
تصویر بشکریہ آئی اے این ایس
ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا کہ ممکن ہے جنگ کے اختتام سے پہلے کوئی سمجھوتہ ہو جائے۔ امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ انہیں یقین ہے ایران اب مزید خطرہ نہیں بنے گا، اس لیے فوجی مداخلت جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔
Published: undefined
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کے بیان پر خاموشی اختیار کی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسرائیل اس جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص مدت طے نہیں کر سکتا۔ اسرائیل اب بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھتا ہے اور کسی فوری پسپائی کے حق میں نہیں۔
Published: undefined
ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ ایران نے مغربی ایشیا میں موجود امریکی کمپنیوں کو دھمکیاں کیوں دیں، تو انہوں نے طنزیہ انداز میں جواب دیا کہ ایران کے پاس اب اس طرح کے حملے کی سکت نہیں رہی۔ ان کے بقول، "ایرانی قیادت کے زیادہ تر لوگ یا تو مر چکے ہیں یا بے اثر ہو چکے ہیں۔"
Published: undefined
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا تھا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔ ان کے کئی قریبی رشتہ دار ، بشمول بیٹی، داماد، بہو اور نواسی ، بھی حملے میں مارے گئے۔ ایران کے متعدد اعلیٰ فوجی افسران بھی ان کارروائیوں میں جان سے گئے۔
Published: undefined
خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرّر کیا گیا، مگر اطلاعات کے مطابق وہ بھی ان حملوں میں زخمی ہوئے۔ ان کی موجودہ حالت اور مقام کے بارے میں ابھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی۔
Published: undefined
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ شاید امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کم کر کے داخلی سیاست پر توجہ دینا چاہتا ہے یا پھر ٹرمپ کی نئی چال ہے۔ تاہم، ایران کے مستقبل، اس کی نئی قیادت اور خطے میں طاقت کے توازن پر ابھی کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: اسکرین شاٹ