تعلق ہے۔ مقامی سطح پر صاف توانائی کے ذرائع اپنا کر ممالک عالمی ایندھن کی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ اور بیرونی گیس و تیل کی درآمدات پر اپنا انحصار کم کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف قومی سلامتی مضبوط ہوتی ہے بلکہ عام شہری کا بجٹ بھی محفوظ رہتا ہے۔

صاف توانائی میں سرمایہ کاری

ایک اہم عالمی تبدیلی یہ آئی ہے کہ دنیا اب 'صاف توانائی' (کلین انرجی) کی طرف تیزی سے مڑ رہی ہے۔ گزشتہ برس اس شعبے میں سرمایہ کاری 2 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو کہ جیواشم ایندھن پر کی جانے والی سرمایہ کاری سے دوگنا ہے۔ یہ تبدیلی محض ماحول دوستی نہیں بلکہ ایک ٹھوس معاشی حکمتِ عملی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال مغربی ایشیا کے حالیہ تنازعات کے دوران سامنے آئی، جہاں تنازع کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہی یورپ نے صرف شمسی توانائی کے استعمال کی بدولت گیس کی درآمدات کی مد میں 30 ارب یورو کی خطیر رقم بچائی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ صاف توانائی کی طرف منتقلی معاشی خود کفالت کا تیز ترین راستہ ہے۔

درجہ حرارت کی خطرناک سمت

سال 2015کے پیرس معاہدے میں درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کا عہد کیا گیا تھا، لیکن موجودہ عالمی پالیسیاں ہمیں 2.6 ڈگری سیلسیس کی خطرناک سمت میں لے جا رہی ہیں۔ اگر بین الاقوامی تعاون کا فقدان رہا، تو یہ تپش 4 ڈگری سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جو کہ انسانی زندگی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔اس کے جسمانی اور معاشی اثرات پہلے ہی واضح ہیں: ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئرز پگھلنے سے تباہ کن سیلاب آ رہے ہیں۔ شمالی افریقہ میں پانی کی شدید قلت اور بجلی کی بندش سے لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔اور یورپ کے اہم تجارتی دریا، جیسے رائن اور ڈینیوب، اس قدر خشک ہو رہے ہیں کہ مال بردار جہازوں کی آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

ایل نینو کے اثرات اور مستقبل

طویل مدتی ماحولیاتی بگاڑ کے ساتھ ساتھ 'ایل نینو'جیسے مختصر مدتی عوامل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او)کے مطابق، 2026 میں درجہ حرارت کے تمام ریکارڈ ٹوٹنے کی ایک بڑی وجہ یہی موسمیاتی رجحان ہے۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن میں آنے والی یہ تبدیلیاں 2027 تک برقرار رہیں گی۔ مستقبل کے حوالے سے عالمی سطح پر سمندروں کے درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ،اوسط سے زیادہ سمندری طوفانوں کی سرگرمی (صرف حالیہ دور میں 19 طوفان ریکارڈ کیے گئے) اور انڈونیشیا اور دیگر علاقوں میں خشک سالی کے باعث جنگلات کی آگ (وائلڈ فائر) میں شدید تیزی جیسے کلیدی خطرات شامل ہیں ۔

انسانیت کے مشترکہ دشمن

ہم ایک ایسے منقسم دور میں جی رہے ہیں جہاں سیاسی نظریات کا ٹکراؤ عروج پر ہے، لیکن مہنگائی، معاشی عدم تحفظ اور ماحولیاتی تباہی وہ مشترکہ دشمن ہیں جن کا سامنا ہر شخص کو ہے۔ انٹالیا، ترکی میں ہونے والی آئندہ 'کاپ 31' کانفرنس ایک تزویراتی موڑ ثابت ہوگی، جہاں دنیا کو محض نئے معاہدے کرنے کے بجائے عملی نفاذ پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ صحت، روزگار اور خوشحالی کا راستہ ماحولیاتی اقدامات سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔آخر میں ہمیں اس سوال پر غور کرنا چاہیئے: کیا ہم واقعی اس 'معاشی قیمت' کو ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں جو کلائمیٹ ایکشن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ہمیں چکانی پڑے گی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اب خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔