سائنس

آرٹیمس 2: چاند پر رہائش حقیقت کے قریب

آرٹیمس مشن نے خلائی سفر میں نئی جہت پیدا کی ہے۔ یہ محض تجربہ نہیں بلکہ مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی قیام کی تیاری ہے، اس کی کامیابی میں عزم، ہمت، ٹیکنالوجی اور عالمی اشتراک نے اہم کردار ادا کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

پچاس سال سے زائد طویل انتظار کے بعد، بنی نوع انسان نے ایک بار پھر چاند کی دہلیز پر دستک دے دی ہے۔ یکم اپریل کو جب ناسا کا ’آرٹیمس 2‘ مشن خلا کی وسعتوں کی جانب روانہ ہوا، تو یہ محض ایک آزمائشی پرواز نہیں بلکہ انسانی عزم، ہمت اور ٹیکنالوجی کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ اس تاریخی 10 روزہ مشن پر چار جری خلا باز— ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کے جیریمی ہینسن— سوار تھے، جنہوں نے ’اورین‘ خلائی جہاز میں بیٹھ کر وہ مسافتیں طے کیں جو نصف صدی سے ادھوری تھیں۔

کیا یہ تاریخی مشن صرف ایک تجرباتی سفر تھا، یا اس نے مستقبل میں چاند پر انسانی بستیوں کے قیام کی حتمی بنیاد رکھ دی ہے؟ آئیے، چاند کی جانب واپسی کے سفر کے ان حقائق کا جائزہ لیتے ہیں جو اسے انسانی تاریخ کا ایک منفرد باب بناتے ہیں۔

Published: undefined

انسانی تاریخ کا طویل ترین سفر

آرٹیمس 2 نے وہ سنگ میل عبور کر لیا ہے جو 1970 میں اپالو 13 کے مشن نے قائم کیا تھا۔ اس مشن کے دوران خلاباز زمین سے 252,756 میل کے انتہائی فاصلے تک گئے، جو کہ انسانی تاریخ میں کسی بھی انسان کا اپنے گھر (زمین) سے سب سے زیادہ فاصلہ ہے۔ مجموعی طور پر آرٹیمس 2 کے عملے نے 694,481 میل کا سفر طے کیا۔ یہ فاصلہ محض ریاضی کا ایک عدد نہیں بلکہ ’گہرے خلا‘ (ڈیپ اسپیس) میں انسان کے بڑھتے ہوئے قدموں اور مستقبل کی مریخ کی مہمات کے لیے تیاری کی علامت ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا (نیشنل ایروناٹکس اوراسپیس ایڈمنسٹریشن) کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے عملے کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’آرٹیمس 2 نے غیر معمولی مہارت، ہمت اور لگن کا مظاہرہ کیا کیونکہ عملے نے اورین، اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس( اور انسانی مہم جوئی کو پہلے سے کہیں زیادہ دور تک پہنچا دیا۔ اس راکٹ اور خلائی جہاز کو اڑانے والے پہلے خلابازوں کے طور پر، عملے نے اس علم کی خاطر بڑا خطرہ مول لیا جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس مستقبل کے لیے جسے ہم تعمیر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

Published: undefined

ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر امت شتریہ نے عالمی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’یہ لمحہ ان ہزاروں لوگوں کا ہے جنہوں نے چودہ ممالک میں اس جہاز کو بنایا، آزمایا اور اس پر بھروسہ کیا۔ ان کے کام نے 25,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی چار انسانی جانوں کی حفاظت کی اور انہیں بحفاظت زمین پر واپس لایا۔‘‘

کششِ ثقل کا انوکھا کھیل

اس مشن کی سب سے نمایاں تکنیکی خاصیت 'فری ریٹرن ٹراجیکٹری' کا کامیاب استعمال تھا۔ سادہ الفاظ میں، 'اورین' جہاز نے چاند کے گرد انگریزی کے ہندسے '8' کی شکل کا ایک طویل چکر لگایا۔ اس راستے کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ جہاز صرف کششِ ثقل کو استعمال کرتے ہوئے، کسی اضافی انجن پاور کے بغیر، خود بخود زمین کی طرف مڑ سکے۔

Published: undefined

اگرچہ ماضی میں اپالو 13 کو ایک ہنگامی صورتحال میں یہ راستہ اختیار کرنا پڑا تھا، لیکن آرٹیمس 2 تاریخ کا وہ پہلا انسانی مشن ہے جس نے "معمول کے مطابق حالات" میں، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس پیچیدہ راستے کو کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ہم خلا میں نیویگیشن کے فن میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔

خاتون کے زیرِ قیادت تاریخ ساز کارنامہ

آرٹیمس 2 نے سماجی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی نئی تاریخ رقم کی۔ یہ ناسا کا پہلا انسانی خلائی مشن تھا جس کی لانچنگ کی نگرانی ایک خاتون لانچ ڈائریکٹر، چارلی بلیک ویل تھامسن نے کی۔ کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ کنٹرول سینٹر سے اس اہم مشن کی کمان سنبھالنے والی تھامسن اس سے قبل اسپیس شٹل پروگرام میں ٹیسٹ ڈائریکٹر رہ چکی ہیں۔ ان کی قیادت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید خلائی مشنز میں مہارت اور قیادت اب کسی خاص صنف تک محدود نہیں۔

Published: undefined

سفر کے دوران سحر انگیز نظارے

آرٹیمس 2 محض ایک سفر نہیں بلکہ ایک متحرک سائنسی تجربہ گاہ تھی۔ مشن کے دوران خلابازوں نے چاند کی سطح اور کائنات کے دیگر مناظر کی 7,000 سے زائد تصاویر لیں۔ ان تصاویر کا سب سے اہم پہلو 'ٹرمینیٹر' یعنی دن اور رات کی سرحد کی نقشہ سازی کرنا تھا۔ کم زاویے سے پڑنے والی روشنی کی مدد سے حاصل کردہ یہ ڈیٹا 2028 میں چاند کے قطب جنوبی پر ہونے والی لینڈنگ کے لیے روشنی کے حالات کو سمجھنے میں کلیدی ثابت ہوگا۔

اس سفر کا ایک اور سحر انگیز لمحہ وہ تھا جب خلابازوں نے اورین کے اندر سے ’سورج گرہن‘ کا نظارہ کیا، جہاں چاند نے ان کی آنکھوں کے سامنے سورج کو ڈھانپ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ 'اوتار' نامی تحقیق کے ذریعے یہ مطالعہ بھی کیا گیا کہ گہرے خلا کی تابکاری اور مائیکرو گریوٹی انسانی بافتوں (ہیومن ٹیشو) پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے، تاکہ مستقبل کے طویل مدتی مریخ مشنز کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Published: undefined

’مون بیس‘ کی تعمیر عنقریب

اس مشن میں استعمال ہونے والے اورین کیپسول کو عملے نے ’انٹیگریٹی‘ کا نام دیا۔ اسے دنیا کے سب سے طاقتور راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ کے ذریعے فضا میں بلند کیا گیا جس نے 8.8 ملین پاؤنڈ تھرسٹ پیدا کیا۔ مشن کے دوران خلا بازوں نے جہاز کا مینوئل کنٹرول سنبھال کر پائلٹنگ کی مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ مشق محض شوقیہ نہیں تھی، بلکہ یہ آرٹیمس 3 کے دوران دوسرے جہازوں کے ساتھ 'ڈاکنگ 'یعنی جڑنے کے عمل کی ایک اہم ریہرسل تھی تاکہ مستقبل میں چاند پر اترنے والے لینڈرز کے ساتھ بحفاظت جڑا جا سکے۔

10 اپریل کو سان ڈیاگو کے ساحل پر جب 'انٹیگریٹی' کیپسول سمندر میں گرا، تو امریکی بحریہ کے جہاز 'یو ایس ایس جان پی مرتھا' کی مدد سے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ آرٹیمس 2 کی کامیابی نے اب آرٹیمس 3 کی راہ ہموار کر دی ہے، جس کا مقصد انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنا اور وہاں مستقل قیام کے لیے 'مون بیس' تعمیر کرنا ہے۔ جب انسان چاند پر مستقل رہائش اختیار کر لے گا، تو ہماری اپنی زمین کے بارے میں سوچ اور کائنات میں ہمارے مقام کا نظریہ کیسے بدل جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اب زیادہ دور نہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined