سیاست

سلمان خورشید برکس کی قرارداد سے مطمئن

کانگریس رہنما اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ برکس کی قرارداد  کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے اور اسے ایک اچھا اور متفقہ دستاویز قرار دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

 

کانگریس رہنما اور سابق وزیر خارجہ  سلمان خورشید نے برکس نئی دہلی اعلامیہ کی تمام قراردادوں کی منظوری کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے اسے ایک اچھا اور متفقہ دستاویز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "اچھی بات یہ ہے کہ کچھ انتہائی متنازعہ اور تصادم کے باوجود سب نے ایک متفقہ بیان کو قبول کیا ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔"

خورشید نے مزید کہاکہ’’برکس کی قرارداد جموں و کشمیر میں پہلگام واقعے اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ دہشت گردی سے پاک دنیا کا مطالبہ کرتی ہے۔ یقیناً اس مشترکہ بیان کے ایسے پہلو ہیں جنہیں بڑے اطمینان سے دیکھا جا سکتا ہے۔"

کانگریس رہنما سلمان خورشید  نے مزید کہا، ’’یہ غزہ کی حمایت کرتا ہے اور اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل پر زور دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مشترکہ بیان میں قومی اور بین الاقوامی مفاد کے بہت سے اہم نکات ہیں اس لیے کسی کو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے 12 ستمبر کوبرکس سربراہی اجلاس کے دوران دہلی اعلامیہ کو اپنانے کی تجویز پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ نئی دہلی اعلامیہ کی تجویز پیش کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، "کسی بھی رکن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ نئی دہلی اعلامیہ 2026 متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔"

وزیر اعظم مودی اور چینی صدر کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے بارے میں خورشید نے کہا، "دوطرفہ معاہدوں پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے، جیسا کہ ایس سی او کی پچھلی میٹنگ اور ڈووال کے دورہ چین اور چینی وزیر خارجہ کے ساتھ ان کی بات چیت سے ثبوت ملتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ان مسائل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔