پریس ریلیز

سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کے انتقال پر انجمن ترقی اردو میں تعزیتی نشست کا انعقاد

محسنہ قدوائی ایک علم دوست شخصیت تھیں اور سبھی کے ساتھ بڑی خندہ پیشانی اور محبت سے پیش آتی تھیں۔ ان کے انتقال سے علمی اور سیاسی حلقوں میں جو خلا پیدا ہو گیا ہے، وہ تادیر پُر نہ ہو سکے گا۔

<div class="paragraphs"><p>محسنہ قدوائی کی فائل تصویر، سوشل میڈیا</p></div>

محسنہ قدوائی کی فائل تصویر، سوشل میڈیا

 

تصویر: ’ایکس‘ @OfficeOfSalman

نئی دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی کے صدر پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی ہمشیرہ اور سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کی بزرگ ترین رہنما محسنہ قدوائی کا 7 اپریل 2026 کی شب طویل علالت کے بعد نوئیڈا میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 94 برس تھی۔ ان کے انتقال سے ادبی اور سیاسی دنیا میں غم کا ماحول ہے۔

Published: undefined

محسنہ قدوائی ایک علم دوست شخصیت تھیں اور سبھی کے ساتھ بڑی خندہ پیشانی اور محبت سے پیش آتی تھیں۔ ان کے انتقال سے علمی اور سیاسی حلقوں میں جو خلا پیدا ہو گیا ہے، وہ تادیر پُر نہ ہو سکے گا۔ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود انجمن ترقی اردو (ہند) کے پروگراموں میں شرکت کرتی تھیں اور انجمن کے ترقیات اردو کے منصوں کو بہ نظر تحسین دیکھتی تھیں۔ ان خیالات کا اظہار ان کے انتقالِ پُرملال پر انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی میں منعقد تعزیتی نشست میں اطہر فاروقی (جنرل سکریٹری انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی) نے کیا۔

Published: undefined

اطہر فاروقی نے کہا کہ محسنہ قدوائی کے انتقال سے ہم ایک ایسے سرپرست سے محروم ہو گئے ہیں جن کے مشوروں سے ہمیں حوصلہ ملتا تھا اور انجمن کے کام کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کی ہمیں ترغیب ملتی تھی۔ اس موقعہ پر انجمن کے تمام اراکین نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ محسنہ قدوائی کی پیدائش یکم جنوری 1932 کو بارہ بنکی (اتر پردیش) کے ایک باوقار علمی خانوادے میں ہوئی تھی۔ ان کی شخصیت میں اودھی اور لکھنوی تہذیب رچی بسی تھی۔ وہ اعلیٰ انسانی اور اخلاقی اقدار کا عملی نمونہ تھیں۔ محسنہ قدوائی نے آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ اپنا سیاسی کیریئر شروع کیا تھا اور وہ ان کے ساتھ وزیر بھی رہیں۔ بعد میں انھیں راجیو گاندھی کابینہ میں بھی شامل کیا گیا۔ وہ 1977 سے 1989 تک لوک سبھا اور 2004 سے 2016 تک راجیہ سبھا کی رکن رہیں۔ وہ مرکزی حج کمیٹی کی چیئرپرسن بھی رہیں۔ چند برس پہلے ان کی سوانح عمری انگریزی، ہندی اور اردو تینوں زبانوں میں شائع ہوئی ہے، جسے معروف انگریزی صحافی رشید قدوائی نے ترتیب دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined